شعور کی اعلیٰ منازل اور جذباتیت؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 13 / جون / 2021
- 8520
ہماری روایتی مذہبی سوسائٹی میں عقیدے کے حوالے سے جوش و خروش تو شدید ہے لیکن نالج یا تحقیق کے لحاظ سے نچلے درجے کی پستی ہے۔ شاید اس لئے کہ جوش و خروش کے لئے کسی نوع کی محنت یا جانفشانی کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ نالج یا تحقیق کے لئے مطالعہ یا مغز ماری کرنی پرتی ہے۔
مطالعہ یا مغز ماری کے بھی کئی درجات ہیں۔ ایک سطحی قسم کا مطالعہ ہوتا ہے، کوئی عامیانہ سی کتاب ہتھے چڑھ گئی یا محض اخباری سرخیوں ٹائپ چیزیں پڑھ لیں تو خود کو افلاطون یا ارسطو سمجھنا شروع کردیا ۔ پنجابی محاورہ ہے ’’پا نہ پڑھی تے وخت نوں پھڑی‘‘یا جیسے اردو میں کہا جاتا ہے کہ "نیم حکیم خطره جان، نیم ملأ خطره ایمان۔"
دیکھا یہ گیا ہے کہ تھوڑا یا سطحی مطالعہ کرنے والے لوگ ان پڑھوں سے زیادہ خطرناک اور سوسائٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ ان پڑھ بے چارے تو مانتے ہیں کہ وہ پڑھے لکھوں سے نیچے ہیں۔ اس سے ان میں ایک نوع کی عاجزی و انکساری آ جاتی ہے جبکہ نیم خواندہ خود کو تیس مار خان خیال کرتے ہوئے ان پڑھوں میں یوں ٹانگیں پھیلا کر بیٹھیں گے اور اس نوع کی گفتگو کرتے پائے جائیں گے کہ تم جاہلوں کو کیا پتہ ہو اس مسئلے کا، میں بتاتا ہوں فلاں واقعہ یا فلاں ہستی کا قصہ۔ اگر یہ لوگ کسی مذہبی ایشو پر گفتگو کریں گے تو اس تیقن کے ساتھ جیسےمعراج کی رات یہ کہیں آس پاس ہی کهڑے براق کو سنبهالے ہوۓ تهے۔ قصہ آدم اس یقین کے ساتھ سنا رہے ہوں گے کہ جب آدم کی کهنکهناتی مٹی گوندهی جا رہی تهی تو گویا موصوف کہیں الله میاں کے دائیں یا بائیں کهڑے ہوۓ تهے۔
یہ تو نیم خواندہ یا ذہنی پسماندہ لوگوں کی کہانی ہے اس سے ملتی جلتی اسٹوری ان لوگوں کی بھی ہے جو بظاہر ڈاکٹری یا پی ایچ ڈی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں لیکن حرام ہے جو اپنے شعبے سے متعلق بات کریں۔ مثال کے طور پر موصوف نے پی ایچ ڈی فزکس میں کر رکھی ہے لیکن بحث مباحثہ عمرانیات و ا لہیات میں کرتے پائے جائیں گے۔ اگر غلط بیانی پر ٹوکا جائے تو فوراً علم کا خمار دماغ سے ہونٹوں پر اتارتے ہوئے گویا ہوں گے میں پی ایچ ڈی ہوں کوئی عام بندہ نہیں ہوں۔ اگر کہا جائے مہاراج پی ایچ ڈی آپ میتھ یا کیمسٹری میں ہیں اور منہ ماری آپ ا لہیات میں کر رہے ہیں اس کا کیا جواز بنتا ہے؟ تو جواباً معلوم ہو گا کہ موصوف خود کو ہر شعبہ حیات کا علامہ خیال کرنے لگے ہیں۔
بہت سے ایسے کرم فرمابھی مل جاتے ہیں جن کی ذہنی سطح کو ملاحظہ کرتے ہوئے انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ نہ معلوم انہوں نے تحقیقی کام کب اور کیسے کیا ہے شاید پی ایچ ڈی بھی کسی لیاقت پر نہیں کسی عامر لیاقت کی چابک دستی، چالاکی یا الٹی سیدھی حیلہ سازی سے کی ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ شعوری نالج یا ذہانت ڈگریوں کی محتاج نہیں، کئی چٹے ان پڑھ ہوتے ہوئے ایسی زیرکی و دانائی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ انسان کا ڈگری ہولڈروں سے بابا اشفاق کی طرح یقین اٹھ جائے۔ لیکن نہیں، ہم سب کو علم کے ساتھ ساتھ صاحبان علم یا پڑھے لکھوں کی قدر کرنی چاہیے اور ان پڑھے لکھوں کو بھی چاہئے کہ خود کو اپنے متعلقہ شعبے کے ایکسپرٹ کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے ہر فن کے مولا کہلانے کا خبط ذہن سے نکال دیں۔ مت بھولیں کہ آپ کے اوپر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو آپ سے کہیں زیادہ جانفشانی و عرق ریزی کر چکے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں شہرت کو نالج سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر میڈیا میں زیادہ مواقع ملنے کی بدولت یا اپنے دیگر ذرائع اثر و رسوخ کی برکت سے اگر حضرت کی شہرت قومی سطح پر پھیل چکی ہے تو اب وہ ادھر ادھر کی بھی ہانکیں گے تو گویا علم کے موتی یا معرفت کے راز بکھیر رہے ہوں گے۔ اندر کی بات کهرچ کر لاتے دکهائی دیں گے. کمال ہے جی آنے والی نسلوں یا صدیوں کا تجزیہ حضرت نے کر دیا ہے، چاہے ساری شیخیاں اگلے دن ہی غلط ثابت ہو جائیں مگر موقع کی مناسبت سے محفل تو سرکار لوٹ چکے، کل کس نے دیکھا ہے اور کس کو یاد رہتا ہے۔ ایسے معززین کی چٹکلے سازی، فقرے بازی یا زبان درازی بھی نالج کی ایک قسم خیال کی جاتی ہے جس پر انہیں اتنا تفاخر ہوتا ہے کہ چاہے بندہ جائے فقرہ نہ جائے۔ دید لحاظ، مروت، تہذیب ان کی بلا سے۔
شکل شباہت، ڈیل ڈول، گیٹ اپ اور وضع قطع کا بظاہر نالج سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کا استعمال بارہا اتنی خوبصورتی سے کیا جاتا ہے کہ عین ممکن ہے دیکھنے والے جاہل کو عالم اور عالم کو جاہل خیال کرنے لگیں۔ اعلیٰ دماغ کے ساتھ ساتھ خوبصورت آواز یا دلفریب خدو خال کی اپنی اہمیت ہے۔ آپ کی ذہنی و دماغی صلاحیتوں کا علم بعد میں ہوگا لیکن آخر الذکر خصوصیات بالخصوص خدو خال کا امپکیٹ فوری ہوگا۔ کئی لوگ اپنی شکل و صورت یا اچھی ظاہری پرسنیلیٹی کا فوری فائدہ اٹھاتے یا اسے کیش کرواتے اکثر دیکھے گئے ہیں۔اس طرح کئی لوگ بظاہر بہت ہوشیار یا تیز طرار ہوتے ہیں مگر ذہین نہیں ہوتے۔ شعوری صلاحیت، ذہنی استعداد ، نالج یا وزڈم کے لحاظ سے بهی تین طرح کے کردار ہمیں سوسائٹی میں اکثر دیکهنے کو ملتے ہیں۔ اول، جتنی وذڈم یا نالج ان میں ہوتی ہے اتنی ہی وه اپنے مخاطبین کو پیش کرتے دکهائی دیتے ہیں۔ دوسرے وه ہوشیار لوگ ہوتے ہیں جن کر پریزنٹیشن اس سے کہیں زیاده ہوتی ہے جتنی بهیجے میں وه رکهتے ہیں۔ یعنی پیچهے بچا کچھ نہیں ہوتا۔ تیسرے وه اصل لوگ ہوتے ہیں جن کا ریزرو کهاتا اس سے کہیں زیاده ہوتا ہے جتنا کچھ وه پیش فرما رہے ہوتے ہیں۔
درویش کی نظروں میں یہ آخری وه جینوئن لوگ ہوتے ہیں جو کسی بهی رول میں نسلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کی دانائی صدیوں پر محیط ہوتی ہے۔ ہماری پوری سوسائٹی کو اس وقت جو مسئلہ درپیش ہے وه جوش و جنونیت کا ہے جبکہ ہمارے سماج کی ضرورت شعور و دانائی، وزڈم یا ایسے نالج کی ہے جس میں باریک بینی اور گہرائی ہو۔ جو واقعات و حقائق کو سطحی طور پر نہیں جڑوں تک دیکهے ، سمجهے اور تجزیہ کرے۔ جب تک یہ صورتحال پیدا نہیں ہو گی ہمارے ہیروز یا لیڈر نعرے باز اور مواقع پرست لوگ بنتے رہیں گے۔ جو ہر دو یا تین دہائیوں بعد اندهی جذباتیت کا ماحول پیدا کرتے ہوۓ اپنی لیڈری کا الو سیدها کریں گے لوگوں کو بیوقوف بنا کر اپنی بلے بلے کروائیں گے اور چلتے بنیں گے۔ یوں نتیجہ سواۓ عوامی استحصال کے اور کچھ نہیں نکلےگا۔
پوری دنیا میں جو نوبل پرائز حاصل کرتا ہے اسے اس کی قوم سرآنکھوں پر بٹھاتی ہے، اسے قومی ہیرو کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے کہ اس نے اقوام عالمِ میں ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ انسانیت کی خدمت کی ہے جبکہ اپنی حالت یہ ہے کہ بانیاں سے لے کر قائد عوام یا کهیل تماشے والے تک سب نے ڈگڈگی ہی بجائی، نوبل پرائز تو رہا ایک طرف کوئی اس قابل نہیں ہوا کہ جس کو عالمی سطح پر احترام، علمی وجاہت یا قدر و منزلت کی نظروں سے پہچانا جاتا ہو۔ اگر کوئی اتفاقی حادثے یا جدوجہد سے اس مرتبے پر پہنچا ہے کہ اقوام عالم اسے سر آنکھوں پر بٹھائیں تو ہماری بہری جذباتیت نے ان پر بھونکنا شروع کردیا ہے کیونکہ اس میں بھی ہمیں یہود وہنود یا صلیبیوں کی سازشیں دکھائی دیتی ہیں۔