اسرائیل کی نئی حکومت نے حلف اٹھا لیا
- سوموار 14 / جون / 2021
- 4350
اسرائیل کی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت سے نئی حکومت بنا لی ہے جس کے بعد وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی 12 برس سے جاری حکمرانی کے عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
اتوار کو پارلیمنٹ میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ووٹنگ ہوئی جس کے دوران حزبِ اختلاف کی آٹھ جماعتوں کے اتحاد نے 120 ارکان پر مشتمل ایوان میں 59 کے مقابلے میں 60 ووٹ حاصل کیے۔ پارلیمنٹ میں اکثریت ظاہر کرنے کے بعد قدامت پسند مذہبی جماعت کے سربراہ نفتالی بینیٹ یہودی حکومت کے نئے سربراہ بن گئے ہیں۔
آٹھ سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پانے والے حکومت سازی کے ایک غیر معمولی سمجھوتے کے تحت بینیٹ دو سال کے لیے وزیرِ اعظم ہوں گے جس کے بعد آئندہ دو برس کے لیے یائر لیپڈ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔ اختیارات میں شراکت کے سمجھوتے کا کوئی اور مقصد دکھائی نہیں دیتا سوائے اس بات کے کہ آٹھوں سیاسی جماعتیں نیتن یاہو کے ہنگامہ خیز عہد کا خاتمہ چاہتی تھیں۔
بینیٹ اسرائیل کے نئے وزیرِ اعظم تو بن گئے لیکن اتوار کو انہیں پارلیمنٹ میں شدید تلخ جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے پیش رو قدامت پسند قانون سازوں نے ان کے خلاف 'شرم کرو' اور 'جھوٹا' کے نعرے لگائے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد متعدد قانون سازوں کو ایوان سے باہر بھی نکالا گیا۔
طنزیہ جملے کسے جانے اور ناراضگی کے اظہار پر بینیٹ نے کہا کہ ''مجھے فخر ہے کہ ایوان میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ہم نے ذمہ داری سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔'' یاد رہے کہ بینیٹ نیتن یاہو کے ایک سابق اتحادی رہے ہیں جنہوں نے 2019 سے 2020 کے دوران ان کی حکومت کے وزیرِ دفاع کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق 71 سالہ نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اگر ہمیں اپوزیشن میں بیٹھنا ہے تو ہم حزبِ اختلاف کی نشستوں پر اس وقت تک بیٹھ کر کام جاری رکھیں گے جب تک اس خطرناک حکومت کو ختم کر کے دوبارہ ملک کی باگ ڈور نہ سنبھال لیں۔