پاکستان کے سماجی شعبہ کا انحطاط
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 14 / جون / 2021
- 5160
پاکستان کا سماجی شعبہ ہمیشہ سے ہماری مجموعی سیاسی، سماجی، معاشی او رانتظامی نوعیت کی پالیسیوں یا قانون سازی سمیت عملدرآمد کے نظام میں عدم ترجیحات کا حصہ رہا ہے۔ اگرچہ سیاسی یا غیر سیاسی حکومت ہو اس کے سیاسی نعروں میں عام آدمی اور اس سے جڑا سماجی شعبہ زیادہ ہم کو بالادست نظر آتا ہے۔ مگر جب عملی طور پر حکومتی توجہ،حکمت عملی یا عملی اقدامات پر نظر ڈالیں تو مجموعی طور پر سماجی شعبہ زیادہ نظرانداز نظر آتا ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں قومی سطح پر سماجی شعبہ کے تناظر میں عام آدمی یا کمزور یا محروم افراد کی محرومی کی سیاست زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ اسی طرح ہمارے سرکاری اعدادوشمار میں سماجی شعبہ کا انحطاط بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔سماجی شعبہ کا یہ بگاڑ یا انحطاط مجموعی طور پر معاشرے میں شہری اور رًیاست یا شہری یا حکومت کے درمیان زیادہ بداعتمادی کو پیدا کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔قومی ترجیحات یا اس کے جائزہ کے بعد ایک اہم پہلو بجٹ کی منصفانہ اور شفاف تقسیم بھی ہوتا ہے۔ بجٹ کی مجموعی سیاست سے ہم اس پہلو کا دیانت داری سے تجزیہ کرسکتے ہیں کہ اس میں سماجی شعبہ کی کیااہمیت ہے اور حکومتی ترجیحات کس حد تک ہم کو سماجی شعبہ میں شفافیت کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے مجموعی بجٹ چاہے وہ وفاق یا صوبائی سطح کے ہوں اس میں ہم کو بہت زیادہ عوامی ترجیحات یا عوامی اعتماد کا فقدان نظر آتا ہے۔18ویں ترمیم کے بعد عام آدمی کے تناظر میں وفاق سے زیادہ صوبائی سطح کے بجٹ کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ صوبائی بجٹ کی منصفانہ اور شفاف تقسیم اور عام آدمی تک ان وسائل کی رسائی سے ہی معاشرہ میں محرومی کی سیاست کا خاتمہ اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے عمل کو یقینی بنایاجاسکتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو عام آدمی ہے جس میں عورتیں، بچے، بچیاں،کسان، مزدور، اقلیتیں، خواجہ سرا، معاشی سطح پر کمزور مرد افراد کو کون سیاسی، سماجی، معاشی طاقت فراہم کرے گا۔ یقینی طو رپر یہ ذمہ داری ریاستی او رحکومتی سطح کی ہے او روہ ہی ہر فورم پر نہ صرف ذمہ دار ہے بلکہ ہر سطح پر جوابدہ بھی ہے۔سماجی شعبہ میں تعلیم، بنیادی صحت، ماحول، خوارک کا بحران، غربت، پس ماندگی،محرومی، وسائل کا نہ ہونا یا اس تک عدم رسائی، سماجی انصاف، تحفظ،عدم تحفظ، انصاف سے محرومی جیسے مسائل سرفہرست ہیں۔ اسی طرح معاشرے کی سطح پر ہمیں مجموعی سطح پر عام اور خاص شہریوں کی سطح پرسماجی تعلیم، آگاہی اور شعور کا فقدان غالب نظر آتا ہے۔عمومی طور پر وہ ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جو سماجی شعبہ کی سطح پر نہ صرف بڑی سیاسی او رمالی سرمایہ کاری کرتے ہیں بلکہ اپنے سماجی شعبہ سے جڑے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط او رمربوط بناتے ہیں۔
عام آدمی یا کمزور طبقہ جب بھی بجٹ کی سیاست کو دیکھتا ہے تو وہ اس سے عملی طو رپر ناخوش ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا عمومی تصور یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ اس بجٹ کی ترجیحات کا حصہ نہیں۔ وہ بجٹ کو طاقت ور طبقات کے مفادات سے جڑے ایک بڑے کھیل کے طو رپر دیکھتا ہے۔ حالانکہ سیاسی او رمنصفانہ بجٹ طاقت ور کے مقابلے میں کمزور افراد کو اپنی ترجیحات کی بنیاد بناتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ جو بھی عام آدمی کی سیاست کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بجٹ اور عام آدمی کے مفاد کے درمیان ایک بڑ ی سیاسی او رمعاشی خلیج دیکھنے کو ملتی ہے اور یہ ہی عمل فریقین کی سطح پر بداعتمادی بھی پیدا کرتا ہے۔آج کی دنیا میں جب عالمی سیاسی، معاشی، سماجی، قانونی ادارے مختلف ممالک کی مختلف شعبوں میں درجہ بندی کرتے ہیں یا ملکوں کے اعدادوشمار پیش کرتے ہیں تو اس میں سب سے اہم پہلو سماجی شعبہ کو ہی بنیاد بنا کر پرکھا جاتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم عالمی درجہ بندی میں سماجی شعبہ، بالخصوص عورتوں، لڑکیوں یا بچوں یا بچیوں کی سطح پر بہت کمزور درجہ بندی پر کھڑے ہیں جو ہماری عالمی جنگ ہنسائی کا سبب بھی بنتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان محروم او رکمزو ر طبقہ کی سیاست پر بہت زور دیتے ہیں۔ احسا س پروگرام، لنگر خانہ، مسافر خانہ،بلاسود قرضے، کم شرائط پر قرضوں کی فراہمی، صحت کارڈ، جیسے امو راہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سماجی شعبہ کی ترقی محض اس طرز کی تقسیم یا خاص طور پر لوگوں کی مالی مدد کرنے سے کم ہوگی۔صحت کارڈ اور احساس پروگرام واقعی اہمیت رکھتے ہیں او راگر یہ واقعی شفاف انداز میں آگے چلتا ہے تو یقینی طو رپر اچھے نتائج بھی دے گا۔ اسی طرح اس بجٹ میں وفاقی حکومت نے مختلف کمزور طبقات میں دو سے پانچ لاکھ تک کی سطح پر بلا سود قرضوں کی فراہمی کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیکن حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ جب تک وہ لوگوں کو ان کے پاؤں پر نہیں کھڑا کرے گی او ران کومحض بھکاری بنانے کی بجائے ان کو معاشی سطح پر خود مختار یا ان کو مچھلی کھلانے کی بجائے مچھلی پکڑنے کا طریقہ نہیں سمجھائے گی ان کا معاشی استحکام ممکن نہیں ہوسکے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری وفاقی، صوبائی پالیسیوں، قانون سازی او ربجٹ کی سیاست سمیت عملدرآمد کے نظام میں زیاد ہ سے زیادہ شفافیت بھی اور عام آدمی کا حصہ بھی نظر آئے۔
پاکستان نے پائیدار ترقی اہداف2015-30پر عالمی سطح پر ایک قومی منصوبے کی ضمانت دی ہے۔ اس میں عورتوں، بچے، بچیاں کی صحت اور تعلیم کو بنیاد بنا کر کئی شعبوں کو اپنی ترجیحات سے جوڑا ہے۔ہمارے سرکاری اعدادوشمار میں صنفی سطح پر بہت زیادہ فرق بھی ہے اور یہ بھی ہم کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ عورتیں یا لڑکیاں کہاں کھڑی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کی ترجیحات میں ہمیں پائیدا ر ترقی اہداف کی بالادستی نظر آتی ہے، یقینا اس میں کافی سنگین نوعیت کے مسائل ہیں۔ اسی طرح سے حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ جب تک وہ اس ملک کے چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کو 1973کے آئین کی شق140اے کے تحت ان اداروں کی تشکیل، تسلسل اور سیاسی، انتظامی او رمالی خودمختاری نہیں دیں گے سماجی شعبہ میں عالمی معیارکی ترقی ممکن نہیں۔ اسی طرح اسی نظام کو آئین کی شق 32کے تحت عورتوں، مزدوں، کسانوں، نوجوان اوراقلیتوں کے منتخب نمائندوں کو زیادہ بااختیار بنانا ہوگا۔حکومت یہ کام تن تنہا نہیں کرسکتی ا س کے لیے اسے اس ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط سول سوسائٹی اور دیہی و شہری سطح پر سماجی تنظیموں کی ضرورت ہے تاکہ حکومت او ریہ تنظیمیں مل کر مقامی سطح پر سماجی ترقی کے عمل کو مضبوط او رمربوط بناسکیں۔
اگلے چند دنوں میں چاروں صوبائی حکومت کے بجٹ آنے والے ہیں۔ حکمرانی کے بحران، عام افراد کی معاشی وسماجی ترقی اور لوگوں کے عملا روزمرہ مسائل کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے اور وہی 18ویں ترمیم کے بعد لوگوں کو جوابدہ ہے۔لیکن اس نے مقامی حکومتوں کے نظام کو بنیاد بنا کر اختیارات کی عدم تقسیم کا جو نظام قائم کیا ہوا ہے وہ ہی سماجی شعبہ میں ترقی نہ ہونے کا ایک اہم فیکٹر ہے۔لیکن دیکھنا ہوگا کہ آنے والے صوبائی بجٹ میں صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں عام آدمی اور اس سے جڑے مسائل، معاملا ت او ربالخصوص سماج شعبہ کی ترقی میں یہ صوبائی حکومتیں کہاں کھڑی ہوتی ہیں اور کس انداز سے یہ لوگوں کی جو جائز توقعات یا ان کے بنیادی حقوق کے معاملات ہیں اس میں کتنا شفاف کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے لیے ہمیں صوبائی حکومتوں پر سیاسی، سماجی اور قانونی دباؤ ڈالا ہوگاکہ وہ اپنی ترجیحات میں عام آدمی کوفوقیت دیں او راپنے نظام کو منصفانہ او رشفاف بنائیں، تاکہ لوگوں کا ریاست او رحکومت کے درمیان جو خلیج ہے وہ کم ہوسکے۔