اسلامو فوبیا وائرس

کوئی بھی بیماری خواہ وہ ذہنی ہو یا  جسمانی ، ہمارے اپنے روحانی یا طبعی عوارض کی بنا پر پھوٹتی پھیلتی اور وبائی شکل اختیار کرتی ہے ۔ اور یہ اسلاموفوبیا ایک جدید ذہنی بیماری ہے جس نے مذہب کے نام پر جہالت ، جنون اور دہشت گردی کی زمین میں اپنی جڑیں پکڑی ہیں  اور اُس کا سبب یہ ہے  کہ خود ہمیں اور ہمارے اردگرد کی دُنیا کو یہ معلوم نہیں  کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ کیا ہے ۔

 اور اس صورتِ حال کی ذمہ داری بنیادی طور پر مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے جو پندرہ صدیوں میں بھی مدینے کی ریاست کے اَخلاقی ، روحانی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو عالمِ اسلام میں رائج نہیں کرسکے ۔  کیا کوئی دانشور یا سیاسی فلسفی یہ بتا سکتا ہے کہ اس وقت کون سی مثالی اسلامی ریاست ہے جسے ہم دنیا کے سامنے ماڈل کے طور پر پیش کر کے کہہ سکیں کہ ہمارے دریاؤں کے کناروں پر کوئی کُتا بھی کسی  رات بھوکا نہیں سوتا  ۔ ہم تو اب تک کتابی اور خطابی اسلام کی چھتر چھاؤں میں سانسیں لے رہے ہیں اور ہمارے ہاں کے مروجہ اسلام نے جن مذہبی اقدار کو رواج دیا ہے وہ ساری کی ساری بالقول ہیں بالفعل نہیں ۔ اور قرآن حکیم کی تعلیمات کے مطابق اُن لوگوں کو  جو اسلامی قوانین پر سو فیصد عمل پیرا نہیں  ، یہ حق نہیں پہنچتا  کہ وہ جس بات پر عمل پیرا نہیں اُس کا ذکر زبان پر لائیں ۔ قرآنِ حکیم لماتقولون ما لاتفعلون کا حکم کا حکم دیتا  ہے ۔ چنانچہ وہ مسلمان جن کا طرزِ حیات رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت  کی پیروی کے برعکس ہے، وہ کس طرح اسلام کو اپنا دین قرار دیتے ہیں ؟

مسلمان ہوتے ہوئے ہمارا  یہ حال ہے ، جب کہ دنیا بھر کے دیگر مذاہب اور مسالک کے لوگ نہیں جانتے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے خدو خال کیا ہیں  حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں دنیا بھر کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور اُنہیں یہ بتانا اُمت وسط کا کام ہے اور وہ یہ کہ وہ رحمت اللعالمینی کے شرف کو اپنے صالحہ اعمال سے دنیا بھر میں تقسیم کریں جب کہ ہم نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ قدم بہ قدم چلنا سیکھا ہی نہیں ۔ ہمارا دین یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے نام محمد ، احمد ، حامد ، محمود اور یاسین  سے لے کر آقائے نامدار کے ننانوے ناموں سے چن کر رکھ لیتے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق مسلمانوں کے بچوں کی  غالب اکثریت کے نام محمد ہوتے ہیں جنہیں لوگ بگاڑ کر مہمت ، ممد ، ممدا ، ممدو اور مما تک کردیتے ہیں  لیکن المیہ یہ ہے کہ ان بچوں کو بڑے ہو کر ان ناموں کی تعظیم و تکریم کرنی نہیں آتی اور وہ اپنے بُرے اعمال سے ان پاکیزہ ناموں  کو پنجابی بیانیے کے مطابق لیک لگادیتے ہیں  یعنی آلودہ کردیتے ہیں ۔ وہ یوں کہ ان پاکیزہ ناموں کے تمغے سینے پر سجائے ہر ممکن جرم میں ملوث ہوجاتے ہیں : چوری، ڈاکہ ، منشیات کی سمگلنگ سے لے کر کم سن بچوں سے جنسی درندگی کے بعد اُن کے قتل  تک کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان جرائم کی فہرست طویل ہے۔

 مگر اصل سوال یہ ہے کہ جب پولیس رپٹ میں یہ لکھا جاتا ہے کہ مسمی محمد علی نے فلاں فلاں بھیانک جرم کیا ہے تو کیا اس وقت ان پاکیزہ ناموں کی شان میں گستاخی نہیں ہوتی؟ شاید ہمارے پاس اس بات کا شافی جواب نہ ہو کیونکہ ہم خود کو مسلمان قرار دے کر کرپشن ، منی لانڈرنگ ، رشوت ، ملاوٹ ، قتل ، زنا بالجبر اور جعلسازی کو اپنے لیے حلال کرلیتے ہیں اور اس ضمن میں شرعی فتویٰ بھی ضروری نہیں سمجھتے ۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ  کیا جن ناموں کی تختیاں ہم گلے میں لٹکائے پھرتے ہیں ، اُن پر ہمارے بد اعمال سےکیا  کوئی حرف نہیں آتا یا کوئی دھبہ نہیں لگتا؟  یہ ہماری غلط فہمی ہے ۔ ہم اپنے کرتوتوں سے اسلام کی تعلیمات کے پرزے اُڑاتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ جنت کی حوروں پر بھی ہمارا حق ہے تو یہ ہمارا پاگل پن ہے۔ اللہ نے واضح کردیا ہے کہ کسی نافرمان سے اُس کا کوئی وعدہ نہیں ہے ۔ اس عہد کے غیر مسلموں نے نبی صلی الہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں دیکھا ۔ وہ اُنہیں نہیں جانتے ۔ وہ تو ان لاکھوں مسلمانوں کو جانتے ہیں جن کے ماتھوں پر محمد لکھا ہے لیکن ان کے اعمال کی گٹھڑی میں نجاست بھری ہے ۔ اس عہد کے بیشتر مسلمانوں کی تعریف تو مولانا روم نے یوں کی ہے :

بر زباں تسبیح و در دل گاؤ خر

اس کیفیت  کو ہم اردو میں بغل میں چھری مونہہ میں رام رام کہ سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے جب مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکامات کی انتہائی بے شرمی سے  حکم عدولی  کرتے ہیں مثلاً رشوت لیتے دیتے ہیں ، اشیا میں ملاوٹ کرتے ہیں، غیبت ، چغلی اور بہتان تراشی کرتے ہیں تو کیا اُنہیں اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات یاد نہیں ہوتے ؟ نہیں اپنے نبیؐ کی حکم عدولی کرنا آج کے مسلمان کا روزمرہ ہے جو صرف گستاخی ہی نہیں بلکہ  محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے صریح غداری ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس کی محبت کی آپ قسمیں کھاتے ہوں اُس کی حکم عدولی کرنا آپ کے لیے جائز ہو ۔ یہی کیفیت ہمارے اور رب کے رشتے میں بھی ہے کہ ہم جو رب کو حاضر ناظر اور شہ رگ سے قریب سمجھتے ہیں ، اُس کے کے سامنے ہر طرح کی بے حیائی کرنے سے باز نہیں آتے ۔ در اصل ایسے لوگ اندھے ہوتے ہیں کیونکہ قرآنِ کریم نے صاف صاف  واضح کیا ہے کہ  اندھی آنکھیں نہیں ہوتیں دل ہوتے ہیں۔

 دیگر مذاہب کے لوگ اسلام کو ہمارے اعمال کے حوالے سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ ہماری کتب نہیں پڑھتے اور ویسے بھی اسلام اعمال میں ہوتا ہے کتابوں اور خطبوں میں نہیں ،  چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اُن کی رائے ہمارے غیر اسلامی اعمال پر تُف کی مہر ہوتی ہے اور جب تک مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر صدق دلی سے نہیں چلے گا تب تک اُس کے اپنے بد اعمال کی باز گشت سنائی دیتی رہے گی ۔ اور رہا محمد صلی اللہ کی شان میں گستاخی کا سوال تو وہ کوئی کر ہی نہیں سکتا کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی حفاظت رب العالمین کر رہے ہیں ۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے اعمال درست کر لیں ۔ جب ہمارے اعمال محمدی ہوگئے تو دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ کرے ۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہم سچ مُچ کے مسلمان بن جائیں تو ہمارے اعمال کو فرشتے بھی سجدہ کرتے نظر آئیں گے ۔ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ نبی کی شان میں گستاخیوں کا واویلا ہمارے اُن اعمال کا عکس ہے جو ہم کرتے چلے آرہے ہیں ۔ اور جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا تقاضا ہے اُس کے بارے میں یہی کافی ہے کہ :

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب

ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبی ست