قومی اسمبلی کا اجلاس میں وزیر خارجہ اور حکومتی ارکان کی ہنگامہ آرائی

  • منگل 15 / جون / 2021
  • 4970

اسپیکر کو قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اس وقت ایک روز کے لئے ملتوی کرنا پڑا جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں حکومتی ارکان اسمبلی نے ہنگامہ آرائی کی اور اصرار کیا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کو تقریر نہیں کرنے دیں گے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی بار بار درخواست کے باوجود شاہ محمود قریشی اور دیگر سرکاری ارکان نے خاموش ہونے سے انکار کردیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں بولنے کا موقع دیا جائے جبکہ اسپیکر بجٹ پر بحث کا آغاز کرنے کے لئے قاعدے کے مطابق اپوزیشن لیدر کو مائیک دے چکے تھے۔ سرکاری ارکان کا مطالبہ تھا کہ وہ اس وقت تک شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو تقریر نہیں کرنے دیں گے جب تک اپوزیشن تحریری ضمانت جمع نہ کروائے کہ وزیر اعظم کی تقریر کو خاموشی سے سنا جائے گا۔

مسلسل شور اور ہنگامہ کے بعد اسپیکر نے بیس منٹ کے لئے اجلاس ملتوی کردیا۔ تاہم تین گھنٹے تک اجلاس شروع نہیں ہوسکا۔ اس دوران سرکاری و اپوزیشن ارکان کے درمیان بجٹ سیشن کے طریقہ کار پر بحث ہوتی رہی لیکن کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن حکومتی ارکان کا یہ مطالبہ ماننے پر آمادہ نہیں تھی کہ وہ وزیر اعظم کی تقریر کے حوالے سے تحریری ضمانت دے۔ اس کے بعد اسپیکر نے اجلاس ایک روز کے لئے ملتوی کردیا۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار کیس حکمران جماعت کی ہنگالہ آرائی کی وجہ سے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنا پڑا ہے۔ عام طور سے سرکاری پارٹی اطمینان کا مظاہرہ کرتی ہے۔ تاکہ اسمبلی کی کارروائی میں خلل واقع نہ ہو۔

اجلاس ملتوی ہونے سے پہلے شہباز شریف نے اپنی بجٹ تقریر کا  آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر غریب کی جیب خالی ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ بجٹ میں کوئی کمی ہے۔