حج کے لیے خواتین کو محرم کی ضرورت نہیں ہوگی: سعودی عرب

  • منگل 15 / جون / 2021
  • 7990

سعودی عرب کی وزارتِ حج نے رواں برس فریضہ حج کی خواہش مند خواتین کو مرد سرپرست کے بغیر رجسٹریشن کی اجازت دی ہے۔

سعودی وزارتِ حج کی جانب سے ایک ٹوئٹ پوسٹ میں رواں برس حج کے لیے رجسٹریشن سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو مدِنظر رکھتے ہوئے رواں برس صرف 60 ہزار افراد حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے۔ بیرونِ ممالک سے رواں برس عازمین کو آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

وزارتِ حج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جو لوگ حج کے خواہش مند ہیں وہ اپنے آپ کو رجسٹر کروائیں۔ خواتین بغیر محرم یعنی مرد سرپرست کے بغیر، دیگر خواتین کے ساتھ خود کو رجسٹر کروا سکتی ہیں۔ وزارتِ حج نے مزید بتایا ہے کہ رواں برس 18 سے 65 سال تک کی عمر کے افراد حج کے لیے خود کو رجسٹر کروانے کے اہل ہوں گے۔

کورونا وائرس کی صورتِ حال کے پیش نظر حج کے لیے رجسٹرڈ کروانے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ انہیں کورونا ویکسین لگ چکی ہو۔ اس کے علاوہ انہیں کوئی دائمی بیماری نہ ہو۔ سعودی حکام نے حج رجسٹریشن سے متعلق واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے شہریوں اور ان افراد کے لیے رجسٹریشن دستیاب ہو گی جنہوں نے گزشتہ پانچ سال میں حج ادا نہ کیا ہو۔

سعودی عرب میں حج کی ادائیگی کے لیے ہر سال 20 لاکھ کے لگ بھگ مسلمان آتے ہیں لیکن کرونا وبا کی وجہ سے عازمین کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔ گزشتہ برس بھی محدود تعداد میں عازمین نے حج کا فریضہ ادا کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی قانون میں ایک ترمیم کی گئی تھی جس کے تحت خواتین کو اپنے والد یا مرد سرپرست کی اجازت کے بغیر کہیں بھی تنہا سکونت اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔  اس مقصد کے لیے سعودی حکام نے شریعہ عدالت کے ضابطہ کار کے آرٹیکل 169 کے اس پیراگراف کو حذف کر دیا ہے جس کے تحت ایک بالغ تنہا، طلاق یافتہ یا بیوہ عورت کو اس کے والد یا مرد سرپرست کی ذمہ داری قرار دیا گیا تھا۔

ترمیمی قانون میں لکھا گیا ہے کہ ہر سعودی بالغ عورت کو اپنی مرضی سے کہیں بھی تنہا رہنے کا حق حاصل ہے اور اس کا سرپرست اس کی شکایت تب ہی کر سکے گا جب وہ کسی جرم کی مرتکب پائی جائے گی۔