بجٹ رے بجٹ تیری کون سی کل سیدھی

وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ برائے2021-2022کا اعلان کر دیا ہے جس کی عملی صورت قومی اسمبلی سے فنانس بل پاس ہونے کے بعد سامنے آئےگی ۔بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک کورونا کی وجہ سے کساد بازاری کے باوجود یہ متوازن بجٹ ہے اور معیشت کی بحالی کیلئے صحیح شعبوں کو منتخب کرکے درست اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

اور ان کو پیداواری کروتھ سے نتھی کر دیا گیا ہے۔جس سے چھوٹے اور درمیانہ درجہ کی صنعتیں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے برآمدات میں اضافہ کریں گی ۔ہمارا زراعت کا شعبہ زوال پذیرہے ۔ ٹیکسٹائل کیلئے بنیادی خام مل کی پیداوار13 ملین سے کم ہوکر 6.5 ملین رہ گئی ہے ۔ ملوں کو چالو رکھنے کیلئے دوارب ڈالر کی کپاس درآمد کرنی پڑے گی ۔کہنے کو تو چاولوں اور گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے پھر بھی گندم درآمد کی جارہی ہے ۔وزیر خزانہ کے بقول ہم اشیائے خوراک کی کمی سے دوچار ہیں۔اس سال حکومت نے 3.9% جی ڈی پی گروتھ حاصل کی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک . آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مطابق یہ 1.5 % اور 3% کے درمیان رہنے کا امکان تھا۔ اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ جی ڈی پی میں اضافہ ہوگیا ۔

حکومتی حلقے اس کو ترسیلات زر، صعنتی ترقی ، برآمدات کے اضافہ اور تعمیراتی  کاموں میں ایمبیسٹی کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کے ابھار اور موٹر سائیکلوں اور کاروں کی فروخت سے جوڑتے ہیں جن کا عام آدمی کی زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔  ان کا تعلق آٹے، گھی ، چینیی، تیل اور یوٹیلٹی بلز سے ہے جن کے نرخ تین سالوں میں دگنے ہوگئے ہیں ۔فوڈ انفلیشن سے مزید دوکروڑ لوگ سطح غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔بےروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں بڑھوتی نہیں ہوئی ہے محض 10% اضافہ پر ٹرخا دیا گیاہے ۔حکومت نے گندم کی سپورٹ پرائس کو 1800 روپے فی من کر دیاہے جس سے کسانوں کو 1200 ارب روپے کا فائدہ ہواہے مگر اس کے ساتھ کھاد، بیج اور ادویات بھی مہنگی ہوگئی ہیں۔ اور آٹے کے مہنگا ہونے سے تمام اشیائے خوردنی کی قیمتوں پراثر پڑتا ہے ۔

  وزیر خزانہ نے گردشی قرضوں کو بٹرا چیلنج قرار دیاہے۔اس کی وجوہات بجلی کی ترسیل کے تکنیکی نقصانات ، بجلی کے بلوں کی کم وصولی ، سبسڈی کی وقت پر عدم ادائیگی اور بجلی کی غیر استعمال شدہ کیپسٹی چارجز جوکہ 455 ارب روپے ہیں اور 40 % حکومتی پلانٹس کو پےمنٹ سے گردشی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں صنعتکاری کے عمل کے فروغ سے بجلی کی فالتوپیداوار کو کھپایا جاسکتاہے اس طرح گردشی قرضہ کو کنٹرول کرنے میں 6سے 7 سال لگ سکتے ہیں۔

دوسرا بڑا چیلنج خسارے میں چلنے والے حکومتی ادارے ہیں جس کی وجہ انتظامی نااہلی اور سٹافنگ اور مشینری کی بیلسنگ، ماڈرن لائزیشن اور تبدیلی نہ ہوناہے ۔شوکت ترین نے کہا کہ  ان اداروں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بناکر لیز پر دیا یا فروخت کیا جاسکتا ہے۔ان اداروں کی نجکاری کیلئے 3سال کیلئے پرائیویٹ سیکڑ کمیٹی تجویزدی ہے لیکن نجکاری کا حتمی اختیار نجکاری بورڈ کو ہوگا۔شاید یہ معاملہ آنے والی حکومت پر ڈال دیا جائے ۔

  ایسےحالات میں 8487 ارب روپے کے بجٹ میں آمدنی کا جو ہد ف رکھا گیا ہے اس میں یہ واضح نہیں کہ  1230 ارب کی اضافی آمدنی کہاں سے آئے گی ۔۔ خواہشات پر مبنی900 ارب کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے جبکہ اس مالی سال میں اس مد پر200 ارب سے زیادہ خرچ نہیں کیا گیا ہے - آئندہ سال فصلوں پر بلاسود قرضے دیے جائیں ۔ ہیلتھ کارڈ اور نوجوانوں کوکاروبار کیلئے قرضے دیے جائیں گے۔کئی شعبوں میں سبسڈیز کے ذریعہ ریلیف دیا جائے گا ۔کئی شعبوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی ہے ۔اسٹاک ایکسچینج کے کاروبار پر کیپیٹل گین ٹیکس ختم کر دیا گیاہے ۔صنعتوں کو ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ دی گئی ہے۔مینو فیکچرنگ انڈسٹری ،برآمد کنندگان ،آٹو ، موبائل ،آئی ٹی انڈسڑی کو مراعات دی گئی ہیں ۔

یہ تمام شعبے ہمیشہ رعائیتوں کے طلب گار  رہے ہیں۔ حاصل کئے ہوئے ریلیف کو کبھی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سےعوام کو ریلیف نہیں دیاہے بلکہ اس کو اپنے منافع کا حصہ بنالیاہے۔ ہمارے تاجر کاروبار نہیں دکانداری کرتے ہیں جس کا مقصد اپنی دولت میں اضافہ کرناہے ۔کروڑوں کی سیل کے باوجود ٹیکس نیٹ ورک میں آنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ شوکت ترین نے صارفین کو انعامی سکیم کے ذریعہ تر غیب دی ہے کہ  سے رجسڑڈ اداروں سے خریداری کرکے پکا بل حاصل کریں ۔سابقہ چیئرمین شبر زیدی کے بقول ہر دکان اور مال سے سمگل شدہ مصنوعات دستیاب ہیں جوکہ سمگلنگ کے زمرہ میں آتاہے مگر حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے اربوں کی کسٹم ڈیوٹی کی وصولی کا نقصان اور مقامی صنعتوں کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے ۔۔ آئندہ سال اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے بجلی ، تیل اور اشیائے خوردنی کی قئمتیں نہیں بڑھیں گی۔

 پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن نیولبرل اکانومی کی حامی ہیں جس میں قیمتوں کے تعین کا اختیار منڈی کی قوتوں کو ہوتاہے۔ مگر ترقی یافتی ممالک میں منافع کمانےاور کاروبار کی کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں ۔ہمارا کاروباری طبقہ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے ذریعہ دولت بڑھاتا، بڑی بڑی گاڑیاں اور جائیدادیں بناتاہے مگر ٹیکس دینے کو تیار نہیں ہے۔ ملکی سرکولیشن میں کرنسی کا 26%بینکوں میں ہے باقی تجوریوں میں جمع ہے ۔ کاروباری طبقات صنعتکاری کے عمل میں شریک ہونے کو تیار نہیں اس لئے غیر پیداواری ان رجسڑڈ سرگمیوں سے کالا دھن کمایا جارہا ہے۔ اس طرح ہم دوبئی کاروبار ماڈل کو فالو کررہے مگر وہاں پر کاروباری ادارے اور افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ دسرا صنعتکاری سے ویلوایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کے ذریعہ جی ڈی پی بڑھانے کا رول ماڈل ہے جس میں ملازمتوں کے مواقع بڑھتے ہیں ۔ اس میں نجی سرمایہ کاروں کو آگے آنا اور حکومت کو جدید تکنیک سے لیس انسانی سرمایہ تشکیل دینا ہو گا۔

بینکوں کو بھی چھو ٹے قرضہ جات دینے کیلئے سٹاف کو تیار کر نا ہوگا۔ یہ یاد رہے کہ ہمارے نجی بینکاروں کے ڈائیریکٹرز ہیں وہ پبلک منی کی اپنی مرضی سے سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔ کوئی بھی وزیرخزا نہ بجتوں کی شرح جی ڈی پی کے 15% کئے بغیر 10% گروتھ کا تصور نہیں کرسکتا ہے۔ اس اعداو وشمار کے گورکھ دھندے میں ترقی کا کوئی تصور نہیں جا سکتا ۔ یہاں موجودہ اشرافیہ نواز پالیسیوں سے کسی صنعتی ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے انقلاب کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ہم چین کے تعاون سے سڑکوں اور ریلوے لائن کی تعمیر سے وسط ایشا ئی ریاستوں، چین اور دیگر ریاستوں کی مدد سے محصولات کی وصولی سے راہداری کی معیشت بن سکتے ہیں جس کیلئے افغانستان میں امن کا قیام ضروری ہے۔

کسان اور آڑھتیوں کے تعلق کو توڑنے کیلئے گودام اور حکومتی خریداری کا انتظام کی ضروت ہے۔ تاکہ کسان کو اجناس کے اچھے دام مل سکیں۔ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کیا سمجھوتہ کیا ہے،  اس کی حتمی شکل فنانس بل کی منظوری کے بعدآئے گی۔ یہ بجٹ تمام طبقات کو خوش کرنے کی کوشش ہے مگر زیادہ سود مند سرمایہ داروں اور جا گیر داروں کیلئے ہے۔