قومی ترقی اور اصلاحات کا ایجنڈا
- تحریر سلمان عابد
- منگل 15 / جون / 2021
- 4760
دنیا میں سیاست اور جمہوریت کی کامیابی کا بڑا حصہ اصلاحات کے نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ جمہوریت میں انقلاب کی بجائے اصلاحات کی مدد سے تبدیلی کا عمل آگے بڑھتا ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوری نظام سے جڑے حکمران طبقہ یا اس کے دیگر فریقین کی بڑی توجہ کا مرکز اصلاحات کا منصفانہ اور شفاف ایجنڈا ہوتا ہے۔پاکستان میں حکمرانی کا نظام اپنی افادیت کھوچکا ہے۔ عام آدمی کے علاہ معاشرے کے خواص بھی حکمرانی کے نظام کو چیلنج کرتے ہیں۔ یہ نظام اصلاحات کے تناظر میں ایک بڑی تبدیلی چاہتا ہے۔ کیونکہ جس روائتی، فرسودہ اور پرانے خیالات کی بنیاد پر ہم حکمرانی کا نظام چلارہے ہیں وہ نہ تو بہتر نتائج دے سکتا ہے او رنہ ہی یہ نظام لوگوں میں اپنی سیاسی ساکھ قائم کرسکے گا۔ ہمیں اپنے حکمرانی کے نظام کے شفافیت کے لیے ایک بڑے سیاسی ایجنڈے یا اصلاحات پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔لیکن اس کے لیے بڑا مسئلہ ریاستی وحکومتی سطح پر ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کا نہ ہونا بھی ہے۔ مسائل کی نوعیت کافی سنگین ہے او رمسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم ترجیحی بنیادوں پانچ بڑی ترجیحات کا تعین کریں جہاں ہمیں اصلاحات کے تناظر میں ایک بڑے اقدام کی ضرورت ہے تو اس کی درجہ بندی کچھ یوں کی جاسکتی ہے۔
٭عدالتی، پولیس، تفتیش کے تناظر میں شفاف انصاف کا موثر نظام
٭بیوروکریسی کی سطح پر جدید تبدیلیاں او ران کو عوامی مفاد کے ساتھ جوڑنا
٭سیاسی اصلاحات جن میں انتخابی، سیاسی جماعتوں کی سطح پر اور حکمرانی کے نظام میں شفافیت کو پیدا کرنے کے لیے ایک مضبوط او رمربوط مقامی حکومتوں کا نظام جہاں اختیارات کی تقسیم کا عمل شفاف ہو
٭تعلیم اور صحت میں بڑی سرمایہ کاری اورایمرجنسی کا اعلان
٭افراد کے مقابلے میں اداروں کی مضبوطی اور لوگوں کو قانون کی حکمرانی کے تابع کرنا
وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے ان ہی اصلاحات پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی بات کرتے تھے۔ ان کے بقول جب بھی وہ اقتدار کی سیاست کا حصہ بنے توو ہ روائتی سیاست کے مقابلے میں اصلاحات کو بنیاد بنا کر ایک بڑی تبدیلی کی طرف بڑھیں گے۔لیکن اگر عمران خان حکومت کے پہلے تین برسوں کو دیکھیں تو وہ اپنی خواہش کے باوجود ان اہم اصلاحات پر کوئی بڑی تبدیلی پیدا نہیں کرسکے۔ حالانکہ وزیر اعظم عمران خان پولیس او رمقامی حکومتوں کو اپنی بڑی ترجیح کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔اصلاحاتی ایجنڈ ا کو طاقت نہ ملنے کی چار بڑی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اول اقتدار کی سیاست میں حکمران طبقہ کی ترجیحات میں جب طاقت کا کھیل اہم ہوجاتا ہے تو حکومتی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ دوئم اصلاحات کے لیے جو دو تہائی اکثریت حکومت کو درکار ہے اس کی عدم موجودگی اور خاص طور پر اتحادیوں کی بنیاد پر قائم کمزور حکومت بڑی تبدیلی میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ سوئم حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جاری سیاسی محاز آرائی، بداعتمادی، الزام تراشی کی سیاست،پارلیمنٹ کا موثر نہ ہونا، باہمی تعاون کے عدم امکانات، مشاورت کا نہ ہونا جیسے امور درپیش ہیں۔چہارم حکومت کے مقابلے میں مختلف طاقت کے اداروں میں وہ عناصر جو تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں یا وہ ایک بڑے مافیا کی شکل اختیار کرگئے ہیں سے نمٹنا مشکل بن گیا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ ہم سیاست، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، اداروں کی بالادستی پر زور تو بہت دیتے ہیں لیکن عملی طور پر جو کچھ اس تناظر میں کرنا چاہیے اس کی ہر سطح پر نفی کرتے ہیں۔اگر حکومت اصلاحاتی ایجنڈے کو بنیاد بنا کر کچھ نہیں کرسکتی او را س کے لیے محض جواز در جواز پیش کرتی رہے تو اس سے اس کی اپنی اہمیت اور ساکھ بھی کمزور ہوتی ہے۔وزیر اعظم عمران خان مسائل تو خوب شدت سے پیش کرتے ہیں مگر اس کے عمل میں جو رکاوٹیں ہیں یا وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کو کرنے کا ایجنڈا کیا ہونا چاہیے، اس کی نفی بھی نظر آتی ہے۔ ریاست او رحکومت کا جو بھی نظام ہے وہ محض ایک ردعمل کی سیاست کے طور پر نہیں چلایا جاسکتا۔ ہمیں جز وقتی،وسط مدتی،طویل مدتی بنیادوں پر ایک بڑے سیاسی روڈ میپ کی ضرورت ہے۔ یہ روڈ میپ یقینی طور پر ایک بڑی قومی مشاورت کی بنیاد پر سامنے آسکتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ اپنی افادیت کھوچکی ہے۔ جو کام پارلیمنٹ کاہونا چاہیے اسے ہم نے غیر ضروری کاموں یا محاذ آرائی کے کھیل کا حصہ بنا کر غیر اہم کردیا ہے۔
ملک میں پڑھے لکھے علمی و فکری افراد یا اداروں نے علمی سطح پر مختلف شعبوں میں شفاف اور موثر اصلاحات کے تناظر میں اہم کام بھی کیے ہیں اور ان کی ٹھوس تجاویز بھی موجود ہیں۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ ”بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا“۔ ہر ادارہ دوسرے ادارے کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے لیکن اپنے اداروں کا جائزہ لینے یا اس کا خود احتسابی کا نظام قائم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آپ عام آدمی سے ان کی مشکلات کا جائز ہ لیں تو وہ اپنے بنیادی حقوق کی عدم فراہمی پر نالاں نظر آتا ہے۔بدقسمتی سے یہاں حکومت او رحزب اختلاف کا کردار باہمی تعاون کو پیدا کرنے کے مقابلے میں ایک دوسرے کو نیچے گرانا، عدم تعاون،سیاسی وجود کو تسلیم نہ کرنا یا غیر ضروری مباحث یا شخصیتوں کے ٹکراؤ میں الجھ کر رہ گیا ہے۔حکومت یا ریاستی نظام پر دباؤ بڑھانے کے لیے عمومی طور پر سول سوسائٹی او رمیڈیا یا سیاسی جماعتیں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن یہ تینوں ادارے بہت کمزور پوزیشن پر کھڑے ہیں اور ان کی توجہ کا مرکز اصلاحات سے زیادہ طاقت کے مراکز میں اپنی سیاسی طاقت کو تسلیم کروانا او رکچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر اپنے معاملات طے کرنا رہ گیا ہے۔
یہ بات سمجھنی ہوگی کہ محض قانون یا پالیسی بنانا اہم نہیں ہوتا بلکہ اس کے عملدرآمد کا ادارہ جاتی نظام یا میکنزم کی تشکیل، نگرانی کا نظام اور اس نظام میں جوابدہی پیدا کرنااہم ہوتا ہے۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں پالیسیوں اور قانون سازی کی بہتات ہے اور ہم پہلے سے موجود قوانین کے مقابلے میں قوانین در قوانین بنالیتے ہیں۔ ایک کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم عالمی سطح پر کچھ اصلاحات کی مدد سے اپنی تصویر کو بہتر بنا کر پیش کرتے ہیں۔جبکہ عملی طور پر ہماری قومی تصویر میں کئی نمایاں دھبے ہوتے ہیں جن کو دور کرنے کی بجائے ہم معاملات کو مزید خراب کرنے کا کھیل کھیلتے ہیں۔اس لیے محض اداروں پر تنقید کرنا یا ان کی تضحیک کرنا اہم نہیں ہوتا بلکہ سیاست کے تانے بانے ان اداروں یا سیاست سے جڑی ان اصلاحات پر ہونا چاہیے۔
ہمیں اجتماعی طور پر مسئلہ کا حل بننا چاہیے نہ کہ ہم مسئلہ کے بگاڑکے حصہ دار بن جائیں اور یہ سوچ آگے بڑھے کہ ہم مسئلہ کا حل نہیں چاہتے۔ ہمیں اس نتیجے پر پہنچنا چاہیے کہ جو بحران ہے وہ کیونکر ہے او رکیسے اس بحران سے اجتماعی طور پر نمٹا جاسکتا ہے۔اصولی طور پر وزیر اعظم کی طاقت پارلیمنٹ ہوتی ہے۔ وہ پارلیمنٹ میں آنے بجائے باہر کے معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ وہ اگر اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کریں اور وہاں جو بھی تبدیلی اگر لانا چاہتے ہیں یا اس میں جو بھی اہم رکاوٹیں یا چیلنجز ہیں ان کو سب کے سامنے پیش کیا جائے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا سیاسی، انتظامی، قانونی او رمالیاتی نظام نہ صرف عملا ایک روائتی جکڑ بندی کا شکار ہے بلکہ اپنی اہمیت کھورہا ہے۔ اگر ہم نے واقعی آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اپنے غیر معمولی حالات میں کچھ غیر معمولی اقدامات کی طرف ہی توجہ دینی ہوگی او رہر شعبہ کی قیادت کو باہمی مشاورت سے اعتماد میں لینا ہوگا۔ بڑی اصلاحات کا عمل ہمیشہ بہت سے لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ اس روائتی نظام ان کے مفاد جڑے ہوتے ہیں،لیکن ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ سے ان فریقین کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جو تبدیلی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔