شہباز شریف کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں تیسرے روز بھی بد نظمی

  • بدھ 16 / جون / 2021
  • 5090

اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مسلسل تیسرے روز بجٹ پر اپنی نامکمل تقریر شروع کی جو ایک مرتبہ پھر مکمل نہ ہوسکی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سارجنٹ ایٹ آرمز کے حصار میں تقریر شروع کی لیکن اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس ملتوی کردیا۔ شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسپیکر صاحب آپ نے قانون کے مطابق ایوان کو چلانا ہے مگر کل عمران خان نیازی کے حکم پر جو گالی گلوچ کی گئی، روایات کی دھجیاں اڑائی گئی، بدزبانی کی گئی اور ایسے الفاظ ادا کیے گئے جو کہ زبان پر لانا مشکل ہے۔ آپ کا فرض تھا کہ اس ایوان کے سربراہ کی حیثیت سے آپ اس طوفان بدتمیزی کو روکتے جو عمران خان نیازی کے حکم پر ہوا اور آپ کا یہ فرض تھا کہ اس ایوان کے تقدس کو ہر صورت برقرار رکھتے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت اور اپوزیشن کا یہ فیصلہ تھا کہ اگر یہاں پر پرامن طریقے سے اپوزیشن کی تقاریر کو سنا جائے گا تو ہم بھی تعاون کریں گے اور قائد ایوان کی تقریر کو امن سے سنتے لیکن دو دن گزر گئے نہ صرف اس ہاؤس کے اندر گالی گلوچ ہوئی جس کو آپ نے نہیں روکا۔ جس طرح یہاں بدزبانی ہکی گئی اس کو آپ نے نہیں روکا اور آج بھی وہی دھینگا مشتی جاری ہے، کل کو اگر قائد ایوان آئے اور اپوزیشن نے اس بات کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی توقع میں اور آپ رکھتے ہیں، تو پھر مجھ سے آپ گلہ نہ کریں۔

اس موقع پر اسپیکر نے کہا کہ  ایوان کے تقدس  کو برقرار رکھا جائے گا۔ ہنگامہ آرائی جس طرف سے بھی ہوئی اسے روکا جائے گا۔  قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپ کی بے بسی پر افسوس ہے۔ اسی دوران اسپیکر نے کارروائی روکی اور کہا کہ جس کسی نے بھی یہ غلط چیز پھینکی ہے اس کے خلاف کارروائی کروں گا اور اجلاس کو کل تک ملتوی کرتا ہوں۔

اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ایوان اس طرح نہیں چل سکتا جب تک حکومت اور اپوزیشن مل کر معاملات طے نہیں کرتے اس وقت تک ایوان کو نہیں چلاؤں گا۔ اسی کے ساتھ اسپیکر نے اجلاس کو تسیرے روز بھی قائد حزب اختلاف کی تقریر مکمل ہوئے بغیر ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔

قبل ازیں اسپیکر نے کل کے واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تین اراکین سمیت 7 ارکان پر اسمبلی میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہوں نے اپوزیش لیڈر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو سے رابطہ کیا اور یقین دلایا کہ وہ غیرپارلیمانی رویے کا مظاہرہ کرنے والے اراکین کے خلاف کارروائی کریں گے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اسد قصر نے بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف سے پارلیمان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھوس ویڈیو ثبوتوں کی روشنی میں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی بجٹ تقریر کے دوران حکومتی اراکین اور وزرا کی جانب سے شور شرابا کیا گیا تھا۔ اپوزیشن نے بھی اس میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف ن مناسب زبان اور بجٹ کی کاپیاں پھینکنے سمیت شور شرابے کے باعث اسپیکر کو متعدد مرتبہ اجلاس میں وقفہ لینا پڑا۔