غزہ پر اسرائیل کی پھر بمباری، جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی

  • بدھ 16 / جون / 2021
  • 5080

اسرائیلی طیاروں نے بدھ کی صبح غزہ میں پھر فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں سے آتش گیر غبارے چھوڑے گئے تھے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شدت پسند گروپ حماس کے ٹھکانوں پر کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد فریقین مصر کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر متفق ہوئے تھے جس کے بعد بدھ کی صبح اسرائیل کی یہ پہلی کارروائی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس فضائی کارروائی کا ہدف حماس کے شدت پسندوں کی وہ تنصیبات تھیں جہاں مبینہ حملوں کی منصوبہ سازی کے لیے ملاقاتیں جاری تھیں۔  اسرائیلی فوج نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ غزہ سے شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی اسی شدت پسند گروہ کی کارستانی ہوتی ہے۔ فوری طور پر ہلاک و زخمی ہونے والوں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب منگل کو سینکڑوں اسرائیلی قدامت پسند قوم پرستوں نے مشرقی یروشلم میں مارچ کیا۔ مارچ سے قبل حماس نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی قوم پرستوں نے مشرقی یروشلم میں مارچ کیا تو وہ اس پر ردِعمل دیں گے۔  شیڈول کے مطابق یہودیوں نے مشرقی یروشلم میں مارچ کیا اور دمشق گیٹ کے سامنے جمع ہوئے۔

ہر برس اسرائیلی قدامت پسند 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں مشرقی یروشلم کی فتح کی خوشی میں مارچ کرتے ہیں جب کہ فلسطینی اسے ایک اشتعال انگیزی کہتے ہیں۔  اطلاعات کے مطابق مارچ کے دوران چند شرکا نے 'عربوں کی موت' کے نعرے لگائے۔ جوابی کارروائی کے طور پر غزہ کے فلسطینیوں نے آتشیں غبارے چھوڑے جو جنوبی اسرائیل میں کم از کم 10 مقامات پر آگ لگنے کا موجب بنے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے موقع پر ریلی نکالنا اسرائیل کی نئی حکومت کے علاوہ جنگ بندی کے کمزور معاہدے کا بھی امتحان تھا۔ حماس نے فلسطینیوں پر زور دیا تھا کہ مارچ نکالنے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ یائر لیپڈ نے ایک ٹوئٹر پوسٹ میں مارچ کے شرکا کے رویے سے متعلق کہا کہ وہ افراد جو نسل پرستانہ نعرے بلند کر رہے تھے ''اسرائیلی عوام کے لیے باعث شرم ہیں۔"