جامعہ نعیمیہ میں : علمائے اہلسنت سے گزارشات

کورونا نے عرصہ دراز سے سماجی روابط بڑی حد تک کاٹ رکھے ہیں مگر اب بہتری کے کچھ آثار پیدا ہوئے ہیں۔

اس طرح 12جون کو فیضان خالد کے اصرار پر لبرل ہیومن فورم کے فنکشن میں شرکت کی اور 13جون کو ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب کی دعوت اور پیر ضیاالحق نقشبندی صاحب کی بھرپور محبت پر جامعہ نعیمیہ میں منعقدہ ’’شہید پاکستان سیمینار‘‘ میں جناب احسن اقبال کے ہمراہ شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس پر نئی نسل کے کچھ دوستوں کو حیرت ہوئی ہے کہ ایک لبرل سیکولر شخص خالص دینی اجتماع میں کیوں جا پہنچا۔ کچھ نے بذریعہ میسجز اور فون کالز استفسار کیا ہے کہ یہ ڈرامیٹک چینج کیا کوئی نئی کایا پلٹ ہے یا کسی نوع کی مجبوری ؟

ان احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ ڈرامائی تبدیلی ہے نہ کایا پلٹ اور نہ کوئی مجبوری ۔

دراصل اس دینی پروگرام میں شرکت کی تین وجوہ تھیں۔ اول درویش کا نو عمری سے یہ وژن رہا ہے کہ مسلمانی اور غیر مسلمانی کے بیچ موجود گہری کھائی یا تفاوت کو جتنا جلد ممکن ہو ختم ہونا چاہئے ۔ جو شخص مسلم اور نان مسلم کے باہمی فاصلوں کو مٹا دینا چاہتا ہو کیسے ممکن ہے کہ وہ راسخ العقیدہ اور لبرل مسلمان کے درمیان کھڑی کی گئی دیواروں کو توڑنا نہ چاہے؟ جہاں انسانیت کی بات آئے گی وہاں ہم سب ایک ہوں گے۔ دوئم نئی نسل کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ سیکولر اور صوفی کی دیواریں ہی سانجھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ مخصوص پوائنٹ پر آکر دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ بقول اقبال مذہبی تجربہ جب اپنی بلندیوں کو چھوتا ہےتو سیکولر ازم میں ڈھل جاتا ہے۔ بلکہ جامعہ میں جب اس نوع کی بات ہوئی تو نقشبندی صاحب نےہماری تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’’سچا صوفی تو ہوتا ہی سیکولر ہے ‘‘۔

سوئم علامہ راغب نعیمی صاحب کے والد محترم ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کی خودکش حملے میں جس طرح شہادت ہوئی اس کا پس منظر جاننے والا کوئی بھی شخص ڈاکٹر صاحب کی عظمت اور قربانی کے سامنے سرنگوں ہو جائے گا۔ خودکش حملوں کے غیر شرعی ہونے پر فتاویٰ تو کئی لوگوں نے جاری کئے مگر جو استقامت ڈاکٹر صاحب  نے دکھائی اس نے انہیں امر کردیا۔ یہاں موقع کی مناسبت سے علمائے اہلسنت و الجماعت کے سیمینار میں کی گئی اپنی تقریر کا خلاصہ پیش خدمت ہے:

”جناب احسن اقبال صاحب، جناب علامہ راغب نعیمی صاحب، جناب پیر اشرف رسول صاحب، جناب پیر ضیاءالحق نقشبندی صاحب، جملہ علمائے اہلسنت اور حاضرین کرام ناچیز کیلئے جامعہ نعیمیہ میں حاضری کسی سعادت سے کم نہیں ہے۔ ذاتی طور پر میرا اس معزز فیملی سے تعلق تین نسلوں پر محیط ہے۔ یہ 1985کی بات ہے جب سید اسعد گیلانی صاحب، نواز شریف صاحب کے بالمقابل الیکشن لڑ رہےتھے۔ درویش کی سید صاحب سے وابستگی اتنی قریبی تھی کہ جیسے فیملی ممبر ہو۔  پوری انتخابی مہم میں ان کے ہمراہ رہا۔ ایک دن انہوں نے ناچیز کو محترم مفتی محمد حسین نعیمی صاحب کی خدمت عالیہ میں بھیجا یہ کہتے ہوئے کہ آپ ایک دینی شخصیت ہیں اس ناتے آپ کو دینی شخصیت کا ساتھ دینا چاہئے ۔

مجھے یاد نہیں کہ ٹائم لے کر گیا یا اس کے بغیر مگر یہ اچھی طرح یاد ہے کہ یہ نشست مفتی صاحب کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی ۔ سرخ و سپید رنگت، دودھ جیسی سفید گھنی داڑھی اور سر کے بال۔ اسی طرح کے اجلے سفید کرتے پاجامے میں ملبوس ، مفتی محمد حسین نعیمی فرشتوں جیسے معصوم انسان لگے۔ واقعی ان کی شخصیت سحرانگیز تھی، بولے ’’بیٹا! اسعد گیلانی صاحب میرے لئے قابل احترام ہیں۔ بھائیوں کی طرح ہیں۔ میں آپ کی اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ کسی بھی دینی شخص کو اپنے طبقے کا ساتھ دینا چاہئے مگر آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارا اور میاں نواز شریف کی فیملی کا کتنا قریبی تعلق ہے۔ ہمارا یہ جو ادارہ ہے اس میں سب سے زیادہ معاونت انہی کی ہے۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ان کے بالمقال کسی بھی اور شخصیت کا ساتھ دیں‘‘۔

اندر سے میرے اپنے احساسات بھی کچھ اس نوعیت کے تھے جن کا اظہار میں نے سید اسعد گیلانی صاحب کے سامنے بھی کیا تھا ۔’’شاہ جی آپ کو قومی اسمبلی میں ضرور پہنچنا چاہئے لیکن میں یہ ہر گز نہیں چاہتا کہ نواز شریف کو شکست ہو ‘‘۔ میری یہ آرزو اس طرح پوری ہوئی کہ نواز شریف نے وزیر اعلیٰ بننا تھا اس لئے الیکشن جیتنے کے بعد انہوں نے اپنی قومی اسمبلی والی سیٹ چھوڑ دی اور ضمنی انتخاب میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا جس سے سید اسعد گیلانی ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔

ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب سے کئی ملاقاتیں ہوئیں جامعہ کے آفس میں ان کے کئی انٹرویوز کئے۔ان کا ایک انٹرویو میری کتاب ’’جہاد یا دہشت گردی ؟‘‘ میں شامل ہے جس میں انہوں نے جہاد اور دہشت گردی کے فرق کو واضح کرتے ہوئے جہاد کی شرائط پر بحث کی ہے اور یہ استدلال کیا ہے کہ ہمارا دین حالت جنگ میں بھی کسی زیادتی کی اجازت نہیں دیتا ۔ بچوں، بوڑھوں یا عورتوں پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں۔ فصلوں اور درختوں کے کاٹنے سے منع کرتا ہے۔ انہوں نے صلح حدیبیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہی اصل فتح تھی جسے قرآن نے فتح مبین قرار دیا ہے اور اسی جذبے کی ہمیں ضرورت ہے ۔ سچی بات ہے انہیں جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس سے آج بھی ہمارےدل دکھی ہیں۔ ہمارا یہ زخم آج بھی ہرا ہے ۔ آج ہمارا تعلق ان کے وارث ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب سے ہے جو اپنے والد محترم اور اپنے دادا کا مشن لےکر آگے بڑھ رہے ہیں خداوند انہیں استقامت نصیب فرمائے ۔

میرا یہ ایمان ہے کہ اگر دنیا میں امن و سلامتی کا ماحول پیدا کرنا ہے تو اس کی وہی راہ ہے جو ہمارے عظیم صوفیائے کرام نے اختیار کی۔ ناچیز کا تعلق اگرچہ ایک سنی بریلوی کنبے سے تھا مگر وہ دیوبندی ہوگیا پھر وہابی ہو گیا، اس کے بعد مولانا مودودی کے زیر اثر مودودیہ رہا۔ شیعہ بھائیوں کے ساتھ شیعہ بھی رہا غامدی صاحب کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی سے بھی تعلق رہا جو احسن اقبال صاحب کے خالو تھے ۔ تمام فرقوں میں رہنے کے بعد تصوف یا صوفی ازم کی طرف لوٹ آیا اور پھر بابا بلھے شاہ سرکار کا مرید ہو گیا۔ آج یہ یقین رکھتا ہے کہ اگر آج ہم دنیا میں امن و آشتی کے خواستگار ہیں تو پھر ہمیں وہی راہ اپنانا ہو گی جو ہمارے عظیم صوفیائے کرام نے اختیار فرمائی۔

یہ حضرت نظام الدین اولیاؒ، خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتیؒ، بابا فرید ؒ، حضرت داتا گنج بخش ؒ،حضرت مادھو لعل حسین سرکار ؒ کی راہ ہے۔ اے علمائے اہلسنت! آپ ان عظیم صوفیاء کے وارث ہیں آپ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے وارث ہیں جو ہندوؤں کے ساتھ اظہار اپنائیت کیلئے ان کی ہولی اور دیوالی میں شریک ہوا کرتے تھے ۔آج اس خطے میں، ہندوستان اور پاکستان میں، جو کروڑوں مسلمان ہیں ان سب کے اجداد عربستان سے تو یہاں نہیں آئے تھے۔ یہ صوفیاء کا پیغام محبت تھا جس نے غیر مسلموں کے دلوں کو موہ لیا تھا ۔ اے علمائے اہلسنت! مجھے آپ سے ایک شکایت ہے کچھ عرصہ ہوا آپ کے اندر سے کچھ ایسی نفرت کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، قتل وخونریزی کی آوازیں، یہ عظیم صوفیائے کرام اور اہلسنت و الجماعت کا وتیرہ ہرگز نہیں رہا ہے۔ ہمارےآقا ؐ کی شان میں کس کو شک ہے ان کی عظمت سورج چاند سے بڑی اور بلند ہے اب اگر کوئی سورج چاند پر تھوکنے کی کوشش کرتا ہے تواس سے ان کی عظمت پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن وہ تھوک اس کے اپنے منہ پر آتا ہے۔ آپ اس چیز کو کیوں نہیں سمجھتے ہیں؟

ہمارے آقاؐ نے تو اپنے دشمنوں کو، گہنگاروں کو بھی سینے سے لگایا تھا اگر آپ انسانوں سے نفرت کی باتیں کریں گے تو انہیں اپنے قریب کیسے لا سکیں گے؟ جو ناسمجھ ہیں آپ انہیں سمجھائیں گنہگاروں کو قریب لائیں۔ یہی ہمارے آقا ؐ کا اور ہمارے صوفیاء کا طریق دعوت رہا ہے اور اسی سوچ سے دنیاامن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔