زلفی بخاری کا استعفی قبول نہیں کیا گیا: غلام سرور

  • جمعہ 18 / جون / 2021
  • 4410

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری کا استعفی قبول نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقات ختم ہونے پر وہ وفاقی کابینہ میں دوبارہ شامل ہوجائیں گے۔ ڈان نیوز ٹی وی کے شو 'عادل شاہ زیب کے ساتھ براہ راست' میں گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور نے کہا کہ زلمی بخاری کا اس اسکینڈل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔  وہ جوان ہیں لہذا وہ قدرے جذباتی ہوگئے اور انہوں نے استعفیٰ پیش کردیا۔ غلام سرور نے کہا کہ ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا گیا تھا۔

وقاقی وزیر نے مزید کہا کہ سابق معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری سے تفتیش نہیں کی جارہی ہے۔ سرکاری افسران کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں جنہوں نے روڈ کے منصوبے میں تبدیلی کی۔ کسی سیاسی شخصیت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ جب انکوائری ختم ہوجائے گی اور زلفی بخاری تمام الزامات سے بری ہوجائیں گے تو وہ دوبارہ معاون خصوصی ہوں گے۔  وزیر اعظم پہلے دن سے ہی مطمئن ہیں کہ ان کا اس اسکینڈل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مجھے اس معاملے سے سیاسی لگاؤ ہے کیونکہ یہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔

غلام سرور نے کہا کہ یہ منصوبہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی بھی ایک اہم ضرورت ہے، انکوائری کرانے کی ضرورت ہے تاکہ ذمہ داروں کا احتساب کیا جاسکے۔ انہوں نے بدھ کے روز وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران یہ نکتہ اٹھایا تھا۔  غلام سرور نے دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ جلد ہی مربوط حکمت عملی کے ساتھ شروع اور وقت پر مکمل ہوگا۔