کابل ایئرپورٹ کی حفاظت ترکی کے حوالے کی جائے گی

  • جمعہ 18 / جون / 2021
  • 5250

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نےکہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ترک صدر رجب طیب اردوان میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ کابل ایئر پورٹ کو محفوظ بنانے کا اہم کام ترکی کے حوالے ہو گا۔

امریکی اور ترک صدور کے درمیان اس بات پر اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا جاری ہے۔ جیک سلیوان نے بتایا کہ دونوں سربراہان ترکی کی جانب سے ایس 400 قسم کے روسی ساختہ دفاعی نظام کی خریداری کے طویل مدتی معاملے کا تصفیہ نہیں کر پائے۔

ان کے بقول یہ ایک تلخ تنازع ہے جس کے باعث نیٹو ارکان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور اس معاملے پر مکالمہ جاری رہے گا۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے صحافیوں کو بتایا کہ بائیڈن اور اردوان کی ملاقات پیر کو نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران ہوئی جس میں افغانستان کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔

سلیوان نے کہا کہ کابل ایئر پورٹ کے تحفظ کے سلسلے میں اردوان نے مختلف قسم کی امریکی حمایت کے حصول کی بات کی اور بائیڈن نے حمایت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ دونوں سربراہان کی جانب سے اس عزم کے اظہار سے یہ بات طے ہے کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے تحفظ کے سلسلے میں ترکی قائدانہ کردار ادا کرے گا اور اس وقت ہم یہ طے کر رہے ہیں کہ اس ہدف کو کس طرح حاصل کیا جائے۔

اس معاملے پر ترک صدارتی اہلکاروں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جب کہ ملاقات میں ہونے والی اس بات چیت سے متعلق امریکہ کی جانب سے مذکورہ تفصیل پیش کی گئی ہے۔ دوسری جانب ترکی اور امریکہ کے مؤقف میں کئی ایک امور پر سخت اختلافِ رائے ہے جن میں ترکی کی جانب سے روسی ہتھیار خریدنے کے ساتھ ساتھ شام اور مشرقی بحیرہ روم کے معاملات پر شامل ہیں۔

دونوں صدور کی ملاقات سے متعلق کہا جا رہا تھا کہ اردوان اور بائیڈن کی ملاقات کے نتیجے میں کسی پیش رفت کا نہ ہونے کے برابر امکان ہے۔ تاہم ملاقات کے بعد دونوں سربراہان نے خوش گوار تاثر دیا۔ حالاں کہ انہوں نے کسی ٹھوس پیش رفت کا اعلان نہیں کیا۔ ممکنہ تعاون افغانستان کے معاملے پر ہو سکتا ہے جہاں آئندہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور نیٹو افواج کا انخلا جاری رہے گا جس دوران ترکی نے کابل ایئرپورٹ کی حفاظت اور آمد و رفت جاری رکھنے کا کام سنبھالنے کی پیش کش کی ہے۔

گزشتہ ہفتے طالبان کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ امریکی افواج کے انخلا سے متعلق 2020 کے معاہدے کی رو سے ترکی کو افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنی ہوں گی۔  لیکن جیک سلیوان نے کہا کہ طالبان کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے مرتب کردہ سیکیورٹی کے 'تفصیلی اور مؤثر' منصوبے کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں ہو گا۔

ان کے بقول طالبان یا افغانستان کے دیگر عناصر کی جانب سے ہم مغربی یا بین الاقوامی افواج پر حملے کی دھمکی کو سنجیدگی اور قابل تشویش معاملہ خیال کرتے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ جو کچھ طالبان نے  کہا ہے اس کے نتیجے میں ہمارے سیکیورٹی قائم کرنے کے منصوبے کے لیے کوئی دشواری پیش آ سکتی ہے۔