نئی سرد جنگ اور ہم
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 19 / جون / 2021
- 5360
بظاہر دو مختلف خبریں تھیں مگر ان میں سے ایک کا ہم سے نزدیک اور دوسری کا دور کا واسطہ ہے۔ پہلی خبر کو اسکرین پر جگہ ہی نہ مل سکی کہ پارلیمنٹ میں جاری جمہور تماشا اس قدر سنسنی خیز تھا کہ کسی اور جلوے کی جگہ بنتی ہی نہ تھی۔
البتہ دائیں بائیں کچھ ٹاک شوز میں نئے وزیر خزانہ نے رواروی میں یہ خبر سنا دی کہ آئی ایم ایف کا جاری جائزہ مشن مکمل نہیں ہوا۔ اب یہ جائزہ چند ماہ دوبار متوقع ہے۔ یہ خبر یوں اہم ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں تعطل آیا تو جس بجٹ پر اس قدر ہنگامہ برپا ہوا، اس بجٹ کی بنیاد جن امکانات اور توقعات پر رکھی گئی ان پر عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر سرمایہ کار اداروں کی طرف سے سوالیہ نشان کھڑا ہونے اور سرخ بتی کے جلنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔
دوسری خبر: کووڈ 19 کے بعد گزشتہ ہفتے دنیا کے امیر ترین ممالک جی سیون کا پہلا روبرو سربراہ اجلاس ہوا، اس کے فوراٌ بعد دفاعی اتحاد نیٹو کا بھی سربراہ اجلاس ہوا۔ ان اجلاسوں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ امریکی صدر جو بائیڈن پہلی بار صدارت سنبھالنے کے بعد شریک ہوئے۔ دوسری خاص بات لگ بھگ چار سالوں کے وقفے میں امریکہ کی پوزیشن اور انداز بالکل بدلا ہوا تھا۔ امریکہ کی عالمی پالیسی میں کئی دِہائیوں سے چین کے سیاسی اور فوجی اثر و نفوذ کو روکنے کی حکمت عملی بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہے؛ جسے عموماٌ چین کے گھیراؤ کی پالیسی سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت مدت سے اس خطے میں بھارت کو چین کے متوازی معاشی اور فوجی قوت کے طور پر کھڑے کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ دوسری جانب ساؤتھ چائنا سمندری حدود میں چین کا گھیرا تنگ کرنے کے لئے جاپان، کوریا سمیت دیگر اتحادیوں کے ذریعے عملی طور پر چین کے بحری پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کوششیں جاری رہیں۔ چھوٹے موٹے تصادم اور ہٹو بچو جیسے اقدامات سے فضا مسلسل کشیدہ رہی۔
چین نے بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تجارتی اور سیاسی کشیدگی میں ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ امریکی حلقوں کا خیال تھا کہ چین شاید بوکھلا کر مذاکرات کی میز پر ٌ اچھا بچہ ٌ بن کر کچھ لو اور کچھ دو کا رویہ اپنائے گا مگر جو ہوا ا س کے برعکس ہوا۔ کرونا وبا کے بعد پہلی بار جی سیون ممالک کے سربراہان روبرو بیٹھے۔ اس اجلاس میں صدر بائیڈن نے سب ممالک کو چین کے سیاسی، تجارتی اور معاشی خطرات کے پیچ و خم بتلا کر انہیں یکسو ہوکر چین کے خلاف کمر بستہ ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ کچھ حد تک وہ کامیاب بھی ہوئے کہ اجلاس کے اعلامیے میں چین پر منظم انداز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بیلٹ روڈ منصوبے کی صورت میں اپنے اثرو نفوذ کر بڑھانے کے عمل کو سنگین خطرہ قرار دیا۔
جی سیون کے اجلاس کے فوراٌ بعد نیٹو سربراہ اجلاس کا حاصل کلام بھی یہی تھا کہ چین سے مغربی ممالک کے جمہوری اور انسانی حقوق کی اقدار کو خطرہ ہے، اس لئے اب کمر باندھ کر اس خطرے سے نمٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ حسبِ توقع چین کی طرف سے شدید ردِّ عمل آیا۔ چین کے بقول چین کو خواہ مخواہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ عالمی معیشت میں چین کی حیرت انگیز ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی میں حیران کن پیش رفت، تجارت اور سفارتی میدان میں چین کے عروج کے پیشِ نظر پچھلے دس پندرہ سالوں سے ماہرین اس منظر نامے کی پیش گوئی کر رہے تھے کہ کوئی دن جاتا ہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہوگا، سنگاپور کے معروف سفارت کار اور اب یونی ورسٹی پروفیسر کشور محبوبانی نے دو تین کتابیں بھی اسی موضوع پر لکھیں اور تسلسل سے اس موضوع پر اظہار خیال کیا ہے کہ امریکہ دنیا کی نمبر ون پوزیشن کھو دینے کے بعد کیسا رویہ اختیار کرے گا۔ ان کے بقول امریکی سفارت کار اور لیڈرز اس سوال کا جواب دینے میں طرح جاتے ہیں۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک اس حقیقت کا ادراک کرنے اور سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس ٌ ہونی ٌ کو روکنے کے لئے وہ کیا کریں گے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔
چین پر ریسرچ اور اکیڈمک کام کرنے والے ایک اور معروف ماہر پروفیسر جان میر شائمر کے بقول آج تک کسی نئی سپر پاور کا ظہور پر امن انداز میں نہیں ہوا۔ پرانی طاقت اپنا سنگھاسن چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتی اور نئی طاقت سنگھاسن کے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی۔ پچھلی صدی کی سرد جنگ نظریات اور برتری کی سوچی سمجھی مہم جوئی تھی، حالات گواہی دے رہے ہیں کہ اس صدی میں ٹیکنالوجی اور معاشی برتری کی سرد جنگ کی مہم جوئی ناں ناں کرتے شروع ہو چکی۔ پاکستان کے لئے یہ سرد جنگ کئی مشکلات اور امکانات کا پیش خیمہ ہے۔ ایک جانب ملکی معیشت، تجارت اور مالیات کا زیادہ تر دارومدار یورپ، امریکہ اور ان کے زیرِ تسلط مالیاتی اداروں آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر پر ہے تو دوسری جانب چین کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعلقات سے ملک کی نیشنل سیکیورٹی کا گہرا تعلق ہے۔ دور کیا جانا، آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر ملکی معیشت کا خسارہ اسے مسلسل دیوالئے کی منڈیر پر اٹکائے ہوئے۔ ترقیاتی اخراجات تو کیا حکومت کے جاری اخراجات کے لئے بھی قرضوں پر انحصار ہے۔
نیشنل اسمبلی میں گالم گلوچ اور توتکار اپنی جگہ مگر پچھلے تیس پینتیس سالوں کے دوران معیشت اس قدر نڈھال اور کھوکھلی ہو چکی ہے کہ خسارے پورے کرنے اور پچھلے قرضے ادا کرنے کے لئے نئے قرضے لینے کی مجبوری ٌ رسمِ جفا ٌ ٹھہری، ہم تم کیا، سبھی اس خرابے کے ساجھے دار ہیں، کوئی زیادہ کوئی کم۔ ایسے میں ایک نئی سرد جنگ بہت جلد ملک کو اس دوراہے پر لا کھڑی کر سکتی ہے جہاں ہمارے ساتھ ہو تو ٹھیک ورنہ۔۔
Either you are with us or against us
کا ایک اور دوراہا دامن گیر ہو اسکتا ہے، ہاں اگر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں تو پھر آزادانہ فیصلے اور انتخاب ممکن ہو سکتا ہے