ایران میں قدامت پسند ابراہیم رئیسی صدر منتخب ہوگئے

  • اتوار 20 / جون / 2021
  • 5820

ایران میں جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق عدلیہ کے سربراہ اور قدامت پسند امیدوار ابراہیم رئیسی کو فریقین پر واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ارنا' کے مطابق نائب وزیرِ داخلہ اور الیکشن آفس کے سربراہ جمال عرف نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کی صبح گیارہ بجے تک دو کروڑ 86 لاکھ ووٹوں کی گنتی کی گئی جن کے مطابق رئیسی کو ایک کروڑ 78 لاکھ ووٹ ملے ہیں۔ الیکشن آفس کے مطابق ابتدائی نتائج میں صدارتی امیدوار محسن رضائی 33 لاکھ ووٹ، عبد الناصر ہمتی 24 لاکھ اور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی 10 لاکھ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ابھی حتمی نتائج آنا باقی ہیں محسن رضائی، عبد الاناصر ہمتی اور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی کی طرف سے بھیجے گئے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں ابراہیم رئیسی کو فتح پر مبارک باد دی گئی ہے۔ محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ وطن کی سلامتی اور حفاظت کے لیے کوئی کوششیں جاری رکھے گی۔

دوسری جانب ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جلد ہی انتظامیہ نئی حکومت کے سپرد کر دی جائے گی۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایران کے صدارتی انتخابات میں منتخب ہونے والے ابراہیم رئیسی کو فتح پر مبارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

ایران میں جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حکام کی طرف سے ووٹنگ کے مقررہ وقت میں دو گھنٹوں کی توسیع کے باوجود ووٹر ٹرن آؤٹ کم دیکھا گیا۔ حکام کی طرف سے ووٹنگ کے لیے مقررہ وقت کو جمعے کی رات بارہ بجے سے بڑھا کر رات دو بجے تک کر دیا گیا۔ تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ووٹنگ کے عمل میں حصہ لے سکیں۔

وزارتِ داخلہ کی طرف سے ووٹر ٹرن آؤٹ سے متعلق سرکاری طور پر کوئی اندازے پیش نہیں کیے گئے۔ تاہم ایران کی نیم سرکاری ایجنسی ‘فارس’ کی رپورٹ کے مطابق مقامی وقت ساڑھے سات بجے تک 5 کروڑ 90 لاکھ اہل ووٹرز میں سے 37 فی صد ووٹرز نے  حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

مبصرین کے مطابق ووٹرز کی اکثریت اپنے حکمرانوں سے نالاں ہے جو کہ امریکی پابندیوں کی شکار معیشت، طویل وبا اور بد عنوانی سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر ہونے والے جائزوں میں انتخابات سے پہلے ہی 40 فی صد سے کم ووٹر ٹرن آؤٹ کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ جو کہ ایران میں 1979 بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی انقلاب کے بعد صدارتی انتخابات میں ریکارڈ کم ٹرن آؤٹ ہے۔

اس سے قبل 1993 میں ہونے والے انتخابات میں کم ترین ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جو کہ 50 فی صد تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی ایران سے کی جانے والی پوسٹوں میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے والے مناظر میں ووٹرز لائنوں کے کلوز اپس دکھائے گئے اور کچھ مقامات پر دیکھا گیا کہ سیاسی شخصیات لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

ایران کی گارڈین کونسل کی طرف سے رئیسی اور دیگر چھ امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے دیگر خواہش مندوں کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے سات میں سے تین امیدوار رواں ہفتے بدھ کو مقابلے سے دست بردار ہو گئے تھے جن میں سے دو امیدوار قبراہیم رئیسی کی طرح انتہائی قدامت پرست جب کہ دو قدرے اعتدال پسند تھے۔ ایران کے انتخابی نظام کے مطابق اگر کوئی ایک امیدوار اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو ایک ہفتے بعد رن آف انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔

ایران میں نئے صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب پر اسرائیل کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس پر گہری تشویش ہونی چاہیے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان لیئر حیت نے کہا ہے کہ ابراہیم رئیسی ایران کے اب تک کے سب سے زیادہ بنیاد پرست صدر ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ نئے رہنما ایران کی جوہری سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔