معاشی مفادات بجٹ اور عام لوگوں کے

مرکز  اور صوبوں کے بجٹ آچکے ہیں۔ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی وہ اپنے بجٹ کو عوامی بجٹ یا عوامی توقعات کے عین مطابق کہتی ہے اور ان کے بقو ل عام آدمی کی معاشی مشکلات کو بنیاد بنا کر ہی ہم نے حکومتی سطح پر اپنی معاشی ترجیحات کا تعین کیا ہے۔

 اس کے باوجود  مرکز یا صوبائی حکومتوں کے بجٹ یا اس سے جڑی معاشی پالیسیوں  پر عوامی ریلیف کے تناظر میں لوگوں میں بداعتمادی پائی جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بجٹ اور عوامی توقعات یا خواہشات کے درمیان ہمیشہ سے ایک واضح خلیج رہی ہے۔ بجٹ کی بنیاد سالانہ معاشی  پالیسیوں پر  ہوتی ہے۔لیکن کمال یہ ہے کہ یہاں منی بجٹ کے نام پر ہونے والی سیاست نے قومی یا صوبائی بجٹ کی اہمیت کو بڑھانے کی بجائے اور زیادہ کم کردیا ہے۔لوگوں کو لگتا ہے کہ بجٹ ایک طاقت ور طبقہ کا کھیل ہے او راس میں عام آدمی کی حیثیت بہت کمزور ہے۔

بجٹ کی  سب سے اہم خوبی معاشرے میں موجود کمزور طبقات کی  معیشت کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہی سیاست  کی کامیابی کی کنجی بھی ہے اور ریاست و شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط بھی بناتی ہے۔اس وقت عام آدمی کی سطح پر دیکھیں تو ہمیں ان کے تناظر میں چار بڑے مسائل سرفہرست نظر آتے ہیں۔ اول معاشی بدحالی، بے روزگاری یا روزگار کے خاتمہ کا خوف،  دوئم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آمدن کی کمی کا بحران، سوئم بنیادی معاشی حقوق تک عام لوگوں کی عد م رسائی، چہارم حکومتی پالیسیوں،قانون اور عملدرآمد کے نظام میں عام آدمی کی ترجیحات کو نظراندازکرنا اور ایک مخصوص طاقت ور طبقہ کے مفادات کو تحفظ دینا شامل ہے۔خاص طور پر نوجوان نسل میں جو معاشی ترقی کے تناظر میں خوف یا عدم تحفظ کا احساس ہے وہ سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ ہے۔

یہ اچھی بات ہے کہ اس بار بجٹ  میں ہمیں کچھ عوامی جھلکیاں  دیکھنے کو ملی ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں سات سے دس لاکھ تک صحت کارڈ کی فراہمی جس سے ایک خاندان اپنا مفت علاج کرواسکے گا۔ اگر واقعی اس نظام پر شفافیت کے انداز میں عملدرآمد ہوجائے تو یہ قومی سیاست اور عام آدمی کے تحفظ کے ضمن میں ایک بڑا گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔اسی طرح پیپلزپارٹی کی حکومت میں شروع ہونے والا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جسے اب”احساس پروگرام“ کا نام دیا گیا ہے قومی سطح پر ایک اہم پیش رفت ہے جس کے تحت13000روپے ایک خاندان تک شفافیت کے ساتھ دیے جارہے ہیں۔سندھ کے صوبائی بجٹ میں ملازمین کی تنخواہ میں 20فیصد اضافہ، کم سے کم مزدور کی اجرت 25ہزار روپے مقرر کرنا،پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں کم سے کم اجرت بیس یا اکیس ہزار مقرر کرنا،خیبر پختونخواہ کے بعد پورے پنجاب میں صحت انشورنس،پنجاب میں کل ترقیاتی بجٹ کا 35فیصد جنوبی پنجاب کے مختص کرنا،پنجاب میں کسان کارڈ کا اجرا، نوجوانوں کے لیے آسان شرائط پر قرضہ کی فراہمی، پانچ لاکھ تک بغیر کسی سود کے قرضوں کی فراہمی جیسے امور پیش پیش ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ عام آدمی کی اس بجٹ میں کہیں نہ کہیں جھلک نظر آتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جو کچھ بجٹ میں پیش کیا جاتا ہے کیا یہ واقعی عام آدمی کی حقیقی زندگی میں کوئی بڑی نمایاں تبدیلی پیدا کرسکے گا تو یہ توجہ طلب مسئلہ ہے۔ کیونکہ بجٹ میں وسائل رکھنا، اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ایک بات ہے  جبکہ ان پر عملدرآمد کا مجموعی نظام دوسری بات ہوتی ہے۔ کیونکہ  ہم دیکھتے ہیں کہ بجٹ میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے عملی طور پر اس کے مثبت نتائج کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کیونکہ ایک سیاسی روایت یہ بن گئی ہے کہ جو کچھ بجٹ میں وسائل دکھائے جاتے ہیں وہ آگے جاکر عام آدمی کے بجٹ میں کٹوتی  کی صورت میں  تبدیل کردیے جاتے ہیں۔سب سے اہم او ربڑا مسئلہ سماجی شعبہ کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں  تبدیلی کا عمل محض ایک سیاسی خواہش بن کر رہ جاتا ہے۔

عام آدمی کا سب سے بڑا  مسئلہ  بنیادی حقوق کی فراہمی کے تناظر میں نج کاری کا ہے۔ یعنی ہم زیادہ سے زیادہ ان سماجی شعبو ں کو نجی شعبہ میں دے کر عام آدمی کی زندگی کو اور زیادہ مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ تعلیم،صحت کی بڑھتی ہوئی نج کاری اور تمام معاملات کو ہر سطح پر نجی شعبوں تک منتقلی ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیونکہ اس سے ایک بڑا خطرہ یہ جنم لیتا ہے کہ عام اور کمزور آدمی کی ان بنیادی حقوق کی فراہمی تک رسائی کا معاملہ پیچھے چلاجاتا ہے۔ اسی طرح اگرچہ حکومتوں کی سطح پر نوجوانوں کوبینکوں سے قرضہ کی فراہمی کے نظام کو لارہی ہے۔لیکن ابھی تک اگر حکومت کے ان تمام پروگراموں کا جائزہ لیں تو نظر آتا ہے بینکوں سے قرضوں کی فراہمی او ربالخصوص نوجوان طبقہ تک اس کی رسائی بہت مشکل ہے اور بلاوجہ مختلف شرائط کے نام پر قرضوں کی فراہمی کے نظام کو پیچیدہ بنایا جارہا ہے۔ عام آدمی کو بنیاد بنا کر اصل مسئلہ ضلعی اور تحصیل سطح پر موجود سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار میں انقلابی اقدامات درکار ہیں۔ کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان سرکاری ہسپتالوں میں لوگوں کا جم غفیر، بنیادی سہولتوں کا فقدان، ادوایات او رمشینری سمیت ٹیکنالوجی کی کمی، ٹیسٹوں کے نام پر نجی سطح پر لوگوں سے رقم بٹورنے کا کھیل بہت کچھ تبدیل کرنے کی دہائی دے رہا ہے۔

اگر وفاقی یا صوبائی حکومتیں واقعی عام آدمی اور بالخصوص نوجوان نسل کو معاشی طور پر خود کفیل کرنا چاہتی ہیں یا ان کے لیے روزگار کے مواقع  پیدا کرنا ان کی ترجیحات کا حصہ ہے تو اس کے لیے چھوٹی سطح پر انٹرپنیورکے ماڈل کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا ہوگا۔ اگر حکومت عام آدمی کو براہ راست نوکریاں نہیں دے سکتی تو کم ازکم ملک میں روزگار یا چھوٹے کاروبار کے لیے ایسا سازگار ماحول اور پالیسیاں دینا  ضروری ہے جو عام آدمی کو خود سے معاشی میدان میں فعال کرسکے۔بالخصوص  عورتوں کو مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ کاروبار کے لیے بغیر  سود  کے  قرضوں اور معاشی تربیت کی فراہمی کا جامع پروگرام کا اجرا کرنا ہوگا۔اصولی طور پر پاکستان میں مزدور، کسان سب سے زیادہ تعداد میں ہیں او ران کو معاشی سطح پر زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنا ہوگا۔کیونکہ اس وقت یہ دونوں طبقہ سب سے زیادہ حکومتی توجہ کے مستحق ہیں او ران کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینی ہوگی۔

یہ حکومتی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات او ربالخصوص وہ اخراجات جو ان کی شاہانہ زندگی یا طرز حکمرانی کو نمایاں کرتی ہے اس کا مکمل طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ایک طرف ہم معاشی بدحالی اور عام آدمی کی کمزوری کی دہائی دیتے ہیں تو دوسری طرف ہمیں حکومتی سطح پر شاہانہ انداز حکمرانی کا طرز عمل ایک بڑے تضاد کو جنم دیتا ہے۔عام آدمی کو مستحکم کرنے کے لیے اوپر کے طبقات کے مقابلے میں عام آدمی کو اپنی پالیسی او رترجیحات کی بنیاد بنانا ہوگا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ، وسائل کی  شفاف تقسیم میں عام آدمی کا حصہ بڑھایا جائے۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جو بڑے بڑے ترقیاتی اخراجات رکھے ہیں ان کو اس انداز سے خرچ کیا جائے جس میں عام آدمی سے جڑے مسائل اور معاملات کو بھی فوقیت ملنی چاہیے۔ اس لیے اس وقت جو لوگ یا فریقین عام آدمی کی سیاست کو مضبوط بنانا چاہتا ہے اسے حکمرانی کے موجود ہ نظام کو ہر سطح پر چیلنج کرنا ہوگا۔ ریاست، حکومت اور اداروں سمیت پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھانا ہوگا کہ وہ عام آدمی کا مقدمہ لڑیں، کیونکہ عام آدمی کی طاقت سے ہی ریاست اور حکومت کا شفافیت کا ایجنڈا سامنے آتا ہے اور یہ ہی ریاست سمیت حکومتوں کی سیاسی ساکھ کو قائم کرنے کا سبب بنتا ہے۔