سندھ میں الطاف حسین والی سیاست واپس لانے کی اجازت نہیں دیں گے: بلاول بھٹو

  • سوموار 21 / جون / 2021
  • 3910

پاکستان پیپلز پارٹی  کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جو نیا پاکستان ہمارے سامنے بن رہا ہے اس میں عوام سے روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ جمہوری خواب بھی ہم سے چھینا جارہا ہے۔ سندھ میں ہم کسی کو الطاف حسین والی سیاست واپس لانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

شہید بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس اسلامی جمہوری اور وفاقی نظام سے ذوالفقار علی بھٹو نے سب صوبوں کو جوڑا تھا اس پر کچھ سیاسی جماعتیں اور لوگ حملہ آور ہیں۔ سندھ کے نوجوان ہمیشہ امن پسند رہے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنا جانتے ہیں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ان کی پہچان دہشت گردوں کی ہو، ان کی پہچان وہ جو الطاف حسین والی سیاست کی ہو، ہم کسی کو اس صوبے میں الطاف حسین والی سیاست واپس لے آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم کسی کو ایک بھائی سے دوسرے بھائی کے ساتھ لڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ صوبہ سندھ کی دیہی اور شہری جی ڈی پی ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے بہتر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس کے باوجود ہم نے کبھی وزیراعظم عمران خان کی طرح یہ اعداد و شمار سامنے رکھ کر معاشی ترقی کا نعرہ نہیں لگایا کیوں کہ بلاشبہ یہ کامیابی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ اعدادو شمار کے بجائے عوام پر اثر کی صورت میں نظر آئے۔ یہ صوبہ سندھ کے عوام کی کامیابی ہے کہ اتنے کم وسائل اور حق نہ ملنے اور کورونا معاشی بحران کے باوجود یہاں بہتر کارکردگی ہے لیکن انہیں طعنہ دیا جاتا ہے اور کردار کشی کی جاتی ہے کہ یہاں کچھ نہیں ہوتا حالانکہ عوام کی محنت کی وجہ سے صوبے کی جی ڈی پی دیگر صوبوں سے بہتر ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں تنخواہوں میں اضافے، کم از کم اجرت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پیپلز تخفیف غربت پروگرام کے ذریعے مسلسل غریب عوام تک مدد پہنچائی جارہی ہے۔ اگر آپ کی معیشت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے تو وہ اس لیے کہ آپ کے ہاں ٹیکس کی شرح دیگر صوبوں سے کم ہے، آپ تاجر برادری کے ساتھ چوروں والا سلوک نہیں کرتے بلکہ انہیں آہستہ آہستہ ٹیکس نیٹ میں لاتے ہیں جس سے ٹیکس ریونیو کلیکشن بہتر ہوتا ہے اور کاروباری مراکز بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔