اِفراطِ آبادی ، زمین کی بربادی
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 21 / جون / 2021
- 23320
یہ زمین ذہنی نابالغوں، بے سمجھوں اور ان کوالیفائیڈ والدین سے بھری پڑی ہے ۔ اور بعض مراثی صفات دانشوروں نے میاں بیوی کے رشتے کو اپنے تمسخر، کم ظرفی اور گھٹیا ظرافت سے ادب کا غیر ضروری موضوع بنا رکھا ہے ۔
اس طرح وہ نہ صرف میاں بیوی کے مقدس رشتے کی توہین کرتے ہیں بلکہ اگلی نسلوں کے رگ و پے میں بھی یہ زہر انجیکٹ کرتے رہتے ہیں اور وہ نہ ہوش کے ناخُن لیتے ہیں اور نہ ہی یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ لکھ رہے یں اُس کا معاشرتی نفسیات پر کتنا منفی اثر مرتب ہو رہا ہے۔ شادی ایک مقدس ادارہ ہے جس کے ذریعے فطرت کے اصولِ تذکیر و اصولِ تانیث کے بہم ہونے اور اُن کے مابین دوطرفہ ربط و ضبط کو مستحکم رکھنے کا شرعی اہتمام ہوتا ہے لیکن سب لوگ اس کے اہل نہیں ہوتے کہ وہ شادی کے معاہدے پر دستخط کریں ۔ اس کی بنیادی وجہ قرآنِ کریم نے سورہ نور میں بیان کی ہیں۔ فرمایا گیا ہے کہ:
" اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاکدامنی اختیار کیے رکھیں یہاں تک کہ خدا اُن کو اپنے فضل سے غنی کردے ۔ "
سورہ نور آیت نمبر ۳۳ سے اقتباس
غنی ہونے کا مطلب یہ ہے شادی کرنے والوں کے پاس گھر کے اخرات اُٹھانے کے وسائل موجود ہوں اور اگر اللہ اولاد سے نوازے تو اُن کی کفالت کرنے کی صلاحیت موجود ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو شادی کرنے کے بجائے پاکدامنی اختیار کی جائے۔ اس سلسلے میں بُخاری شریف نے تین طرح کے لوگوں کو شادی سے منع کیا ہے :
۱۔ وہ جو روزی کمانے کے قابل نہیں
۲۔ وہ جو جسمانی معذور ہیں
۳۔ اور وو جو رجولیت کی طاقت نہیں رکھتے اور ازدواجی وطیفہ انجام نہیں دے سکتے
لیکن ہمارے یہاں جسمانی بلوغت کی بنا پر شادی کر دی جاتی ہے جب کہ دولہا دُلہن میں بہت سے ذہنی طور پر نابالغ ہوتے ہیں ، غیر تربیت یافتہ ہوتے ہیں جو دوطرفہ تعلقات کو متوازن نہیں رکھ سکتے ۔ وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ ماں باپ بن سکیں اور بچوں کی متوازن پرورش اور تربیت کر سکیں کیونکہ وہ خود اکھڑ ، خود سر اور گرم مزاج ہوتے ہیں اور بعض تو بات بات پر آتشیں مادے کی طرح بھڑک اُٹھتے ہیں ۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوالیفائیڈ نہیں ہوتے کہ والدین بن سکیں ۔ اس طرح کے بے جوڑے جب ماں باپ بنتے ہیں تو بچوں کی تربیت کی ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتے ۔ وہ نہیں جانتے کہ ماں کی گود بچے کا پہلا مکتب ہوتا ہے ۔ اگر ماں صبر ، ضبط ، تحمل ، شائستگی اور اخلاق کے زیور سے آراستہ نہیں ہو گی اور اُس کا شوہر عقل و دانش سے لیس نہیں ہوگا تو وہ بچے کو کیا سکھائیں گے۔
اور پھر وہ گھر جس میں میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ رہتے ہوں، دو طرفہ چخ چخ ہوتی رہتی ہو، گھر جنگ کا میدان بنا رہے وہاں خانہ جنگی کی فضا میں بے چارے بچّے بچپن کی معصومیت سے محروم ہو جاتے ہیں اور پھر جس گھر میں بچوں کی تعداد غیر متوازن ہو ، جنہیں ماں باپ معاشی اور اخلاقی طور پر نہ سنبھال سکیں ، انہیں مناسب رہائشی سہولت نہ دے سکیں اورتعلیم نہ دلوا سکیں وہ اپنی نئی نسل کے دشمن اور مجرم ہوتے ہیں ۔ ایسے بچے ماں باپ کے ہوتے ہوئے یتیم ہوتے ہیں ۔ ایسے بچے زمین پر اونٹ کٹارا ، بچھو بُوٹی ، پوہلی اور خاردار جھاڑیوں کی طرح ہوتے ہیں جو معاشرتی ماحول کو آلودہ کرتے اور زمین کو برباد کرتے ہیں ۔ وہ حشرات الارض اور بھڑوں کی طرح ہوتے ہیں جن سے انسانی آبادی کی سبکی ہوتی ہے ۔ یہ زمیں کی غیر ضروری آباد ی ہوتی ہے جو انسانی آبادیوں کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ ان غیر ضروری بچوں بچیوں کو ماں باپ بھی پناہ نہیں دے پاتے اور بہت سے بچوں کو کاروباری دینی مدارس کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں اور ایسے لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ آتے ہیں جن کے پلے رحم و کرم کی رتی تک نہیں ہوتی اور پھر وہ المیے جنم لینے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں مفتی عزیزالرحمان جیسے لوگوں کی کارکردگی سامنے آتی ہے جو دینی مدارس کی مروجہ اخلاقیات پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے ۔
اور کسی مذہبی معاشرے کے لیے بدنامی کا یہ داغ معاشرے کو مضطرب کردیتا ہے ۔ ایسے داغ دھونے سے نہیں دھُلتے اور تاریخ اُنہیں بھول نہیں پاتی ۔ ہیر وارث شاہ میں اس طرح کے طرز عمل کو باقاعدہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ وارث شاہ کہتے ہیں :
حجریاں دے وچ فعل کردے مُلّاں جوترے لاؤندے واہیاں نوں
یہ بات اپنی جگہ کہ ایسی بے راہروی ہر معاشرے میں ہوتی ہے اور ہو سکتی ہے اور اس ضمن میں عیسائی پادریوں کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر جب وہ ادارے جن کا کام اخلاقیات کی تعلیم دینا ہے ، ایسے کاموں میں ملوث ہوں تو پھر دینی اقدار کا خُدا ہی حافظ ہے ۔ اس لیے ایک طرٖف یہ بہت ضروری ہے کہ آبادی کو متوازن رکھا جائے اور شادی سے پہلے دُلہا دُلہن کے لیے ایک لازمی تربیتی کورس متعارف کروایا جائے جہاں وہ ماں باپ ہونے کی تربیت کرسکیں ورنہ وی کچھ ہوتا رہے گا جو ہو رہا ہے ۔