مسئلہ افغانستان کا ممکنہ حل اور پاور بروکرز
- تحریر افتخار بھٹہ
- سوموار 21 / جون / 2021
- 6620
ہمارے پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا پر اندرونی سیاسی اور معاشی صورتحال کے بارے میں نان ایشوز پر لکھا جاتا اور بحث ہوتی ہے جس کا خاتمہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے پر ہوتا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں تو بات گالی گلوچ تک پہنچ گئی ہے۔
خارجہ پالیسی کے حوالہ کبھی سنجیدہ بحث نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ اخبارات میں لکھا جاتا ہے۔ ا ہم امور شاید ایک ادارے کی صوابدید پر چھوڑ دئیے ہیں۔ آخر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد کیا ہوگا۔یہ بات طے ہے امریکی فوجی اور معاشی مدد سے کھٹری اشرف غنی کی حکومت طالبان کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔امریکی انخلا سے قبل ہی طالبان نے علاقے پر قبضہ کرنا شروع کردیا ہے۔ کیا طالبان پورے افغانستان پر کنڑول حاصل کر سکتے ہیں اور اسلامی امارت قائم کرنے کے بعد وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جمہوری انسانی بالخصوص عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کو مساوی حقوق دیں گے یہ بہت بڑا جواب طلب سوال ہے۔ ان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ گہرے اختلافات ہیں اور وہ ان کے ساتھ کسی قسم کی شراکت داری کیلئے تیار نہیں ہیں۔ امریکہ کے اخبار وال سٹریٹ جنرل کے مطابق ایک طرف امریکہ افغانستان سے فوجیں نکال رہا ہے جبکہ دوسری طرف مشرق وسطی سے اپنا پیڑیاٹ مزائیل سسٹم شفٹ کررہا ہے حالانکہ افغانستان، یمن اور دیگر تنازعات حل نہیں ہوئے ہیں۔
امریکہ پہلے بھی روس کے انخلاکے بعد افغانستان کو خانہ جنگی کیلئے چھوڑ گیا تھا۔نام نہاد جہاد افغانستان سے دائیں اور مذہبی جماعتوں نے بے پناہ مالی فوائد حاصل کرکے مذہبی معیشت کے بنیاد رکھی۔ملک میں کلاشنکوف اور ہیروئین کا کلچر روشناس ہوا۔ فرقہ واریت نے شدت پسندی کو فرو غ دیا۔لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے اور یہاں پر کاروبار اور مزدوری کے ذریعہ مقامی لوگوں کو مالی نقصان پہنچایا۔طالبان کی کابل پر حکومت قائم ہونے سے پاکستانی طالبان کا فیکٹر فعال ہوا ۹/۱۱ کے بعد پاکستان کی امریکی معاونت کی وجہ سے ملک میں دھماکوں اور خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس پر پاکستان کی مسلح افواج ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے قابو پایا۔ آج طالبان کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔وہ استنبول امن مذاکرات میں شرکت کیلئے تیار نہیں ہیں انہوں نے واضح کردیاہے انہیں کسی مسلم ملک کی موجودگی وارہ میں نہیں ہے۔جبکہ وہُ قطر معاہدے کو بالا طاق رکھتے ہوئے داعش اور القاعدہ سے اپنے رابطے بڑھا چکے ہیں۔ٹی ٹی پی آئے روز وزیرستان میں پاکستانی افواج پر حملے کر رہی ہے۔ اسی طرح بھار ت بھی اپنے حامی گڈ طالبان کے ساتھ قریبی روابط رکھے ہوئے ہے تاکہ اپنے مفادات کی حفاظت کر سکے۔ اگر پاور بروکز اور طا لبان کے درمیان شراکت اقتدار کا کوئی متفقہ معاہدہ نہیں ہو پاتا ہے تو امریکی جریدے اور تھنک ٹینک بروکنگ بریف کے مطابق اس کے مندرجہ ذیل مستقبل میں امکانات ہوسکتے ہیں:
1۔ طالبان تیزی سے افغان صوبوں پر قابض ہو رہے ہیں وہاں پر مسلح گروہوں کو اپنی سپاہ میں شامل کررہے ہیں یا ان سے معافی نامہ للھوارہے ہیں کہ وہ آئندہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں استعمال نہ ہوں اورر وہ بین الاقومی ما لیاتی اداروں کی مدد کے بغیر صرف ڈرگ ٹریفکنگ اور سمگلنگ کے ذریعہ اپنی معیشت چلا سکتے ہیں۔ یمن کی صورتحال کی وجہ سے سعودی اور مشرق وسطی کے ممالک سے مدد ملنے کی امید نہیں ہے ۔
2۔ افغانستان میں دوسرے پاور بروکرز شمالی تحاد اور اس میں شامل رشید دوستم اور اشرف غنی اور دیگر جنگو قبائل ہیں جنہیں روس کی حمایت حاصل اور جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے بہتر رحجان رکھتے اور طالبان کے ساتھ شراکت اقتدار کیلئے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ امریکہ، ترکی اور پاکستان کی بھی خواہش ہے یہاں پر تمام فریقین کی رضامندی سے مشترکہ حکوت قائمُ ہو جو بعد ارزاں جمہوری عمل کو آگے بڑھائے
3۔ ایران کو بھی طالبان کے اقلیتوں کے ساتھ رویے پر تحفظات ہیں حال ہی میں ایک شیعہ مدرسہ پر حملہ کرکے طلبا کو ہلاک دیا گیا۔ صورتحال میں خرابی کی صورت میں وہ اپنی ملیشیا فاطمیان کو افغانستان بھیج سکتاہے جوکہ شام کی لڑائی کے بعد واپس آچکی ہے
4۔علاقے کی بڑی طاقت کو طالبان کی حکومت سے خدشات ہیں کہیں وہ سرحدی صوبے سنکیانگ میں گڑ بڑ نہ کردیں یوں بھی چین اپنے تجارتی مفادات دیکھتا اور بیرون ملک ہونے والے تنازعات سے گریز کرتا ہے۔ برطانیہ میں امریکی سربراہی میں جی-7ممالک کے اجلاس میں چین کی حیران کن ترقی سے بو کھلاکر اس کے خلاف منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے مقابلہ ایک بڑا منصوبہ ترقی پذیر ملکوں میں لانے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر چین کے خلاف صف بندی کااعلان کر دیا ہے۔
چین نے جی-7کے اجلاس کے اعلان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ دن گزر گئے ہیں جب چند ممالک دنیا کے ملکوں کی قسمت کا فیصلہ کرتے تھے۔پرانا نظام ختم ہوچکاہے -اب صرف باہمی مشاورت سے معاملات کو اقوام متحدہ میں طے کیا جائے گااور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی نظام میں تمام ممالک کی حصہ داری ضروری ہے۔چین نے اپناخلائی ا سٹیشن بھیج کر امریکہ کی بالا دستی کو چیلنج کیا ہے یادرہے کہ دنیا کے 38 ممالک امریکہ سے حساس سائیبر معلومات حاصل کرتے ہیں۔ روس نے بھی اس ضمن میں چین سے تعاون کا اظہا کیا ہے۔
پاکستان نے چین کے ساتھ دوستی کی تناظر میں امریکہ کو فوجی اڈے دینے سے انکار کیا ہے اس بات کا خدشہ ہے امریکہ پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں مداخلت کر سکتاہے۔یوں بھی افغانستان میں امن کاقیام اکیلے پاکستان کی ذمہ داری ہے۔اس دہشت گردوں کو روکنے کیلئے باڑ لگادی ہے-پاکستان کو اندرونی خطرہ ٹی ٹی پی اور اس کے مسلکی حامیوں سے ہے جو افغان طالبان کے اقتدار میں آنے سے شدت پسندی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔پاکستان کے پالیسی سازروں اور دانشوروں کو بدلتی دنیا کے تناظر میں سوچنا چاہیئے۔ ماضی کی طرح افغان دلدل میں دھنسنے سے گریز کرنا چاہئیے۔