ریپ کے متعلق وزیر اعظم کے بیان کا دفاع

  • منگل 22 / جون / 2021
  • 5530

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی خواتین اراکین اسمبلی نے ریپ اور جنسی تشدد سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے تبصروں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'لبرل بریگیڈ' نے حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم خواتین کو بااختیار بنانے کی علامت ہیں کیونکہ کوئی دوسری پارٹی اس حد تک خواتین کو سیاسی میدان میں متحرک کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ پانچ خواتین وزرا وفاقی کابینہ میں بیٹھی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کی کوئی علامت ہے تو وہ وزیر اعظم عمران خان ہیں۔

وزیر مملکت کا کنا تھا کہ ہماری ثقافت اور لباس کے انداز کو پوری دنیا میں مثالی قرار دیا جاتا ہے۔ وہ  پاکستانیوں کی طرح لباس پہننے کی خواہش کرتے ہیں۔۔  ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی 'لبرل کرپٹ' کو پاکستانی معاشرے کا ترجمان نہیں بننے دیا جائے گا۔

زرتاج گل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میری ثقافت نے مجھے عزت دی ہے، اسلام نے مجھے شائستگی کا درس دیا ہے، قرآن میں کہی گئی باتوں کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کا عمل قانون اور اس کے نفاذ کے بغیر نامکمل ہے، چاہے سندھی، بلوچی، پشتون ہو یا پنجابی ہو، ہماری ثقافت میں عزت اور لباس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین جہاں جاتی ہیں انہیں عزت دی جاتی ہے، لائن میں پہلی جگہ دی جاتی ہے لوگ نشست چھوڑ کر جگہ دیتے ہیں اور وہ یہ نہیں کہتے کہ برابری ہے، کہتے ہیں خواتین کی عزت زیادہ اہم ہے۔

اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملیکہ بخاری نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کو ترجیح دینے والے شخص کی سربراہی میں انہیں پارلیمنٹ کی رکن ہونے پر فخر ہے۔ وزیر اعظم نے وزارت قانون کو پہلی ہدایات یہ دی تھی کہ وہ خواتین اور بچوں پر جنسی استحصال اور تشدد کے خاتمے کے لیے قوانین بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ریپ ایک پیچیدہ جرم ہے، یہ صرف ایک بچی یا خاتون کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے خصوصی عدالتیں بنائیں، اینٹی ریپ کرائسز سیل بنائے، جے آئی ٹی بنائیں۔ ہم نے کہا جب خواتین اور بچیاں عدالت میں آکر گواہی دیں تو عدالتوں کو بند کردیا جائے اور ان کیمرا سماعت ہو تاکہ وہ باوقار طریقے سے اپنی گواہی دے سکیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو حال ہی میں اسٹریمنگ ویب سائٹ ’ایچ بی او میکس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں خواتین سے متعلق بات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پروگرام میں جب انٹرویو کرنے والے صحافی نے وزیراعظم سے ان کے ماضی میں ریپ کو فحاشی کے ساتھ منسلک کرنے کے بیان سے متعلق سوال کیا تو اس پر انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے میں نے ایسا نہیں کہا کہ میں نے پردے کے تصور پر بات کی تھی پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں فتنے سے گریز کیا جائے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایک مکمل مختلف معاشرہ ہےاگر آپ معاشرے میں فتنے کو پروان چڑھائیں گے اور ان نوجوانوں کے پاس کہیں اور جانے کا راستہ نہیں ہوگا تو اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ سوال پوچھا گیا کہ 'کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خواتین جو پہنیں اس کا کوئی اثر ہوتا ہے کیا یہ فتنے کا حصہ ہے؟ جس پر وزیراعظم نے کہا تھا کہ 'اگر خواتین بہت مختصر لباس پہنیں گی تو اس کا مردوں پر اثر ہوگا کیوں کہ  وہ روبوٹ نہیں ہیں۔ میرا مطلب عمومی سمجھ کی بات ہے کہ اگر آپ کا معاشرہ ایسا ہو کہ جہاں لوگوں نے ایسی چیزیں نہ دیکھی ہوں تو اس کا ان پر اثر ہوگا۔

جب صحافی نے بحیثیت بین الاقوامی کرکٹ اسٹار کے ان کا ماضی یاد دلایا تو وزیراعظم نے کہا کہ یہ میرے بارے میں نہیں میرے معاشرے کے بارے میں ہے۔ میری ترجیح یہ ہے کہ میرے معاشرے کا رویہ کیا ہے اس لیے جب ہم دیکھیں گے کہ جنسی جرائم بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں تو ہم بیٹھیں گے اور اسے روکنے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ اس کا میرے معاشرے پر اثر پڑ رہاہے۔