امریکہ کو اڈے دیے تو پاکستان میں دہشت گردی بڑھے گی: عمران خان

  • منگل 22 / جون / 2021
  • 5900

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کی خاطر پاکستان امریکہ کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔ لیکن پاکستان اپنی سر زمین سے افغانستان میں فوجی کارروائی کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کے حق میں نہیں ہے۔

عمران خان نے ان خیالات کا اظہار پیر کو امریکی اخبار 'دی واشنگٹن پوسٹ' میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ جسے دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی طاقت حاصل ہے، 20 سال افغانستان میں رہنے کے باوجود لڑائی نہیں جیت سکا تو پاکستان میں اڈے قائم کر کے کیسے جیتے گا؟ اُن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان سے پرواز کرنے والے طیارے افغانستان پر بم گرائیں اور افغانستان میں خانہ جنگی کی صورتِ حال پیدا ہو تو ایک بار پھر پاکستان سے بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملے ہوں گے۔

ان کے بقول پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی عوام پہلے ہی اس قسم کے تنازعہ میں بہت بڑی قیمت ادا کر چکے ہیں۔ عمران خان نے لکھا کہ ماضی میں لڑائی میں ملوث فریقین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پاکستان کی غلطی تھی۔ لیکن اسلام آباد نے اس تجربے سے سبق سیکھا ہے۔ اب پاکستان کا کوئی منظورِ نظر نہیں ہے۔ اسلام آباد افغان عوام کا اعتماد رکھنے والی کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

عمران خان کے مطابق ایک طویل عرصے سے امریکہ اور پاکستان کا ایک ہی مقصد رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ مشکل میں پھنسے ملک کی مدد کی جائے۔ افغانستان میں سیاسی تصفیہ، استحکام، معاشی ترقی اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر نہ آنے کا مقصد حاصل کیا جائے۔ مضمون میں افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ​طالبان پورے ملک پر قابض نہیں ہو سکتے البتہ کسی بھی افغان حکومت کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ طالبان کو نظامِ حکومت میں شامل کیا جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افغانستان کو کبھی باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔ وزیرِ اعظم نے لکھا کہ افغانستان کی لڑائی کے نتیجے میں پاکستان کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ 70 ہزار سے زائد پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے امداد میں پاکستان کو 20 ارب ڈالر تو فراہم کیے لیکن پاکستانی معیشت کو پہنچنے والا نقصان 150 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی سیاحت اور سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے پر پاکستان کو ہدف بنایا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر گروہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ماضی میں امریکہ کے ڈرون حملوں کے متعلق خبردار کیا تھا۔ اس سے جنگ میں کامیابی نہیں مل سکتی تھی۔ البتہ ایسا کیا گیا اور اس سے ان کے الفاظ میں امریکیوں کے لیے نفرت ضرور پیدا ہوئی جس کے سبب دہشت گرد گروہوں کی صفوں میں شدت سے اضافہ ہوا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ کئی برس تک اس بات پر زور دیتے رہے کہ افغانستان کے تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ البتہ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں فوج بھیجی جائے۔ اور اس سے یہ غلط توقع رکھی گئی کہ اس عمل سے انتشار کا خاتمہ ہو گا۔  لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کی نصف آبادی اندرونِ ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔

عمران خان کے مطابق صرف شمالی وزیرستان سے 10 لاکھ افراد بے دخل ہوئے۔ علاقے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا جب کہ متعدد دیہات تباہ ہوگئے۔ فوجی آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں عام لوگوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچا۔ پاکستانی فوج کے خلاف ہونے والے خودکش حملوں کے نتیجے میں متعدد فوجی ہلاک و زخمی ہوئے جن کی تعداد افغانستان اور عراق میں ہلاک ہونے والے امریکہ کے فوجیوں کی مجموعی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کے حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہا۔ صرف خیبر پختونخوا میں 500 پولیس اہلکار قتل کیے گئے۔ پاکستان میں اس وقت 30 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین موجود ہیں۔  اگر سیاسی تصفیے کی جگہ افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے تو پناہ گزینوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا جس سے پاکستان کی سرحد کے ساتھ متصل علاقوں میں عدم استحکام پیدا ہو گا۔

اپنے مضمون میں عمران خان نے کہا کہ زیادہ تر طالبان کا تعلق پختون نسلی گروہ سے ہے۔ جب کہ پختونوں کی نصف آبادی پاکستان میں آباد ہے۔ اس وقت پاکستان تاریخی طور پر کھلی سرحد پر باڑ لگا رہا ہے جو تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور پاکستان کے مفادات یکساں ہیں۔ دونوں مذاکرات کے ذریعے امن چاہتے ہیں تاکہ خانہ جنگی نہ ہو۔ خطے کو استحکام کی ضرورت ہے اور دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔

اپنے مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ وہ​ اُس سمجھوتے کی حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد دو عشروں کے دوران افغانستان میں حاصل کردہ ترقی کو محفوظ بنانا ہے۔ پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ معاشی ترقی ہو۔ تجارت بڑھے اور وسطی ایشیائی خطے کے ساتھ روابط میں اضافہ ہو۔ تاکہ معیشت کو بڑھاوا ملے۔ البتہ اگر افغانستان میں مزید خانہ جنگی ہوئی تو سب کا نقصان ہو گا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے کہا  کہ یہی وجہ ہے کہ پہلے امریکیوں کے ساتھ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے مؤثر سفارتی کوششیں کی ہیں۔ ان کے بقول اسلام آباد سمجھتا ہے کہ اگر طالبان فوجی فتح کا اعلان کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے خونریزی کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

عمران خان نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں افغان حکومت بھی زیادہ لچک کا مظاہرہ کرے گی اور پاکستان پر الزام تراشی بند کی جائے گی۔ اسلام آباد امن اور استحکام کے لیے فوجی کارروائی کے علاوہ ہر قسم کی کوشش کر رہا ہے۔