مقامی نظام حکومت کی ضرورت
- تحریر سلمان عابد
- منگل 22 / جون / 2021
- 6810
پاکستان میں حکمرانی کا نظام مقامی حکومتوں کے قیام سے ہی عام آدمی کے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے۔ اسی طرح شفافیت کا اہتمام بھی کیا جاسکتا ہے۔
لیکن لگتا یہ ہی ہے کہ ہمارے طاقت کے مراکز ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے تواتر سے ان ہی غلطیوں کو دہرارہے ہیں ۔بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ ہم مجموعی طور پر عدم مرکزیت کے مقابلے میں مرکزیت یعنی اختیارات کو زیادہ سے زیادہ اوپر کی سطح پر محدود کرکے سیاسی نظام چلانا چاہتے ہیں۔18ویں ترمیم کے بعد یہ صوبوں کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ وہ سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کو صوبوں سے اضلاع، تحصیل، ٹاؤن، یونین یا محلہ کونسلوں تک تقسیم کریں۔لیکن اس وقت چاروں صوبے مقامی نظام حکومت کی نفی کررہے ہیں۔ حالانکہ 1973کے دستور کی شق صوبوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے صوبہ میں مقامی نظام حکومت کے تحت اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں تک تقسیم کرے۔ اس وقت ملک کے چاروں صوبے بنیادی جمہوری اداروں سے محروم ہیں اور صوبائی حکومتیں مسلسل مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے سے گریز کرکے خود اختیارات کو اپنی حد تک محدود رکھے ہوئے ہے۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جب تک صوبائی سطح پر مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط اور بااختیار نہیں بنایا جائے گا صوبائی خود مختاری کا عمل مکمل نہیں ہوگا۔اس وقت ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے جمہوری نظام نامکمل ہے جو سیاسی او رجمہوری نظام کے لیے اچھا شگون نہیں۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پچھلے دنوں کراچی کے بحران کے تناظر میں مقامی نظام حکومت کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے بقول کراچی کا حل آئین کی شق140 اے کے تحت مضبوط مقامی حکومت ہے۔مسئلہ محض کراچی کا نہیں بلکہ پورے ملک میں حکمرانی کے بحران کے حل سے ہے اور یہ حل ایک مضبوط مقامی حکومت کے نظام کا حقیقی تقاضہ کرتا ہے۔ بالخصوص بڑے شہروں کے مسائل کا حل ایک منفرد اور خود مختارمقامی سطح کے نظام سے جڑا ہے جس میں سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات واضح اور شفاف ہوں۔فواد چوہدری بنیادی طو رپر ملک میں مضبوط مقامی حکومت کے نظام کے حامی ہیں۔ ماضی او رحال دونوں میں وہ ہر فورم پر مقامی نظام حکومت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ اس مقامی نظام کو اختیار کیے بغیر ملک میں حکمرانی کا بحران حل نہیں ہوسکے گا۔فواد چوہدری ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے 2018میں پی ٹی آئی کی حکومت کے بنتے ہی پہلے تین سے چار ماہ میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تجویز دی تھی۔لیکن دونوں صوبائی حکومتوں نے ان کی تجویز کو قبول نہیں کیا۔یہ ہی وجہ ہے کہ پچھلے تین برسوں میں پی ٹی آئی کی پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں اپنی حکومت ہونے کے باوجود مقامی انتخابات کا راستہ اختیار نہیں کیا جاسکا۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اگر ہم نے روائتی او رپرانے فرسودہ انداز میں مقامی حکومتوں کے نظام کو اختیار کرنے کی کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی۔ کیونکہ فواد چوہدری بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوئی بھی صوبائی حکومت اس نظام کو خود مختاری یا تشکیل دینے میں سنجیدہ نہیں۔اگر صوبائی حکومتوں پر وفاق کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا تو یہ انتخابات کا راستہ بھی اختیار نہیں کریں گی اور معاملہ یوں ہی عدالتوں کے رحم و کرم پر ہی رہے گا۔ اگرچہ مقامی نظام حکومت صوبائی سبجیکٹ ہے لیکن اس میں وفاق کو کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وہ اس بات کو یقینی بناسکے کہ صوبائی حکومتیں تسلسل کے ساتھ مقامی نظام حکومت چلائیں۔ انتخابات کا راستہ اختیار کریں اور آئین کے تحت ان اہم اداروں کو مکمل خود مختاری کی طرف پیش رفت کی جاسکے۔اسی طرح مقامی حکومتوں کے انتخابات عام انتخابات کے ساتھ ہی ہونے چاہیے تاکہ کوئی بھی نئی آنے والی صوبائی حکومت پہلے سے موجود مقامی حکومتوں کو اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھ کر ان وقت سے قبل ختم کردیں اور ان جمہوری اداروں کے ساتھ استحصال کا رویہ اختیار کریں۔
یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ اگر ہم نے حکمرانی کا بحران ختم کرکے قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرناہے تو ہمیں ”مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں“ کے نظام قائم کرنا ہوگا۔ اہل سیاست اور رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں سمیت میڈیا و دانشوروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کے نظام کو کسی سیاسی تنہائی میں دیکھنے کی بجائے ایک جامع انداز میں ملک کے جمہوری، سیاسی اور حکمرانی کے نظام کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں جو بھی تجربات حکمرانی کے نظام میں ہوئے ہیں یا ہورہے ہیں ان میں اب زیادہ سے زیادہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ مرکزیت کی بنیاد پر نظام کو چلانے کی روش مزید حکمرانی کے بحران کو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں جس قیادت کے ہاتھ میں ہمارا سیاسی و جمہوری نظام ہے ان کی اصل ترجیحات مرکزیت پر مبنی نظام ہے۔ 18ویں ترمیم پر عملدرآمد نہ کرکے بھی سیاسی قیادت جمہوریت کو تماشہ بنا تی ہے اور جمہوری مقدمہ کو کمزور کررہی ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ ترقیاتی بجٹ کا ہے۔ صوبائی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ اگر صوبوں میں مقامی حکومتوں کا نظام کو مضبوط بنایا گیا تو اس سے ان کی سیاسی طاقت مقامی سطح پر کمزور ہوگی اور مقامی منتخب افراد زیادہ طاقت حاصل کرلیں گے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ترقیاتی فنڈ تک قبضہ کی اس سیاسی جنگ میں مقامی حکومتوں کا نظام عملی طور پر استحصال کا نشانہ بن رہا ہے۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کیونکہ وزیر اعظم تک رسائی رکھتے ہیں اور حکومت میں اہم عہدے پر ہیں وہ ان کو یہ باور کروائیں کہ صوبائی حکومتیں کس طرح سے ان مقامی نظام حکومت کے خلاف متحد ہیں اور اس نظام کی تشکیل میں بڑی رکاوٹ کا کردار ادا کررہی ہیں۔پاکستان میں فواد چوہدری سمیت جو لوگ بھی مختلف جماعتوں میں مقامی نظام حکومت کے حامی ہیں ان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اب معاملات کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنا ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ کارکن، سول سوسائٹی، میڈیا، دانشور، علمی و فکری ماہرین اور حکمرانی کے نظام کی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد یا اداروں کو آگے بڑھ کر مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کے لیے سیاسی جنگ لڑنی ہوگی۔ یہ جنگ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔سماجی شعبہ کے اعدادوشمار ہمیں شہری اور دیہی سطح پر یا امیر اور غریب کی سطح پر ایک بڑی خلیج یا بدااعتمادی کی سیاست نمایاں نظر آتی ہے اس کی بھی بڑی وجہ مقامی حکومتوں کے نظام سے مکمل طور پر انحراف کی پالیسی ہے۔