پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا
- جمعہ 25 / جون / 2021
- 4310
فنانشل ایکش ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پلینیری اجلاس میں پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجالس کے بعد بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو مانیٹرنگ کا حصہ رکھا جائے گا۔
ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیا نے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 سفارشات کی تکمیل کرلی ہے لیکن اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ملک میں قانونی نظام بہتر کرنے پر سراہا۔ لیکن ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ 2019 میں ادارے نے کافی سنجیدہ طرز کے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا نہیں اتر پایا۔
ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ابھی گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے باہر نکلنے کے لیے اسے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا پلینیری اجلاس 20 جون سے جاری تھا جس کا آج جمعے کے روز اختتام ہوا۔ پاکستان سے متعلق فیصلے پر پاکستان میں بحث جاری تھی اور انڈیا بھی اس فیصلے کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ اس فیصلے میں پاکستان کو جن تین سفارشات کی تکمیل کا کہا گیا تھا ان میں سے دو کی تکمیل ہوچکی ہے۔ جبکہ باقی رہ جانے والی ایک سفارش پر پاکستان کام کررہا ہے۔
2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات لینے میں ناکام رہے ہوں۔