پانی کی قلت ہے یا یہ سیاسی تنازعہ ہے
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعہ 25 / جون / 2021
- 15550
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی؟صاف پانی کے بے دریغ ضیائع اور آبپاشی کے نظامُ کے رساؤ کء وجہ سے ہمارا شمار پانی کیُ کمی سے ُ دوچار ممالک میں ہونے لگا ہے۔ ماضی میں لوگ نلکوں، کنوؤں، برساتی نالوں، واٹر سپلائی اورُنہرُیُُ پانی پینے اور دیگر ضرویات زندگی کیلئے استعمال کرتے تھے۔
ناقص سیورج، زنگ آلودہ کٹی پھٹی پانی کی پائپ لائنز اور نام نہاد ترقیاتی کاموں کی وجہ سے زیرزمین پانی آلودہ ہوگیاہے۔ سرسبز زمینوں پر کنکریٹ کے پہاڑ کرنے کی وجہ سے برساتی پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا ہے۔ انفرادی طور پر بورنگ کےُ ذریعہ پانی پمپ کا جاتا ہے کیونکہ مہنگی سوسائٹیوں میں واٹر سپلائی کا نظامُ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح گہر ی ہو گئی ہے۔ اسلام آباد کراچی اور دیگرشہروں میں پانی کی قلت رہتی ہےُ۔ دریا جوکہ پانی کی دستیابی کا بڑا ذریعہ ہوتے تھے انکا پانی سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے بھارت کیُ صوابدید پر چھوڑ دیاگیا جبکہ سیلابی اور برساتی پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے نئے ڈیم نہیں بنائے گئے ہیں۔ ہماری پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف تیس دن ہے جبکہ بھارت ایک سو اسی دن کا پانی جمع کرسکتاہے۔
انسانی قابل استعمال پانی کی کمیابی ایک طرف زراعت کیلئے بھی وافر مقدار میں فراہم نہیں کیاجارہا ہے۔سندھ کی حکومت نے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر وفاق سے احتجاج کیا ہے۔وفاتی وزراء کہتے ہیں سندھ کے وڈیرے پانی چوری کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے چھوٹے کسانوں کے کھیتوں تک پہنچ نہیں پاتا ہے۔اس کی دوسری وجہ گنے کی کی کاشت ہے جس کیلئے کافی مقدار میں پانی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت نے سیاسی بنیادوں پر شوگر ملوں کیلئے پرمٹ جاری کرکے کسانوں کی کپاس اگانے کے رقبے میں کمی کردی ہے۔جس کی وجہ سے ہم ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کا بنیادی خام مل درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ہم زرعی پیداوار کی کمی اور فوڈ انفلیشن سے دوچار ہیں۔اربوں ڈالرز کھانے پینے کی اشیا پر خرچ ہورہے ہیں ان کی کمی کی وجہ زراعت کیلئے وافر پانی کی فراہمی،زیادہ پیداوار والے جینئٹک بیجوں اور ادویات کا استعمال اور آبپاشی کے جدید طریقے اپنانے سے گریز ہے۔
پاکستان میں پانی کے ترقیاتی پروگراموں پر سیم وتھور، زیر زمین پانی کو مزید نچلی سطح پر جانے سے روکنا اور نہروں کی بھل صفائی وغیرہ شامل ہے -جسں پر 1.15-بلین روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔اکُنامک سروے آف پا کستان رپورٹ کے مطابق پانی دریائے سندھ،چناب، جہلم اور کابل سے حاصل ہوتاہے اس میں سے آبپاشی کیلئے کھیتوں تک پہنچ پاتا ہے باقی سمندر میں جا گرتا ہے۔ آبپاشی کیلئے استعمال ہوتا ہے باقی نہرو ں کے لیکیج، بد انتظامی، چوری بیراجوں کی خستہ حالی اور کرپشن کی نذر ہوجاتاہے۔رپورٹ کے مطابق آبپاشی کیلئے پانی کی کوئی کمی نہیں ہے -نہری نظام کی دور جدید کے تقاضوں کے مطابق بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور لیکیج کو روکنے کی ضرورت ہے۔نہروں اور آبی راستوں کو پختہ کرنے سے پانی مزید فصلوں کو مہیا کرنے کے ساتھ زیر کاشت رقبے کو بڑھایا اور پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتاہے۔پاکستان پر فرد پانی کی فراہمی 1000 کیوبک میٹر رہ گئے ہے جو کہ ماضی میں 5600 کیوبک میٹر تھی اس میں آبادی کے اضافے اورضیا کا بھی تعلق ہے۔
ملک میں آبی فراہمی کے ذرائع سکڑتے جارہے ہیں اشیائے خوراک کی پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کو زیادہ پانی اور سستی بجلی،کھاد،کیڑے مارنے والی ادویات اورزیادہ جھاڑ دنیے والے بیجوں کی فراہمی ضرورت ہے۔ اب وقتا آ گیا ہے کہہ بڑے زمینداروں پر براہ راست ٹکیس لگایا جائے یوں صرف زراعت ہی ان کاذریعہ آمدن نہیں ہے یہ شوگر رائس اور فلو رملز کے مالکان اور لا تعداد کاروبار چلاتے ہیں۔ حکومت کو پانی کی صوبوں کو تقسیم کو گڈ گورنس کے ذریعہ منصفانہ بنا ہو گا۔