ایف اے ٹی ایف کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش: شاہ محمود قریشی استعفیٰ دیں

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بدستور گرے  فہرست میں رکھتے ہوئے   منی لانڈرنگ کے حوالے سے نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان  پیرس میں گروپ کے   پانچ روزہ اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے  ایک روز پہلے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے  ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اب  ایف اے ٹی ایف   کے پاس پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے کیوں کہ پاکستان کو   27 نکاتی ایکشن پلان دیا  گیا تھا جس میں سے 26  نکات پر عمل ہوچکا ہے جبکہ آخری  نکتے پر بھی کام ہورہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے آج سامنے آنے والے اعلان کے بعد یہ واضح ہؤاہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کو یہ اشارے موصول ہورہے تھے کہ ایکشن پلان پر پوری طرح عمل نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کو اس بار بھی گرے لسٹ سے نہیں نکالا جائے گا۔  شاہ محمود قریشی  نے  اس پر چپ سادھے رکھنے  یاحقیقی صورت حال سے  عوام کو  مطلع کرنے کی  بجائے ایک ایسا بیان دیا جسے   اس تناظر میں سفارتی بلیک میلنگ کا  سوچا سمجھا ہتھکنڈا  ہی کہا جاسکتا ہے۔ ان کا خیال ہوگا کہ اس طرح کے بولڈ اور دو ٹوک بیان سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  کے رکن ممالک کو  دباؤ میں نرم رویہ اختیار کرنا پڑے گا اور پاکستان کو گرےلسٹ سے نکال دیا جائے گا۔  اس طرح ایف اے ٹی ایف کے علاوہ  آئی ایم ایف کے ساتھ  معاملات  میں مشکلات کا سامنا کرنے والی  حکومت کو کچھ ریلیف ملے گا۔  اور شاہ محمود قریشی اسے  شاندار سفارتی کامیابی قرار دے کر اپنی مہارت اور عمران خان کی قیادت میں   ترقی کی جانب پاکستان کے شاندار سفر کا ڈھنڈورا پیٹ سکیں گے۔

تاہم آج ایف اے ٹی ایف کے اعلان کے بعد واضح ہؤا ہے کہ شاہ محمود قریشی  دوسری بار وزارت خارجہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے باوجود سفارتی حساسیات  سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ اگر  وہ کسی ایسے ملک کے وزیر خارجہ  ہوتے  جہاں کوئی عہدہ صرف کارکردگی کی وجہ سے دیا جاتا ہے اور   فرائض ادا کرنے میں ناکام ہونے والا وزیر عہدے سے استعفی دے دیتا ہے تاکہ وزیر اعظم کسی بہتر شخص کو یہ کام سونپ سکیں تو وہ اب اس عہدہ پر موجود نہ ہوتے۔  تاہم پاکستان  کو ’نیا ملک بنانے‘ اور انصاف کا بول بالا کرنے کے  اعصاب شکن نعروں کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت میں جوابدہی اور  ذمہ داری قبول کرنے کی کوئی  روایت موجود نہیں ہے۔

یہ بھی تحریک انصاف کی حکومت کا  کارنامہ ہے کہ   وفاقی وزیر برائے  ہوابازی  غلام سرور خان کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک میں  قومی ائیرلائن پی آئی اے کو پرواز کرنے کی اجازت نہیں ہے اور سینکڑوں پاکستانی پائیلٹس کو   مختلف ائیر لائینز کے ساتھ کام میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔  لیکن نہ صرف یہ شخص وزارت پر براجمان ہے بلکہ حکومت کو اس افسوسناک طریقہ پر کسی قسم کی شرمندگی بھی نہیں ہے۔   اب  راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں بھی غلام سرور خان کا نام شامل ہے لیکن  حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انہوں نے نہ صرف بڑی  ڈھٹائی سے  دعویٰ کہ  یہ معاملہ  سرکاری افسروں کی خرد برد اور غلطیوں کے بارے میں ہے  ، کوئی سیاست دان یا حکومتی عہدیدار اس میں ملوث نہیں ہے۔ حالانکہ  وزیر اعظم اس معاملہ کی تحقیقات کا اعلان کرچکے ہیں اور  زیر تحقیق معاملہ پر ایک وزیر کی بیان بازی  غیر اخلاقی  اور تحقیقاتی کمیٹی پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔  انہوں نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ  اس اسکینڈل کی وجہ سے زلفی بخاری نے    معاون خصوصی  کے طور پر  جذباتی ہوکر استعفیٰ دے دیاتھا لیکن ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا گیا اور وہ بہت جلد اپنا عہدہ واپس سنبھال لیں گے۔ اس طرز عمل سے احتساب کے بارے میں  حکومت کے حقیقی رویہ کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

موجودہ حکومت ہی کے دور میں ریل گاڑیوں کے سنگین حادثوں میں متعدد افراد جان بحق ہوچکے ہیں۔  موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد   اکتوبر 2019  میں ریلوے کے وزیر تھے اور رحیم یار خان کے قریب ایک گاڑی کی بوگی میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے 70 مسافر جاں بحق   ہوگئے لیکن نہ انہیں ذمہ داری قبول  کا خیال آیا اور نہ ہی وزیر اعظم نے ان سے جواب طلب کیا۔    شٰخ رشید جن دنوں ریلوے کے وزیرتھے، اس دوران  گاڑیوں کے تین دیگر بڑے حادثات میں پچاس سے زائد افراد جاں بحق  ہوئے لیکن  نچلے درجے کے چند اہلکاروں کو قربانی کا بکرابنا کر ان معاملات کو نظر انداز کردیا گیا۔ شاید اسی ڈھٹائی کی وجہ سے دسمبر  2020 میں شیخ رشید احمد کو وزیر داخلہ بنا کر  ایک لحاظ  سے کابینہ میں ان کی  حیثیت میں اضافہ کردیا گیا۔ ان کی جگہ  اعظم خان سواتی نے  ریلوے کی وزارت سنبھالی۔ اس ماہ کے شروع میں گھوٹکی میں ٹرین کے حادثہ میں 32 مسافر جاں بحق ہوگئے  لیکن انہوں نے یہ کہہ کر استعفیٰ دینے سے انکار  کردیا  کہ ’گاڑی میں تو نہیں چلا رہا تھا‘۔ جبکہ  وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے  اپنی حکومت کا دفاع اور عمران خان کی خوشامد کاحق یوں ادا کیا کہ ’ اللہ کا شکر ہے کہ اس سال ٹرین کا پہلا حادثہ ہؤا ہے‘۔

اس پس منظر  میں سمجھا  جاسکتا کہ شاہ محمود قریشی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے کا اعلان ہونے سے ایک روز پہلے  یہ بیان کیوں داغا تھا کہ اب ایف اے ٹی ایف کے پاس پاکستان کو گرے لسٹ پر رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آج اس ٹاسک فورس کے صدر ڈاکٹر  مارکوس لئیر نے  یہ کہتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ کے دعویٰ کا جواب دیاہے کہ ’ہمارے رہنما اصول بہت واضح ہیں ۔ کسی لسٹ سے نکلنے کے لئے تمام شرائط کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے بھی اسی اصول پر عمل ہوتا رہا ہے،  اس لئے پاکستان کو بھی اس طریقہ کے مطابق یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط  پوری کردی  ہیں‘۔  ایف اے ٹی ایف کے صدر  کا کہنا تھا کہ  اگرچہ  پاکستان نے موجودہ ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات  پر عمل کرلیا ہے لیکن منی لانڈرنگ کے انسداد کے لئے  وہ ابھی تک ایف اے ٹی ایف کے معیار  پر پورا نہیں اترتا۔ پاکستان کو یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے ایک متوازی   پلان بھی  دیا گیا ہے۔  یعنی موجودہ پلان کے 27  نکات  کی  تکمیل کے علاوہ  ایشین پیسیفک گروپ  کے پیش کردہ مزید پانچ نکات کی  تکمیل بھی  کرنا ہوگی۔  تب ہی ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کریں گے۔

سوال ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو پیشگی  طور پر  ’دھمکاتے‘ ہوئے کیا پاکستانی وزیر خارجہ کو ان اضافی شرئط کا علم نہیں  تھا جن کی نشاندہی آج ڈاکٹر مارکوس لئیر نے  ایک پریس کانفرنس میں کی ہے۔ اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ کس بنیاد پر یہ دعویٰ کررہے تھے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کرچکا ہے؟  آج ہی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے اپنی  سفارتی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنا ضروری سمجھا اور دعویٰ کیا کہ پوری دنیا افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کی خدمات کو تسلیم کرتی ہے۔ حیرت ہے کہ  امریکہ ہی نہیں پوری دنیا پاکستان  کی  قصیدہ گو ہے  لیکن پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم  ایف میں بدستور مشکلات کا   سامنا ہے۔ آئی ایم ایف  پروگرام کے سلسلہ میں بھی  یہی صورت حال موجود ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کہتے ہیں کہ بات چیت میں ’خوشگوار پیش رفت‘ ہوئی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے نمائیندے بضد ہیں کہ مشکل فیصلے کرنا باقی ہیں۔

شاہ محمود قریشی  نے پریس کانفرنس میں ایک طرف افغانستان میں  اپنی سفارتی کامیابی کا دعویٰ کیا تو دوسری طرف  کشمیر پر  نریندر مودی کی تازہ ترین کوششوں کو ’ڈھونگ ،  ڈرامہ اور پی آر اسٹنٹ ‘   قرار دیا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر اعظم نے  بھارت نواز پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے 14 لیڈروں سے ملاقات کی تھی۔  شاہ محمود قریشی کو اسے ناکام  ملاقات کہہ رہے ہیں کیوں کہ مودی کشمیری لیڈروں کے مطالبے کو ماننے پر راضی نہیں ہوئے۔ لیکن وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ  مودی سے ملنے والے سارے کشمیری لیڈروں نے ہمیشہ  نئی دہلی کی سیاسی  حمایت کی ہے اور وہ پاکستان کی  کشمیر سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگرچہ بھارتی حکومت نے  کشمیر کی آئینی خودمختاری بحال کرنے کا اعلان نہیں کیا لیکن یہ سارے لیڈر کشمیر میں نئی حلقہ بندیاں کرنے والے کمیشن سے تعاون  کا یقین دلا کر آئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے ہمیشہ  انہی وطن فروش کشمیری  لیڈروں کے کندھے پر بندوق رکھ کر مقبوضہ کشمیر میں  جمہوری عمل شروع کرنے کا ڈھونگ کیا ہے۔ اگر  نئی دہلی کے وزیر اعظم ہاؤس میں جمعرات کو ہونے والی ملاقات ڈرامہ تھی تو اس ڈرامہ میں یہ کٹھ پتلی کشمیری لیڈر  بھی نریندر مودی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی اور مصالحتی کمیشن  کے سربراہ عبداللہ عبداللہ آج وہائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات  کا  شاید کوئی ٹھوس   نتیجہ سامنے نہ آئے لیکن  یہ بات طے ہے کہ افغان لیڈر علاقے میں پاکستان کے منفی کردار کے بارے میں بڑھ چڑھ کر باتیں کریں گے۔ اس ملاقات سے پہلے پاکستان کا وزیر خارجہ البتہ ایک پریس کانفرنس میں افغانستان کے مسئلہ  کی بنیاد کابل حکومت کو قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کررہا ہے کہ  وہاں تشدد میں فروغ کا اصل سبب افغان حکومت  اور امن دشمن عناصر ہیں۔ امریکہ  کی  پشت پناہی میں کام کرنے والی حکومت کو امن دشمن قرار دے کر پاکستانی وزیر خارجہ نہ جانے کون سا سفارتی مشن پورا کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان  اس وقت  ناقص، کمزور اور غیر  واضح  خارجہ پالیسی پر عمل  پیرا ہے۔ حکومت کے پاس نہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے کوئی منصوبہ ہے ، نہ  افغانستان سے  اتحادی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا درست تجزیہ موجود ہے اور نہ ہی کشمیر میں مودی کی حکمت عملی کا کوئی متبادل سامنے لایا گیا ہے۔ عوام کی تشفی کے لئے  شاہ محمود قریشی بلا تکان گفتگو کرتے ہیں حالانکہ ان کے منصب کا تقاضہ ہے کہ  کم بولیں اور سوچ سمجھ کر حالات  پر تبصرہ کریں۔

  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے  فاش غلطی کا ارتکاب کرنے کے بعد شاہ محمود قریشی کے پاس اپنے عہدے سے چمٹے رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے اگر بلا جواز پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا ہے تو یہ شاہ محمود قریشی کی سفارتی ناکامی ہے۔ انہیں اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔