سیاہ فام شہری کو ہلاک کرنے پر سابق پولیس افسرکو 22 سال قید کی سزا
- ہفتہ 26 / جون / 2021
- 3580
امریکہ کی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس کی ایک عدالت نے سیاہ فارم شہری جارج فلائیڈ کے قتل کے الزام میں سابق پولیس اہلکار ڈیرک شاون کو ساڑھے 22 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
جج پیٹر کاہل نے جمعے کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈیرک شاون نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور جارج فلائیڈ پر ظلم کیا۔ پراسیکیوٹرز نے شاون کے لیے 30 برس قید کی استدعا کی تھی۔ تاہم سابق پولیس اہلکار کے وکیل نے اپیل کی تھی کہ جتنا عرصہ وہ حراست میں رہے، اسے ہی ان کی سزا قرار دے دیا جائے ۔
اگر شاون نے اپنی سزا کے دوران اچھا رویہ اختیار کیا تو انہیں دو تہائی سزا گزارنے کے بعد پرول پر رہائی مل سکے گی۔ لیکن یہ دورانیہ بھی کم از کم 15 سال بنتا ہے۔ مقدمے کی جیوری نے شاون کو رواں سال 20 اپریل کو قتلِ عمد اور دیگر الزامات کا مجرم قرار دیا تھا۔ شاون مجرم قرار دیے جانے کے بعد سے قید میں ہیں۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے شاون کی سزا پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ اس کی یہ سزا مناسب لگتی ہے۔
مقتول جارج فلائیڈ کی بیٹی اور دو بھائیوں سمیت خاندان کے کئی افراد شاون کو سزا سنانے کے موقع پر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ فلائیڈ کی 7 سالہ بیٹی گیانا کا ویڈیو ریکارڈنگ میں کہنا تھا کہ وہ ہر وقت اپنے والد کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ فلائیڈ کے بھائی ٹیرنس کمرہ عدالت میں یہ کہتے ہوئے جذباتی ہو گئے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ شاون نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 25 مئی کو ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت اس وقت ہوئی تھی، جب سفید فام پولیس افسر شاون نے فلائیڈ کو حراست میں لینے کے بعد 9 منٹ تک ان کی گردن کو اپنے گھٹنے سے دبائے رکھا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو اردگرد کھڑے شہریوں نے بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی تھی۔ جس کے بعد امریکہ کے کئی شہروں اور دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
ڈیرک شاون اور ان کے دیگر ساتھیوں کو پولیس کے محکمے نے اس واقعے کے بعد ملازمت سے برخاست کر دیا تھا۔ بعد ازاں منی ایپلس کی جیوری نے اپریل 2020 میں جارج فلائیڈ کے قتل کے الزام میں شاون کو مجرم قرار دیا تھا جب کہ مئی میں ایک وفاقی جیوری نے جارج فلائیڈ کے قتل کے جرم میں منی ایپلس کے چار سابقہ پولیس افسران کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔