افغانستان کے ساتھ شراکت داری ختم نہیں ہو رہی: بائیڈن
- ہفتہ 26 / جون / 2021
- 5250
صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان شراکت داری ختم نہیں ہو رہی ہے بلکہ قائم رہے گی۔ افغانستان کی فوج اور ملک کے لیے معاشی مدد بھی ختم نہیں ہوگی۔
صدر نے ان خیالات کا اظہار افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر افغان صدر نے کہا کہ وہ انخلا کے صدر بائیڈن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور مضبوط شراکت داری کے عزم پر ان کے شکر گزار ہیں۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ یہ افغانستان کے رہنما ہی ہیں جنہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور ہماری طرف سے مدد میں کمی نہیں آئے گی۔ صدر نے زور دیا کہ افغانستان میں تشدد کو ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔ بائیڈن نے صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور جو کچھ ممکن ہو سکتا ہے آپ کے لیے کریں گے۔
اس موقع پر افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا کہ امریکہ اور افغانستان کے تعلقات محض فوجی شراکت داری سے آگے باہمی مفادات کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بے حد مطمئن ہیں کہ یہ شراکت داری قائم رہے گی۔ صدر غنی نے امید ظاہر کی کہ افغانستان کے عوام اور راہنماوں میں اتفاق، سیکیورٹی فورسز کے عزم اور امریکہ کے ساتھ شراکت داری سے وہ مسائل پر قابو پا لیں گے۔
مہمان صدر نے افغانستان اور امریکہ کے لیے خدمات انجام دینے والے اور جان کی قربانی دینے والے امریکی فوجیوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ صدر اشرف غنی نے کہا کہ صدر بائیڈن کا انخلا کا فیصلہ تاریخی ہے جس کے بعد ہر ایک نے حالات کا دوبارہ جائزہ لیا ہے اور اس پر غور کیا ہے۔ ہم یہاں اس فیصلے کے احترام اور اس کی حمایت کے لیے موجود ہیں۔
صدر اشرف غنی نے اس سے قبل کیپیٹل ہل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اسپیکر نینسی پیلوسی اور دیگر اراکین کانگریس سے ملاقات کی۔ صدر غنی نے جمعے کو امریکہ کے وزیردفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ پینٹاگان میں ملاقات کی۔ صدر غنی نے وائٹ ہاؤس میں نینسی پیلوسی کے ساتھ ساتھ دیگر اراکینِ کانگریس سے بھی ملاقات کی۔ صدر غنی نے کہا کہ ان کا دورہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان نئی دوستی اور تعلق کا نیا باب ہے۔
سینئر ڈیموکریٹ رہنما نینسی پیلوسی نے افغانستان کے اندر خواتین کو با اختیار بنانے کی کوششوں پر خاتون اول اور صدر غنی کی کاوشوں کو سراہا۔ صدر غنی نے کہا کہ خاتون اول کی یہاں موجودگی کا مقصد افغانستان کی تمام خواتین کی جانب سے امریکہ کا شکریہ ادا کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس پہنچنے سے قبل افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنے وفد کے ساتھ امریکی محکمہ دفاع کے صدر دفتر پینٹاگان کا دورہ کیا اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات کی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ وہ ایک بار پھر باور کراتے ہیں کہ محکمہ دفاع نے افغانستان کے اندر جنگ کے خاتمے کے لیے مذکرات کے ذریعے تصفیے کے لیے بہت محنت کی ہے تاکہ افغانستان میں امن اور استحکام آ سکے۔
امریکی وزیر دفاع نے افغانستان کے لیے سیکیورٹی امداد جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا۔ امریکہ افغانستان کی نیشنل ڈیفینس اور سیکیورٹی فورسز کے لیے اہم نوعیت کی سیکیورٹی معاونت جاری رکھنے کے عزم پر کاربند ہے۔ اور ہم اس ٹرانزیشن کو ایسے نئے تعلقات میں ڈھالیں گے جو آپ کو آپ کے شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داریاں نبھانے میں مددگار ہوں گے۔
ادھر وزیرخارجہ انٹنی بلنکن نے بھی جو یورپ کے دورے پر موجود ہیں، جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ افغانستان سے فوجی انخلا کر رہا ہے لیکن ملک کے مستقبل سے لا تعلق نہیں ہو رہا ہے۔ ہم افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی، معاشی اور ترقیاتی پروگراموں بشمول خواتین اور لڑکیوں کے لیے امداد جاری رکھیں گے۔
بلنکن کے مطابق وائٹ ہاؤس کو معلوم ہے کہ وہاں حقیقی خطرہ موجود ہے۔ اور طالبان ملک پر طاقت کے ذریعہ قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے نئی جنگ شروع ہو سکتی ہیں اور حالات خراب ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
جمعے کے روز کی سربراہ ملاقات سے قبل بائیڈن انتطامیہ نے تصدیق کی کہ وہ ان ہزاروں افغان شہریوں کو دوسری جگہ منتقل کریں گے جنہوں نے جنگ کے دوران مترجم کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔