ناکام خارجہ پالیسی کے افسوسناک اشارے
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 26 / جون / 2021
- 15270
خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی قیادت شدید بے یقینی اور الجھاؤ کا شکار ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے پاس جذبات کی فراوانی توہے اور مسائل کے حل خواب ناک حل بھی موجود ہیں لیکن ملک کو درپیش فوری مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے اس کے پاس کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہے۔
اس صورت حال کا اظہار فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ پر رکھنے کے اعلان کے بعد وزیر خارجہ کے بیان سے بھی ہؤا جن کا دعویٰ ہے کہ گروپ میں شامل کچھ ممالک مسلسل یہ تلوار پاکستان کے سر پر تانے رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی بے یقینی کا تاثر نیویارک ٹائمز کو دیے گئے وزیر اعظم کے تازہ ترین انٹرویو سے بھی ملتا ہے۔ اس انٹرویو میں پاکستان کی مشکلات کو امریکی فیصلوں کا نتیجہ قرار دے کر عمران خان نے مسائل سے راہ فرار حاصل کرنے کی لایعنی اور افسوسناک کوشش کی ہے۔ گویا ملک کے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم یہ دلیل دے رہے ہیں کہ اس کے پاس خارجی اور سلامتی کو درپیش مسائل کا کوئی حل نہیں ہے البتہ دوسرے ممالک اگر اپنا رویہ تبدیل کریں تو وہ مسائل سے نکلا جاسکتا ہے۔
خارجہ تعلقات کے حوالے سے ایسا تجاہل عارفانہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ مشکلات میں گھرے ہونے کے باوجود کسی ملک کی قیادت یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کرتی کہ حالات اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ لیکن پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کو ببانگ دہل یہ اعلان کرنے میں ہی اپنی نجات دکھائی دیتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی وجوہ کی وجہ سے ہؤا ہے۔ اس گروپ میں شامل بعض ممالک مسلسل پاکستان کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں حالانکہ 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یعنی وزیر خارجہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کررہے کہ ان کی حکومت سے کہاں اور کیا کوتاہی ہوئی ہے لیکن وہ ایف اے ٹی ایف اور دیگر ممالک پر الزام لگا کر پاکستانی عوام کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ان کے ملک کو بعض خفیہ مقاصد کی وجہ سے نشانے پر رکھا جارہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا فیصلہ سامنے آنے سے ایک روز پہلے سے ہی یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ اب پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایک ایسے عالمی گروپ کے بارے میں جس کی عمل داری اور اہمیت و حیثیت سے پاکستان انکار نہیں کرتا، قبل از وقت پیشگی اعلان سفارتی طریقہ کار سے متصادم تھا ۔ گروپ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد اب اپنی کوتاہی کو ماننے اور گروپ کی تمام شرائط پر جلد از جلد عمل کرنے کا اعلان کرنے کی بجائے ملک کا وزیر خارجہ اسے سیاسی رنگ دے کر یہ تاثر قوی کررہا ہے کہ اس میں حکومت کا کوئی قصور نہیں ہے بعض دوسرے ممالک ہی ’پاکستان دشمن ہیں‘۔ اس صورت میں تو شاہ محمود قریشی کو یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ اگر ایف اے ٹی ایف سیاسی فیصلے کررہا ہے اور پاکستان کو ٹیکنیکل بنیاد کی بجائے سیاسی نقطہ نظر کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے تو ایف اے ٹی ایف کے ساتھ تعاون کا ڈھونگ کرنے کی بجائے اس بارے میں سفارتی تگ و دو کیوں نہیں کی جاتی؟ اور اگر پاکستان کے سفارت کار اور وزارت خارجہ حکومت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہیں تواس کی ذمہ داری وزیر خارجہ کے علاوہ کس پر عائد کی جاسکتی ہے۔ مخالف مؤقف رکھنے والے ممالک کو دوستانہ رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنا ہی سفارت کاروں کا کام ہے اور اسی ہنر مندی سے ممالک باہمی تعلقات میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان کو ایسا وزیر خارجہ نصیب ہؤا ہے جو دوستی کی بجائے دشمنی بڑھانے میں زیادہ کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ کبھی سعودی عرب کے خلاف بیان بازی ہوتی ہے، کبھی افغان حکومت پر الزام تراشی کی جاتی ہے اور اب ایف اے ٹی ایف کے بعض پر اسرار ممالک کو پاکستانی مفاد کا دشمن بتا کر راستہ کھوٹا کیا جارہا ہے۔
تاہم اس بارے میں شاہ محمود قریشی سے کیا شکوہ کیا جاسکتا ہے جبکہ ان کا وزیر اعظم خود بھی اسی میدان کا شہسوار ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹرز کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اب طالبان پر کوئی اثر و رسوخ نہیں رکھتا کیوں کہ امریکہ نے افغانستان سے انخلا کی ڈیڈلائن دے کر طالبان پر دباؤ ڈالنے کی پاکستانی صلاحیت کو محدود کردیا ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے عمران خان کہتے ہیں کہ ’امریکی اعلان کو طالبان نے اپنی کامیابی سمجھا ہے اور وہ خود کو طاقت ور محسوس کرنے لگے ہیں ۔ ایسے میں وہ پاکستان کی بات کیوں مانیں گے‘۔ یہ منطق دو طرح سے ناقابل فہم ہے۔ ایک اگر سفارتی نقطہ نظر سے طالبان کے ساتھ پاکستان کے مراسم ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور اس میں کمی واقع ہورہی ہے تو بھی وزیر اعظم کو یہ تاثر نہیں دینا چاہئے تھا کہ پاکستان اب لاچار اور مجبور ہے اور طالبان جو چاہے کریں گے۔ ایسی صورت میں امریکہ یا دوسرے متعلقہ ممالک پاکستان کو کیا اور کیوں اہمیت دیں گے؟
اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ طالبان امریکہ کے درمیان ہونے والےمعاہدے کے مطابق امریکہ اس سال مئی تک افغانستان سے افواج نکالنے کا پابند تھا تاہم واشنگٹن میں صدر تبدیل ہونے کی وجہ سے اس میں مزید چند ماہ کی تاخیر واقع ہوئی جس پر طالبان نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ۔ اب پاکستانی وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ اس فیصلہ سے پاکستان کمزور ہؤا ہے۔ گویا پاکستان کی پالیسی اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب دوسرےممالک اس کی صلاح اور مشورے کے مطابق اقدام کریں۔ کیا پاکستانی حکومت اس قدر بے بس اور بے وسیلہ ہے کہ ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے اس کے پاس متبادل موجود نہیں ہوتے۔ دوسرے ملکوں کے فیصلوں سے اپنی کامیابی یا ناکامی کا حساب لگانے کا یہ طریقہ وہی ہے جو شاہ محمود قریشی بھی ایف اے ٹی ایف کے بارے میں اختیار کررہے ہیں۔
انٹرویو کرنے والے نیویارک ٹائمز کے مدیران یارا بیومی اور جیوتی تھوٹم نے عمران خان کے انٹرویو کے تعارف میں لکھا ہے کہ پاکستان کو اس مرحلے پر دو اہم سوالات کا سامنا ہے : 1)اب پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت کیا ہے اور 2) چین امریکہ تصادم کی صورت حال میں وہ کیا پوزیشن اختیار کرے۔
پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ گفتگو میں ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسٹریٹیجک اہمیت کے حوالے سے عمران خان نے طالبان کے سامنے اپنی بے بسی کا قصہ سنانے کے علاوہ یہ واضح کیا کہ وہ نہیں جانتے کہ مستقبل میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم، میں نے اس کے بارے میں سوچا ہی نہیں کہ پاکستان کو امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک مطابقت رکھنی چاہیے‘۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ہم امریکہ کے ساتھ مہذب تعلقات کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ جب استفسار کیا گیا کہ مہذب تعلقات کیا ہوتےہیں؟ تو عمران خان نے امریکہ کے برطانیہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی مثال دی۔ حیرت انگیز طور ان دونوں ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں عسکری تعاون اور اسٹریٹیجک مفادات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان نہ تو امریکہ کے ساتھ عسکری تعلقات کا خواہاں ہے اور نہ ہی وہ علاقائی و عالمی تنازعات میں امریکی حکمت عملی کا حامی ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی وزیر اعظم ’مہذب تعلقات‘ کی خواہش کا اظہار کرکے درحقیقت ساری ذمہ داری امریکی حکومت کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہےہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات یک طرفہ تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے مالی امداد فراہم کی اور پاکستان نے وہی کیا جو وہ چاہتے تھے لیکن اس میں پاکستان کا نقصان ہؤا۔ ان تعلقات کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ پاکستانی حکومتوں نے وہ کام کئے جن کےوہ قابل نہیں تھیں ۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد پیدا ہوا۔ پاکستان کے لوگوں نے محسوس کیا کہ انہوں نے اس تعلق کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے اور امریکہ کا خیال تھا کہ پاکستان نے کافی کام نہیں کیا ہے۔ تاہم ماضی میں غلط کاریوں کی وضاحت کرنے کے باوجود عمران خان یہ بتانے میں ناکام رہے کہ وہ اب امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کس نئی بنیاد پر استوار کریں گے اور دونوں طرف پائی جانے والی بداعتمادی کیسے ختم ہوگی۔ نہ ہی اس گفتگو میں اس بات کا ادراک موجود ہے کہ طاقت ور اور کمزور ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت تک عدم توازن کا شکار رہتے ہیں جب تک ایک ملک مسلسل امداد اور سرپرستی کا خواہش مند ہو۔ پاکستان کا یہ معاملہ امریکہ کے ساتھ بھی رہا ہے اور چین کے ساتھ تعلقات میں بھی یہی عدم توازن دیکھا جاسکتا ہے۔ اسے ختم کرنے کے لئے کسی بھی ملک کو اپنی پالیسیاں واضح اور قابل قبول اصولوں پر استوار کرنا ہوں گی تاکہ وہ اپنےوقار اور مفادات کا تحفظ کرسکے۔ طالبان کےساتھ پاکستان کے تعلقات کی تاریخ سے ہی یہ بات واضح ہے کہ پاکستان نے خارجہ معاملات میں کبھی شفافیت اور دیانت کو اہمیت نہیں دی۔
مدیران کے اٹھائے گئے دوسرے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھاکہ ’مجھے یہ بات بہت ہی عجیب لگتی ہے کہ امریکہ اور چین کیوں بڑے حریف بن گئے ہیں؟ اور ہمیں امریکا یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کیوں کرنا ہے؟ پاکستان، امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف خواہش کا اظہار کسی ملک کی کامیاب خارجہ پالیسی کی ضمانت بن سکتا ہے؟ افغانستان میں حالات کی خرابی اور پاکستان کی حکمت عملی کے بارے میں عمران خان کے جوابات بھی خواہشات اور اندیشوں کا ملغوبہ تھے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ افغانستان میں بدامنی سے ’پاکستان میں ایک بار پھر افغان پناہ گزینوں کا طوفان آئے گا اور تجارت کے ذریعے معیشت کو اٹھانے کی پاکستانی کوششیں متاثر ہوں گی‘۔ ہم نے وسطی ایشیا کے ساتھ بہت اچھے تجارتی معاہدے کئے ہیں لیکن ان پر افغانستان کے راستے سے ہی عمل درآمد ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں بدامنی سے یہ منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔
اس سوال پر کہ پاکستان افغانستان میں استحکام کے لئے کیا کرسکتا ہے؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کے علاوہ ہر ممکن اقدام کریں گے۔ ہمارے معاشرے کے ہر طبقے نے فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان فوجی کارورائی میں حصہ دار نہیں ہوگا۔ ہم نے افغان بارڈر پر باڑ لگا دی ہے۔ اگر طالبان طاقت سے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم بارڈر پر نقل و حرکت کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔
بے بسی ، لاچاری، کمزوری اور دوسروں پر انحصار کا تقاضہ کرتے ہوئے خود داری کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی۔ اس کے لئے حقیقت پسندانہ اور شفافیت کی بنیاد پر استوار حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ تاہم قیادت کو علم ہونا چاہئے کہ وہ یہ مقصد کیسے حل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔