قومی اسمبلی سے 30 کھرب روپے کی گرانٹس منظور
- اتوار 27 / جون / 2021
- 6350
پارلیمنٹ میں بجٹ کی منظوری کو روکنے کے لیے بلند دعوؤں کے باوجود اپوزیشن نے لگاتار دوسرے سال بھی حکومت کو واک اوور دیا۔ یوں 30 کھرب روپے سے زائد گرانٹ کے 49 مالی مطالبات کی منظوری دی گئی۔
حزب اختلاف کے اراکین کی طرف سے کٹوتی کی تجاویز کو اکثریت نے مسترد کردیا۔ اراکین حزب اختلاف کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سمیت اپوزیشن اراکین کی اکثریت ایوان کی کارروائی سے غیر حاضر رہی۔ اس طرح بجٹ اجلاس کے اہم مرحلے کے دوران حکومت نے آسانی سے تجاویز منظور کروا لیں۔
اس دوران اہم حکومتی وزرا بھی غیرمعمولی طور پر ایوان میں دیر تک موجود رہے۔ گرانٹ کے مطالبات کی اکثریت وزیر خزانہ شوکت ترین نے خود پیش کی۔ اپوزیشن کی زیادہ تر نشستیں ویرانی کا منظر پیش کررہی تھیں اپنی طاقت کو جانتے ہوئے بھی اپوزیشن اسپیکر قومی اسمبلی کی ایک رولنگ کو بھی چیلنج نہیں کرسکی۔
پوری دنیا کی پارلیمانی جمہوریہ میں گرانٹ اور کٹ موشن کے مطالبات پر ووٹ ڈالنا بجٹ اجلاس کا ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ اراکین حزب اختلاف کو وزارتوں اور ڈویژنز پر کٹ موشن دے کر حکومت کو مشکل وقت دینے کا موقع ملتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں حزب اختلاف کو حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے کا موقع ملتا ہے۔
حزب اختلاف کے اراکین حکومت کے ساتھ افہام و تفہیم کے ساتھ کلیدی وزارتوں پر کٹ موشن پیش کرتے ہیں۔ ووٹنگ کے دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اراکین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بجٹ پیش کرنے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل شہباز شریف اور آصف علی زرداری سمیت حزب اختلاف کے رہنماؤں نے متعدد مرتبہ اعلان کیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی سے بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔ اور وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جو کچھ بھی کرسکتے ہیں وہ کریں گے۔
شہباز شریف نے اپنی ابتدائی بجٹ تقریر میں اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ حزب اختلاف بجٹ کی منظوری کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'ہم آہنی دیوار بن جائیں گے، ہم اس بجٹ کو منظور نہیں ہونے دیں گے'۔
یہ لگاتار دوسرا سال ہے کہ جب اپوزیشن نے حکومت کو اس طرح کا واک اوور فراہم کیا جبکہ گزشتہ بجٹ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے حکومت کے ساتھ یہ سمجھوتہ کیا تھا کہ اپوزیشن ارکان کٹ موشن پیش کریں گے لیکن وہ انہیں ووٹنگ کے بغیر واپس لے لیں گے۔