جموں میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر دو دھماکے

  • اتوار 27 / جون / 2021
  • 5790

مقبوضہ کشمیر میں جموں کے علاقے میں بھارتی فضائیہ کے ایک اہم ٹھکانے پر یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے ہوئے ہیں۔

عہدیداروں کے مطابق اس واقعے میں بھارتی فضائیہ کے دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت نے ان دھماکوں کا انتہائی سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور واقعےکی تحقیقات قومی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی ( این آئی اے) سے کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ این آئی اے کی ایک خصوصی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے۔

بھارتی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے دھماکوں کی خبر ملنے کے فورا بعد بھارتی فضائیہ کے نائب ایئر مارشل ہرجیت سنگھ اڑورہ سے فون پر بات کی۔ بھارتی فضائیہ کے ذرائع کے مطابق فضائیہ کی چیف ایئر مارشل راکیش کمار سنگھ بھدوریہ صورتِ حال کا خود جائزہ لینے کے لیے اتوار کی سہ پہر تک جموں پہنچ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ کی ایک ٹیم جسے بم ڈسپوزل اسکوارڈ اور فارنزک ماہرین کی مدد حاصل ہے، نے پہلے ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اس واقعے کے بعد پورے بھارتی کشمیر بالخصوص جموں اور وادی کشمیر میں سیویلین اور تکنیکی ایئر پورٹس سمیت تمام فوجی اور دیگر اہم تنصیبات کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جموں کے مضافات میں واقع نروال کے علاقے میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بھارتی فضائیہ نے بتایا ہے کہ جموں کے ایئر پورٹ پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو ایک بج کر بیالیس منٹ پر پہلا دھماکہ ہوا۔ جس سے ایک عمارت کی چھت کو نقصان پہنچا۔ اس کے صرف پانچ منٹ بعد ایک اور دھماکہ کھلے میدان میں ہوا۔ بھارتی فضائیہ نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جموں ایئر فورس اسٹیشن کے ٹیکنیکل ایریا میں اتوار کی علی الصباح کم شدت والے دو دھماکے ہوئے۔

ٹوئٹ کے مطابق ایک دھماکے کی وجہ سے ایک عمارت کی چھت کو معمولی نقصان ہوا جب کہ دوسرا ایک کھلے میدان میں ہوا۔ بھارتی ایئر فورس کی ایک اور ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ساز و سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تحقیقات میں سول ایجنسیوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ دھماکے ڈرونز کی مدد سے کیے گئے ہیں۔

بھارتی فضائیہ اور جموں و کشمیر پولیس دونوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ایئر اسٹیشن پر موجود کسی بھی جہاز یا وہاں نصب آلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ جموں میں بھارتی دفاعی ترجمان لیفٹننٹ کرنل دیوندر آنند کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

صحافی ارون جوشی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دھماکے ڈرونز کی مدد سے کیے گئے ہیں یا یہ داخلی سبوتاژ کے نتیجے میں پیش آئے ہیں، دونوں صورتوں میں یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں ایئر اسٹیشن بھارت اور پاکستان کی سرحد سے صرف چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے 24 گھنٹے سخت پہرے میں رہتا ہے۔ ان کے بقول یہ واضح طور پر ایک سیکیورٹی کمزوری ہے۔

ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ نروال علاقے میں جس مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے، اُس کاتعلق جموں سے ہے اور وہ اس علاقے میں مشکوک حالت میں گھوم رہا تھا۔ جموں و کشمیر پولیس کے ایک عہدیدار ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل مُکیش سنگھ نے بتایا کہ اس شخص کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا۔ جس میں موجود تقریبا پانچ کلو گرام کی  مشتبہ چیز برآمد کی گئی ہے جو دھماکہ خیز مواد ہوسکتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہے اور مشتبہ شخص سے تحقیقات کی جارہی ہے۔