عورت کا استحصال کرنےوالے؟

ہمارے سوشل میڈیا پر ان دنوں خواتین کےلباس پر بحث مباحثے خوب ہو رہے ہیں جن کا آغاز اہم عہدے پر براجمان شخص کے غیر ملکی ادارے کو دیے گئے انٹرویو سے ہوا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین کی کم لباسی مردوں کو زنا پر اکساتی ہے یا جنسی اشتعال دلاتی ہے۔ مرد کوئی روبوٹ نہیں ہیں جو اس نوع کی دلکشی کا اثر نہ لیں۔

ہمارے ملک میں ہی نہیں دنیا بھر میں اس طرح سوچنے والوں کی تعداد کسی طرح بھی ان لوگوں سے کم نہیں ہے جو اس کے برعکس سوچ کے حامل ہیں۔ بظاہر یہ اندا ز فکر اپنے اندر وزن رکھتا ہے۔ جنسی میلان انسانوں کا کائناتی طور پر ایک فطری تقاضا ہے جس سے انکار یا فرار کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے جن لوگوں نے اپنی روحانی ریاضتوں کے ساتھ اس سے فرار یا انکار کی کاوشیں کیں انہوں نے درحقیقت فطرت کے خلاف جنگ لڑی اور بالآخر ان کے پیرو اس غیر ضروری مشقت میں ہار گئے۔ اس سلسلے میں رہبانیت ایک پوری تاریخ ہے بالخصوص دیروکلیسا نے جو جو مشقیں کروائیں ان کا جو انجام ہوا، اس کے ہوشربا اور خوفناک بلکہ شرمناک نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔

اہل کلیسا ودیر ہی کو کیا کوسیں ہمارے اہل حرم یا اہل مدرسہ کی جو داستانیں تاریخ میں رقم ہیں اور جو کہانیاں عصر حاضر کے ترقی یافتہ میڈیا کی برکت سے سامنے آ رہی ہیں، وہ بہت سے پارسائی کے دعویداروں یا نیکو کاروں کو آئینہ دکھانے کے لئے کافی سمجھی جانی چاہئیں۔ درویش نے مقدس ترین مقامات پر سرزد ہونے والے ایسے ایسے واقعات و حقائق کی جانکاری حاصل کر رکھی ہے جن کی تفصیلات بیان کرنے کی اس قلم میں ہمت ہے اور نہ ہمارا روایتی سماج اس کی اجازت دے گا۔ جنس مخالف کی کشش تو رہی ایک طرف، جس میں کسی کو کوئی کلام یا بحث ہی نہیں ہے یہاں تو ان جذبات و احساسات کی بھی اس قدر فراوانی ہے کہ جنہیں غیر فطری قرار دیتے ہوئے ہمارے گلے خشک نہیں ہوتے ہیں۔

ناچیز نے محترم ڈاکٹر جاوید اقبال کی ہدایت پر ایک مرتبہ پنسلوینیا یونیورسٹی کے پاکستانی نژاد پروفیسر ڈاکٹر حفیظ ملک کا فرزند اقبال کے گھر پر انٹرویو کیا تھا تو وہاں اس نوع کی دلچسپ بحث ہوئی۔ پروفیسر صاحب کا فرمانا تھا کہ میں اس سوچ یا الجھن میں ہوں کہ یہاں جسے غیر فطری جذبہ قرار دیا جاتا ہے، وہ انسانی جبلت میں ابتدائے آفرینش سے حاضر و موجود ہے یا اکتسابی یعنی سوسائٹی و ماحول سے سیکھا ہوا یا اخذ کردہ؟۔ اس بحث کی طولانی کس اتفاقی نقطے پر اختتام پذیر ہوئی۔ شاید ہماری سماجی بندشیں اس پر بھی اس سے آگے جانے کی اجازت نہ دے، اس لئے ہم اس غیر مقدس بحث کو یہیں پر ختم کرتے ہیں۔

آج اگر ہم اپنی موجودہ دنیا کے فکری سفر کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ ایک ایسے دریا کی صورت دکھتی ہے جو خشکی و طغیانی کے ساتھ ہمیشہ سے آگے کی طرف چلتا و بڑھتا دکھائی دیا ہے اس میں ان گنت میدانوں اور چٹانوں کے ساتھ نشیب و فراز ہیں جس کا اولین سرا ہمیں معلوم ہے اور نہ آخری۔ کائنات کی بڑھتی ہوئی تہذیبی ترقی اور فکری خوبصورتی کے پس منظر میں یقیناً ہمیں نظریہ ارتقاء پر ایمان لانا پڑتا ہے لیکن ساتھ ہی اس امر پر اظہار افسوس بھی کرنا پڑتا ہے کہ قدامت پسندی پر استوار ماضی کا تقدس بڑھتے ہوئے انسانی شعوری ارتقا کے پاؤں کی بے وجہ و ناجائز زنجیر ہے۔ یہ ناروا تقدس انسانی شعور کو جمود پر آمادہ کرتا ہے۔

اس پس منظر میں انسانی سماج جدت و شدت کے دو دھاروں میں بٹا ہوا ہے ایک طرف روایتی تقدس کے پیروکاران ہیں جن کی سب سے بڑی ڈھارس یا جذبہ محرکہ ان کے غیر متبدل مضبوط عقائد ہیں اور وہ انہیں سوسائٹی کے استحکام اور اخروی کامرانی کا زینہ خیال کرتے ہیں۔ دوسری جانب جدت کے وہ علمبردار ہیں جو روایات اور ان کے تقدس کو انسانی ترقی کا دشمن خیال کرتے ہوئے جڑ وں سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں اور ذرا پروا نہیں کرتے کہ انسانی حال اس کے جیسے تیسے ماضی کے ساتھ اٹوٹ انگ کی طرح جڑا ہوا ہے۔ اچھے مستقبل کی طرف ضرور بڑھنا ہے مگر ماضی سے ناتہ توڑے بغیر ، حکمت و دانائی پر مبنی استدلال کے ساتھ۔

اول الذکر راسخ العقیدہ اقدار و روایات کے امین طبقے کی مشکل یہ ہے کہ قدیم تقدس انہیں ماضی کی کھونٹی سے باندھے رکھنے پر آمادہ رکھتا ہے اور وہ اس چیز کو ایمان و ایقان کی مضبوطی و استواری خیال کرتے ہیں مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی تہذیبی ترقی و آزاد روی کی فطری کشش ان کے اندر چھپے داعیات کو ابھارتی ہے جو اندر خانے عجیب طرح کی منافقت پیدا کر دیتی ہے۔ ایسی سوچ کے حاملین کا اگر تحقیقی نظر سے جائزہ لیا جائے تو اس میں دو رخی واضح طور پر ملاحظہ کی جا سکے گی اور یہی چیز مستقبل میں اس طبقے کی ناکامی و پریشانی کا باعث بنے گی۔ یہ لوگ جو دعوے کریں گے بالفعل ان پر کبھی پورے نہیں اتر سکیں گے۔ ان کا سارا تقدس نظریۂ جبر پر استوار رہے گا جسے سوائے فطرت سے جنگ کے کوئی اور نام نہیں دیا جاسکے گا۔ یہ پرہیز گار ماضی کی اپنی مبینہ اقدار یا جکڑ بندیوں کو چاہے جتنا بھی خوشنما بنا کر پیش کرلیں، زمانے کی بڑھتی ہوئی تنقیدی نظر تمام تر کچا چٹھا کھول کر رکھ دے گی۔

کوئی مرد ہے یا عورت انسانی حقوق اور آزادیوں کا پورا احترام و وقار قائم و دائم رکھتے ہوئے خوشی، مسرت یا سکون حاصل کرنا اس کا فطری حق ہے لیکن کسی دوسرے انسان کا سکون غارت کرکے اپنی خوشی یا کامیابی کا اہتمام آپ کا حق ہرگز نہیں ہے۔ کوئی مرد ہے یا عورت اس کی شناخت یا پہچان ہی اس کے وجود کی علامت اور زندگی کا ثبوت ہے کسی نظریہ تقدس کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس کی شناخت چھینے یا اس کے لباس کی تراش خراش پر اعتراضات اٹھائے۔ اجلے تن پر مان کیا اور من کی میل نہ دھوئی، آپ دوسروں پر انگلی اٹھانے کی بجائے اپنے اندر کی غلاظت کو صاف کریں یہی اکیسویں صدی کا پیغام ہے۔