بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ

  • سوموار 28 / جون / 2021
  • 7330

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب پر نامعلوم افراد نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو پانی فراہم کرنے والے واٹر بوزر پر آئی ای ڈی بم کے ذریعے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا۔

مقامی لیویز حکام کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز ہوشاب کے علاقے شاپک میں پیش آیا۔ پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تربت کے علاقے ہوشاب میں سیکیورٹی فورسز کی واٹربوزر کی گاڑی پانی بھرنے کے لیے کھڑی تھی کہ نامعلوم افراد نے آئی ای ڈی بم کے ذریعے گاڑی کو نشانہ بنایا۔

دھماکے سے ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دشمن ملک کی ایجنسیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو بلوچستان کا امن کسی صورت بگاڑنے نہیں دیا جائے گا اور سیکیورٹی فورسز ان تمام شر پسند عناصر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس دوران اب تک مختلف حملوں میں سیکورٹی فورسز کے 20 سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ یکم جون کو کوئٹہ اور تربت میں فرنٹیئر کور پر حملوں میں چار اہل کار ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے تھے۔ ایک اور واقعہ رواں سال 10 مئی کو پیش آیا۔ جب کوئٹہ اور تربت میں فائرنگ کے دو واقعات میں 3 ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فائرنگ کا پہلا واقعہ کوئٹہ سے تقریباً 70 کلو میٹر دور ہرنائی اور کوئٹہ کے سرحدی مقام مارگٹ میں سرکی کچھ میں پیش آیا۔ حملہ آوروں نے سیکیورٹی پر مامور ایف سی 89 ونگ کی خالد چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں تین ایف سی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔

یاد رہے کہ رواں سال پانچ مئی کو بھی بلوچستان کے ضلع ژوب میں پاک افغان سرحد پر سرحدپار سے کی جانے والی فائرنگ سے ایف سی کے چار اہلکار ہلاک جب کہ چھ زخمی ہوگئے تھے۔ یہ اہلکار پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں مصروف تھے۔

ژوب میں ہونے والے واقعے پر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ افغان سر زمین پر منظم دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے مختلف واقعات کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے دوران جوابی کارروائیوں میں اب تک 10 سے زائد دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے سیاسی اور سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ حالیہ واقعات پر حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ حالانکہ ان کے بقول معلومات کی بنیاد پر بہت سے آپریشنز بھی ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ بھی مارے گئے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ اگر گزشتہ سال کے پہلے 6 ماہ کو دیکھیں تو اس دوران بھی 22 کے قریب ایسے حملے ہوئے اور رواں سال کے چھ ماہ کے دوران بھی ایسے ہی حملے دیکھنے میں آئے اور یہ تقریباً 82 حملے بنتے ہیں، جو کہ بہت بڑا اضافہ ہے۔ شہزادہ ذوالفقار کے مطابق شدت پسندی اور سیکیورٹی فورسز پر حملے روکنے کے لیے صرف فوجی آپریشن اور طاقت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ سیاسی سطح پر بھی مسئلے کا حل نکالا جائے۔

شہزادہ ذوالفقار کے بقول ہمیں یہ یقین نہیں کرنا چاہیے کہ یہ جو واقعات ہو رہے ہیں، کیا واقعی اسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی ہے لیکن یہ ایک تشویش ناک بات ہے اور اس سے یہ لگتا ہے کہ یہ تنظیمیں منظم ہو رہی ہیں۔ معلومات کی بنیاد پر جیسے ہی سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوتا ہے تو کچھ عرصے کے لیے یہ لوگ انڈر گراونڈ ہوجاتے اور ان کی کارروائیاں بھی کم ہوتی ہیں۔ مگر کچھ عرصے بعد یہ تنظیمیں دوبارہ فعال ہونا شروع ہوتی ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور تجزیہ کار محمد عامر رانا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کا تعلق دہشت گرد گروہوں کی استعداد کار سے ہے۔ اس لیے کبھی یہ واقعات کم ہوتے اور کبھی بڑھ جاتے ہیں۔

عامر رانا کے بقول بلوچستان خصوصاً کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کا جو عمل شروع ہوا ہے اس میں تحریک طالبان پاکستان کا عمل دخل زیادہ لگتا ہے۔ جو کارروائیاں مکران ڈویژن میں ہو رہی ہیں، ان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ لیکن اب تک کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا جیسے کہ پی سی گوادر یا کوسٹل گارڈ پر حملے ہوئے تھے۔

عامر رانا کے مطابق لگتا ہے کہ ان تنظمیوں کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے لیکن دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی مؤقف جاننے کے لیے بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔