افغان طالبان کے اہل خانہ پاکستان میں رہائش پذیر ہیں: وزیر داخلہ
- سوموار 28 / جون / 2021
- 6040
پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے اہل خانہ پاکستانی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، جن میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ارد گرد کے علاقے بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے نجی نیوز چینل 'جیو نیوز' کو اتوار کو دیے گئے انٹرویو میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم کے کچھ ارکان مقامی اسپتالوں سے علاج بھی کرواتے ہیں۔ یہ اہم اعتراف پاکستان کے مستقل مؤقف کی نفی کرتا ہے جس میں وہ ہمیشہ افغان رہنماؤں کی جانب سے اس ضمن میں لگائےجانے والے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں کرنے اور جاری رکھنے کے حوالے سے طالبان پاکستانی سرزمین کا استعمال کرتے ہیں۔
اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں کے نام لیتے ہوئے شیخ رشید نے بتایا کہ طالبان کے خاندان یہاں پاکستان کے علاقوں روات، لوئی بیر، بارہ کہو اور ترنول میں رہتے ہیں۔ ان کے بقول کبھی کبھار ان کی میتیں آتی ہیں اور کبھی وہ علاج معالجے کے لیے اسپتالوں میں آتے ہیں۔
ایک طویل مدت سے پاکستان یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ افغانستان سے ملنے والی لگ بھگ 2600 کلومیٹر کھلی سرحد کی وجہ سے شدت پسند باآسانی دونوں ملکوں کے درمیان غیر قانونی نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں لگ بھگ 30 لاکھ افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں۔ جو کہ کبھی کبھار طالبان کے جنگجوؤں کو چھپنے کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔
افغانستان میں کئی سالوں سے جاری تشدد اور افراتفری کی وجہ سے بے دخل ہونے والے متعدد افغان خاندان غربت کے شکار اپنے ملک سے بھاگ نکلے تھے۔
دوسری طرف پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اتوار کو کہنا تھا کہ رواں سال 11 ستمبر کی حتمی تاریخ تک جب امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی تو افغانستان شورش اور افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔ ملتان میں صحافیوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ظاہر ہے اس بارے میں پاکستان کو تشویش لاحق ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ پہلے ہی لگ بھگ 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور پاکستان مزید مہاجرینوں کو پناہ نہیں دے سکتا چونکہ پاکستان معاشی طور پر اس حالت میں نہیں ہے کہ مزید بوجھ برداشت کر سکے۔