مذہبی ریاستوں کا غیر مذہبی انجام

لاہور میں مقیم ایک درویشِ خُدا مست نے جو خُود بھی جالندھر سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے تھے، ایک بار فرمایا تھا کہ: اسلام مسلمان بناتا ہے، پاکستانی یا ہندوستانی نہیں بناتا۔ اور یہ سچ ہے کیونکہ لگ بھگ  بیس کروڑ  مسلمان آج بھی بھارت میں آباد ہیں،   بھارتی شہری ہونے کی وجہ سے وہ دائرہِ اسلام سے خارج نہیں ہو گئے۔

جو مسلمان دنیا بھر میں مختلف غیر سلامی ممالک میں رہتے ہیں، وہ سارے کے سارے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے ویسی ہی وابستگی رکھتے ہیں، جیسے پاکستان کے مسلمان رکھتے ہیں۔  دارالعلوم دیو بند سے لے کر اس دور کے ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب جیسے اسلام کے شارحین  بھارت میں مقیم ہیں  اور جس مشکل میں وہ زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ آپ ہم سب جانتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں سے ہر روز جو سلوک ہوتا ہے،  وہ  کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کوئی سرِ راہ گاؤ کشی کے الزام میں مارا جاتا ہے اور کسی کو آر ایس ایس کے غنڈوں کا ہجوم مار مار کر  زبردستی جے شری رام کے نعرے لگواتا اور پھر  اُنہیں ہلاک کردیتا ہے۔ میں یہاں کشمیر کا حوالہ نہیں دوں گا کیونکہ یہ الگ کہانی ہے۔جہاں تک  نظریہ پاکستان کے اس نقْطے کا تعلق ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ تب دوقومی نظریہ وجود میں آیا  جس کی بنیاد پر مسلمانوں کی الگ ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ ایک مذہبی نظریہ نہیں سیاسی نظریہ تھا۔

سیاسی نظریات وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اور پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ وہ بنگالی مسلمان جنہوں نے ڈھاکہ میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور محمد علی جناح صاحب کو کانگرس سے نکلوا کر مسلمانوں کی  سیاسی  جماعت کی قیادت  سونپی،  اور ایک بنگالی مولوی فضل الحق نے قرار دادِ لاہور پیش کی وہ پچیس برس پاکستانی رہ کر اپنا نظریہ بدل گئے ۔ دوقومی نظریہ مشرقی اور مغربی پاکستان کو جوڑ کر نہ رکھ سکا۔ خیر یہ تو پرانی باتیں ہیں،  مگر  بچے کھچے پاکستان  میں بھی لوگ ایک قوم کی طرح نہیں رہ پا رہے۔  ایسے لگتا ہے سیاسی جماعتیں اس پاکستان کو بھی تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ ممکن ہے  اس بات پر مجھے  شٹ اپ کال دینے والے  میرے لتے لینے لگیں مگر حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کا موجودہ قومی منظر نامہ  اس ملک کو کوئی مستحکم ریاست  ثابت نہیں کرتا۔ سندھی، بلوچی اور پشتون اپنی اپنی قومی تحریکوں کے  رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔  اور  وقتاً فوقتاً ایسے واقعات  رونما ہوتے رہتے ہیں جو یہ عندیہ دیتے ہیں کہ  جئے سندھو، آزاد اور خود مختار بلوچستان اور  عظیم تر  پنجاب کی کھچڑیاں سارے صوبوں کی دیگوں میں پک رہی ہیں۔

 مذہبی فرقہ بندی نے  ملکی وحدت میں اپنی جگہ ایک الگ دراڑ ڈالی ہوئی ہے۔  ایک دوسرے کے قتل کے فتوے جاری کرنا اور کافر کافر کہہ کر لوگوں کو زندگی سے محروم کرنے کی روایت عام ہے اور اس سے زیادہ اذیت ناک امر یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کے بچے اور بچیاں جنسی درندوں کی  مرغوب غذا بنی ہوئی ہیں  اور ہم من حیث القوم اس قبیح فعل کو جڑ سے اُکھاڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ اور اس ضمن میں ففتھ جنریشن  وار کا  تصور اور ٹیکنیک  ملک کو  کس سمت لے جا رہے ہیں ، کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔ سیاسی تقریریں اور  مذہبی خطبات قوم کے دکھوں کا نہ تو مداوا ہیں اور نہ ہی قوم کے لیے کوئی لاٗئحہ عمل  مرتب کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ پاکستانی جمہوریت بے چاری الیکٹ ایبلز کا چارہ بنی ہوئی ہے  جو سرمایہ کاری کر کے اسمبلی اور سینیٹ میں  سیٹ خریدتے ہیں   اور پھر پانچ سال تک  جمہوریت کی بھینس کو دوہتے ہیں اور جاتے جاتے اُس کو ذبح کر کے اس کے پسندے اور چانپیں کھا جاتے ہیں۔

مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہوجانے کے بعد بھوکے بنگالیوں سے تو ہماری جان چھوٹ گئی مگر اُن گدھوں، چیلوں اور جونکوں سے نجات نہیں ملی جو پاکستانی قوم کے خون، گوشت اور پوست پر پل رہی ہیں۔  ملک کے غریب عوام  کو خوشحالی کے سبز باغ دکھا دکھا کر  ملکی دولت لوٹنے اور امیر سے امیر تر اور امیرترین ہو جانے والے  سیاسی  بزرگوں، وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں،  ناجائز منافع خور  تاجروں، پولیس افسروں، نوکر شاہی کے  خونخوار سپوتوں  اور جرنیلوں کی جے ہو  جو  غریب قوم اور اُس کی املاک کو گروی رکھ کر  اپنے اثاثے بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔  آمدن سے زائد اثاثوں کا ذکر چھڑے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم جدی پُشتی کھرب پتی ہیں اور  یہ ہمارا کمایا ہوا دھن ہے جو ہمارے لیے حلال ہے۔ جی ہاں، کیوں نہیں، جنگل کے سارے ہرن، خرگوش، اور چھوٹے جانور شیروں کے قبیلے کی غذا ہوتے ہیں، یہ ساری غریب مخلوق اور ان کی پونجی انہیں لوگوں کی ہے جو جمہوریت کے نام پر ایک غریب قوم کو غلام بنائے ہوئے ہیں۔

 آج کا پاکستانی چند مقتدر اور طاقت ور  اداروں اور سیاسی گھرانوں کا غلام ہے۔  یہ قوم  جو پاکستانی کہلاتی ہے، آزاد نہیں مگر یہاں ہر شخص کو یہ آزادی ہے کہ وہ اپنی مرضی کی اذیت سہتا رہے اور بالآخر کسی خوفناک حادثے کا شکار ہو کر رہائی پا جائے۔ یہاں بدمعاش کو بد معاشی کی آزادی ہے، ملا کو ہم جنس پرستی کی آزادی ہے ، سیاست دان کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کی آزادی ہے،  پولیس کو رشوت خوری اور ہرامخوری کی آزادی ہے اور بیوقوفوں اور جاہلوں کو جہالت اور بیوقوفی کی مکمل اازادی ہے۔  یہ صورتِ حال دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیا مذہب کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ریاستیں ایسی ہوتی ہیں۔ 

دنیا میں اس قسم کی پاکستان سمیت چار ریاستیں ہیں۔ کشمیر، فلسطین، اسرائیل اور  پاکستان۔ پاکستان کی سیاست قائد اعظم کی قبر اور گڑھی خُدا بخش  اور جاتی امرا میں میاں محمد شریف کے مزاروں کے  مجاوروں کی سیاست ہے۔  کشمیر جسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے، پنجہ  مودی میں ہے۔ فلسطین بہتر برس سے خُون کے آنسو رو رہا ہے اور اسرائیل اپنے ملجا و ماویٰ امریکہ اور اُس کے یورپی ہم نواؤں کے بل پر فلسطینوں کو دن رات ذبح کرتا رہتا ہے اور دنیا بھر کے پچاس سے زائد  مسلمانوں کے ممالک فلسطینیوں کو اُن کا حق نہیں دلا سکے۔ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ سن کر آسمان قہقہے برساتا ہے  اور آواز آتی ہے کہ پہلے پاکستان کو تو پاکستان بنا لو ۔ بہتر سال سے ملک کو مہاجر کیمپ بنا رکھا ہے اور تمہاری کوتاہ نظری کی وجہ سے ایک پانچویں قومیت وجود میں آ گئی ہے جو  مہاجر قومیت کہلاتی ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ کل کلاں مسجدوں کے ملا اور مدرسوں کے طالبان ایک چھٹی قومیت بن کر ظاہر ہوں اور  اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کی نئی تفسیر پیش کریں۔  اس طرح معاشرتی انتشار اور مذہبی  طوائف الملوکی کی  جو تصویر ابھر کر سامنے آئے گی وہ  چیخ چیخ کر اقبال کا یہ مصرع الاپے گی:

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائدار ہوگا

کوئی  مانے یا نہ مانے، موجود ہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہے ہی نہیں۔ یہ  ایک بد قسمت قطعِ ارض ہے جس پر ایک آزاد خود مختار، پرامن، ترقی یافتہ اور خوش حال پاکستان کی تعمیر ممکن نہیں ہو سکی۔  اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم سب اور ہم سب میں سے وہ چند لاکھ نفوس جو اس ملک کے وسائل کے بلا شرکتِ عوام مالک ہیں، جنہوں نے ملک کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے پاس گروی رکھا ہوا ہے لیکن ان کے اپنے ذاتی اثاثے محفوظ ہیں۔  لیکن اس کے باوجود  اللہ اُن لوگوں کا بھلا کرے جو ہمیں یہ فلسفہ سمجھاتے نہیں تھکتے کہ پاکستان کا اللہ نگہبان ہے اورقرارداد، پاکستان پر نبی ء اکرم ﷺ کی مہر ثبت تھی مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مشرقی پاکستان جو پاکستان کا اکثریتی بازو تھا اُس مہر کی برکات سے کیونکر محروم ہوا۔

 پاکستان میں بھانت بھانت کے تھنک ٹینک، دانشور بابے اور افلاطون اور سقراط کے پایے کے صحافی موجود ہیں جو دن رات  اپنے اپنے آقاؤں کی قصیدہ گوئی میں مصروف رہتے ہیں اور جو ہر عہد میں حکمرانوں

کے شریکِ کرپشن بھی ہوتے ہیں اور کرپشن کے مال سے باقاعدہ کمیشن وصول کرتے ہیں۔  ایسے میں عام آدمی کا دل عام آدمی کے لیے دکھتا ضرور ہے مگر یہ زبانی جمع خرچ سے کچھ سوا نہیں ہوتا۔  اور نتیجہ یہ ہے کہ ایک پاکستان میں ان گنت پاکستان ہیں  جن میں سے غریب  عوام کے پاکستان کی شناخت مشکل ہے۔  اور پھر جالب اپنے آنسو بہاتا یاد آنے لگتا ہے:

نہ تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان۔  یہ اس کا  پاکستان ہے  جو ۔۔۔ پاکستان ہے