قومی اسمبلی میں فنانس ترمیمی بل 2021 کی شق وار منظوری
- منگل 29 / جون / 2021
- 5470
قومی اسمبلی میں فنانس ترمیمی بل 2021 کی تحریک کثرت رائے کے ساتھ منظور ہونے کے بعد اس کی شق وار منظوری جاری ہے۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا اور وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیمی بل پر اپوزیشن نے سخت مخالفت کی۔ فنانس ترمیمی بل کی تحریک کے حق میں 172 مخالفت میں 138 ووٹ پڑے جس کےبعد قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ نے بل کی شق وار منظوری کے لیے مسودہ پڑھ کر سنایا۔
اس کے بعد قومی اسمبلی میں فنانس بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوگیا۔ اپوزیشن ترامیم کو ووٹنگ کے بعد مسترد کردیا گیا۔ فنانس بل میں ترمیم کے ذریعے نئی شق کا بھی اضافہ کیا گیا۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بجٹ پر تنقید کے جواب میں کہا کہ یہ اعداد و شمار رکھے ہیں اور ہم کرکے دکھائیں گے کیونکہ ہم صرف باتیں کرنے والوں میں سے نہیں ہیں عملی اقدام بھی اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مہنگائی کی بات کی جائے تو مہنگائی کی شرح 7 فیصد ہے اور سابقہ حکومتوں کے وقت بھی 7 فیصد تھی لیکن خوارک پر مہنگائی بڑھی ہے کیونکہ سابقہ حکومتوں نے زراعت کے شعبہ میں سرمایہ کاری نہیں کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چینی اور دیگر اشیا ضروری امپورٹ کرنی پڑتی ہیں اور عالمی منڈی میں مہنگائی کی شرح گزشتہ 10 برس میں اتنی نہیں تھی جتنی آج ہیں۔ خوراک سے متعلق مہنگائی کا صرف ایک ہی حل ہے کہ اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ مالی سال 2018 میں زراعت کے لیے ایک ارب 60 کروڑ روپے رکھا گیا تھا جبکہ موجودہ بجٹ میں 63 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے والے پیپلز پارٹی کے لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ آج غریب کے لیے ادویات خریدنا مشکل ہے اور حکومت کی جانب سے ہیلتھ کارڈ تقسیم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس ایوان میں کہہ رہا ہوں کہ ہیلتھ کارڈ کا بہت بڑا اسکینڈل سامنے آئے گا۔ جو کام ہورہا ہے اور ہسپتال اور 'بندے' کے درمیان ہے۔ ادویات 500 فیصد مہنگی ہوگئی ہیں، بغیر کسی خوشامد کے کہوں گا کہ طبی سہولیات فراہم کرنے میں سندھ کو لاکھ مرتبہ سلام ہے۔
خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ کے ہسپتالوں میں افغانستان سے مریض آتے ہیں، لاکھوں کے آپریشن یہاں مفت ہوتے ہیں اور ان سے ان کا شجرہ نصب نہیں پوچھا جاتا۔ زراعی شعبے میں تحقیق کا فقدان پہلے سے ہے اور اب کھاد کسان کی قوت خرید سے باہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید تھی کہ وزیر خزانہ ٹیکس فری بجٹ دیں گے، موجودہ حکومت بھاری ٹیکس لگا کر بجٹ پاس کررہی ہےاور بعد میں پریشان ہوتے پھریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں جیل میں ہوں کیونکہ ہم نے پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی رہنما ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کی باتوں، دعوؤں اور فنانس بل میں تضاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئل ریفائنریوں کو جو مراعات دی گئی تھی وہ واپس لے لی گئی ہیں جبکہ ٹیکسیشن کے نظام کو سہل بنانا پڑے گا کیونکہ ملک میں کاروبار کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے کے واقعات بڑھ جائیں گے اور انکم ٹیکس سے متعلق ترامیم ٹیکسیشن کے نظام کو مشکل بنا دیں گی۔