پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت
- تحریر مظہر چوہدری
- منگل 29 / جون / 2021
- 9740
افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وزیراعظم عمران خان پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت میں اہم تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان امریکہ سے مہذبانہ بنیادوں پر ایسے تعلق کے خواہاں ہیں جیسے امریکہ اور برطانیہ یا امریکہ اور بھارت کے درمیان قائم ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کاعمیق جائزہ لیا جائے تو یہ کبھی بھی امریکہ اور برطانیہ یا امریکہ اور بھارت جیسی مہذبانہ بنیادوں پر استوار نہیں ہوئے۔دو ملکوں کے تعلقات باہمی اعتماد واحترام پراسی صورت استواررہ سکتے ہیں جب دونوں برابری کی سطح پر رہتے ہوئے اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہوں۔پاک امریکہ تعلقات میں شروع دن سے ایسی برابری دیکھنے میں نہیں آئی۔شروع دن سے ہم امریکہ سے معاشی امداد کے حصول کے علاوہ دفاعی و عسکری شعبوں میں تعاون کے خواہاں رہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک مختلف ادوار میں امریکہ پاکستان کو مجموعی طور پر تقریبا70ارب ڈالر کی اقتصادی و فوجی امداد دے چکا ہے جس میں سے 33ارب ڈالر کی امداد صرف گزشتہ 18 سالوں کے دوران دی گئی۔انگریزی میں کہتے کہ کہ دنیا میں کہیں بھی فری لنچ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔اگر کوئی مستقل بنیادوں پر آپ کو فری لنچ کرواتا ہے تو اس کے بدلے میں وہ کسی نہ کسی شکل میں آپ سے کام تو لے گااور یہی کچھ پاک امریکہ تعلقات میں ہوتا آیا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد ہمارے پاس اس وقت کی دو عالمی طاقتوں روس اور امریکہ کے کیمپوں میں جانے کے علاوہ غیر جانب دار رہنے کا آپشن بھی تھا لیکن ہمارے حکمرانوں نے شروع میں مشکل وقت کاٹنے کی بجائے فوائد سمیٹنے والا آسان راستہ اختیار کیا۔ روس کو نظر انداز کر کے امریکہ کے کیمپ میں جانے کا بنیادی مقصد معاشی امدادکا حصول اور علاقائی سالمیت وخودمختاری کے دفاع کے لیے سہاراڈھونڈنا تھا۔ امریکی دفاعی نظام سے وابستگی اور دفاعی معاہدوں میں شمولیت سے پاکستان کو امداد بھی ملنے لگی، جدید اسلحے کے حصول کے نتیجے میں ملک کا دفاع مضبوط ہوتا گیا لیکن دفاعی معاہدوں میں شرکت کی وجہ سے قوموں کی برادری میں پاکستان کا شمار محض امریکی حاشیہ بردار ملک کے حوالے سے ہونے لگا۔امریکی بلاک سے وابستگی کی سزا میں روس نے ایک طرف سلامتی کونسل میں کشمیر سے متعلقہ قراردادوں کو ویٹو کر کے کشمیر ایشو کو سردخانے میں ڈالنے کا کام کیا تو دوسری طرف روس نے افغان پالیسی سے ہم آہنگی کا اظہار کر کے پختونستان کے مسئلہ کو ہوا دی۔
ہم آج شکوہ کناں ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے پاکستان کو مالی و جانی طور پر شدید نقصان برداشت کرنا پڑا لیکن ٹھنڈے دماغ سے غور کریں تو تقریباًہر دور میں امریکی مفادات کے تحفظ کے بدلے میں ہم مختلف نوعیت کے نقصانات اٹھاتے رہے ہیں۔ایوب، ضیاء اور مشرف میں سے ہر ایک نے امریکہ سے کچھ لو کچھ دو کی پالیسی کے تحت دس دس سال تک حکومت کی۔ایوب خان نے سویت یونین کی جاسوسی کے لیے پشاورر ائیر پورٹ امریکہ کے حوالے کئے رکھا توضیاء الحق نے سویت یونین کو توڑنے کے لیے پورا ملک ہی سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔ اسی طرح مشرف نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کر کے امریکہ کی خوشنودی حاصل کی۔ضیاء کی آمریت میں کیمونسٹ سویت یونین کو نیست و نابود کرنے کی غرض سے لڑئی جانے والی امریکی پراکسی وار سے پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی بنیادیں مضبوط ہوئیں تو مشرف دور میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی ایک اور امریکی پراکسی وار ہمیں دہشت گردی کی دلدل میں پھنسا گئی۔
گزشتہ سات دہائیوں میں امریکی صدور کے دوروں کے اغراض و مقاصد اور ٹائمنگ پر گہری نگاہ ڈالنے سے بھی پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک صرف پانچ امریکی صدور نے پاکستان کا باضابطہ سرکاری دورہ کیا ہے اور دلچسپ و حیران کن حد تک امریکی صدور کے یہ پانچوں دورے فوجی حکومتوں کے ادوار میں ہوئے۔ آئزن ہاور دسمبر 1959 میں پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر تھے۔اس دورے میں پاکستان کا کیمونسٹ سویت یونین کے خلاف استعمال جاری رکھوانے کے لیے امریکہ پاکستان کے ساتھ نسبتا جامع اور موثر دفاعی معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔دوسری بار امریکی صدرکی پاکستان آمد اس وقت (دسمبر1967) ہوئی جب پینسٹھ کی جنگ میں امریکی رویے سے دلبرداشتہ پاکستان کا جھکاؤ روس کی جانب ہو رہا تھا۔یحیی خان کے دور آمریت (اگست 1969) میں امریکی صدر نکسن کے دورہ پاکستان پر آنے کا مقصد چین سے سفارتی تعلقات کا آغاز کرنے کے لیے پاکستان کی مدد کا حصول تھا۔پرویز مشرف کے دور آمریت کے آغاز (مارچ2000) میں بل کلنٹن کا پانچ گھنٹے کا مختصر دورہ کرنے کا مقصدمشرف کو نواز شریف کی پھانسی جیسے انتہائی اقدام سے باز رکھنے کا دو ٹوک پیغام دیناتھا۔ مارچ 2006میں پاکستان کا ایک روزہ دورہ کرنے والے جارج بش پانچویں امریکی صدر تھے جنہوں نے اپنے دورے میں پاکستان کو اہم اتحادی قرار دینے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ سات دہائیوں میں کچھ لو کچھ دو کی حکمت عملی کے گرد استوار رہے ہیں۔مختلف ادوار میں ملنے والی اقتصادی امداد اور دفاعی تعاون کے عوض ہم امریکی مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملک کے بڑے اب افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے مفادات کا مزیدتحفظ کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اختیار کی گئی حکمت عملیوں اوراٹھائے گئے اقدامات سے ملک کو مالی و جانی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑا لیکن اس حوالے سے امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان خلوص نیت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیتا تو بہت عرصہ پہلے طالبان کی کمر ٹوٹنے کی صورت میں پاکستان کو یہ نقصانات اٹھانے ہی نہ پڑتے۔
تلخ حقائق یہ ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور پاکستان کی سوچ اور ترجیحات میں واضح فرق رہا ہے۔ ارباب اقتدار کا امریکہ سے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا عزم خوش آئند تو کہا جا سکتا ہے لیکن ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دہائیوں پر مشتمل کچھ لو کچھ دو کی حکمت عملی پر استوار پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت فوری طور پر تبدیل نہیں ہو سکتی۔امریکہ سے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمارا معاشی طور پر مضبوط ہونا ناگزیر ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوائی اڈوں سمیت دیگر معاملات پر جذباتی بیان بازی سے گریز کرتے ہوئے امریکہ کو اپنی مشکلات موثر انداز میں بتائی جائیں۔امریکہ مخالف بیانات دینے سے ایف اے ٹی ایف اور مالیاتی اداروں کا دباؤ مزید بڑھنے کی صورت میں ہماری مشکلات میں اضاٖفے کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔