مقبوضہ کشمیر میں مودی کا ناکام ڈرامہ
- تحریر سلمان عابد
- منگل 29 / جون / 2021
- 5680
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی پر داخلی اور خارجی دونوں سطحوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں اختیار کی جانے والی سیاسی، انتظامی اور طاقت کی پالیسی میں تبدیلی کے تناظر میں دباؤ کا سامنا ہے۔کیونکہ بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ جو کچھ مقبوصہ کشمیر کی صورتحال ہے وہ عملی طور پر مودی حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔
دنیا اور بالخصوص میڈیا و انسانی حقوق کے ادارے مسلسل مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی پامالی پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ اسی دباؤ میں نریندر مودی کو مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی نواز قیادت سے مفاہمت پر مجبور کردیا ہے۔ پچھلے دنوں نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی بھارت نوازآٹھ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی 14 اہم راہنماؤں نے ملاقات کی ہے۔2019کے انتخابات کے بعد نریندر مودی کی کشمیر کی قیادت کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ملاقات میں فاورق عبداللہ، عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی بھی شامل تھے جو پانچ اگست 2019میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے کی آئینی شق ختم کرتے ہوئے نظربند کردیا کردیا تھا۔
یقینی طور پر نریندر مودی کی حکومت مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز قیادت کو راضی کرکے کوئی ایسا مفاہمتی عمل آگے بڑھانا چاہتی ہے جو حکومت اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو قابل قبول ہو۔یہ ہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے اس کانفرنس سے فوری نتائج کے حصول کے لیے حریت قیادت کو نظرانداز کیا۔اس ملاقات سے مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ ان کی بڑی سیاسی ترجیح میں حلقہ بندی سمیت فوری انتخابات کا انعقاد،نچلی سطح پر جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے۔جبکہ اس کے برعکس بھارت نواز کشمیر ی قیادت نے مودی حکومت کے سامنے صورتحال کی بہتری کے تناظرمیں پانچ مطالبات رکھے ہیں۔ اول ریاست کا درجہ بحال کرنا، دوئم جمہوریت کی بحالی کے لیے اسمبلی کے انتخابات کروانا، سوئم مقبوضہ کشمیر میں کشمیر پنڈتوں کی بحالی،چہارم تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی، انسانی حقوق کی پامالی کو روکنا اور کرفیو کا خاتمہ،پنجم ڈومیسائل جیسے اہم مطالبات شامل تھے۔
کشمیر ی لیڈر غلام نبی آزاد، فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ کے بقول ہم پانچ اگست2019 کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔جبکہ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی پر واضح کردیا کہ پانچ اگست2019کے بعد یہاں کے لوگ بہت مشکلات میں ہیں، وہ ناراض، پریشان اور جذباتی طور پر بکھرے ہوئے ہیں اور خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی طور پرآرٹیکل 370کی منسوخی کا طریقہ قبول نہیں اور نہ ہی وہ قبول کریں گے بلکہ ان لوگوں کی عملی طور پر مزاحمت کاعمل جاری رہے گا۔
یقینا جو موقف بھارت نوازکشمیر ی قیادت نے نریندر مودی،اجیت ڈول اورامیت شاہ کے سامنے اختیار کیا وہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی دھچکہ سے کم نہیں۔ مودی حکومت کا جو خیال تھا کہ وہ کسی نہ کسی حکمت عملی سے بھارت نواز کشمیر ی قیادت کو سیاسی طور پر رام کرسکیں گے وہ فی الحال ممکن نہیں ہوسکا۔کشمیر ی بھارت نواز قیادت کو لگتا ہے کہ نریندر مودی حکومت پہلے اسمبلی کے انتخابات اور پھر ریاستی حیثیت کی بحالی پر غور کرنے کی بات کرکے معاملات میں ٹال مٹول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی جو کہتے تھے کہ اب کسی بھی صورت میں ریاستی حیثیت کی بحالی پر تیار نہیں تھے وہ سیاسی یوٹرن لے کر انتخابات کے بعد غور کرنے کی بات کرکے کشمیر ی قیادت کو سیاسی لالی پوپ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔بہت سے سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی حکومت جو مقبوضہ کشمیر میں نیا مفاہمتی پیکج پیش کرنے کی بات کررہی ہے وہ عملی طور پرامریکی دبا ؤکا نتیجہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نواز کشمیری قیادت نے نریندر مودی سے ملاقات سے قبل یہ مطالبہ پیش کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ اس ملاقات میں ہمارے سمیت کشمیر ی قیادت جو اہم فریق ہے اسے بھی ملاقات کا حصہ بنایا جائے۔اب دیکھنا ہوگا کہ نریندر مودی کی حکومت نے جو بڑا سیاسی جال بھارت نواز کشمیر ی قیادت پر مفاہمت کے نام پر ڈالا ہے اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔کیا کشمیری قیادت آسانی سے مودی کے جال میں پھنس جائے گی یا وہ مودی حکومت کے خلاف اپنی سخت مزاحمت کی مدد سے ان کو مجبور کرے گی کہ وہ پہلے ان کے مطالبات کو تسلیم کریں، وگرنہ بات آگے نہیں بڑھے گی۔ یہاں بھارت نوازکشمیری قیادت کا بھی امتحان ہے کہ وہ کس حد تک اپنے موقف پر قائم رہتی ہے۔بنیادی طورپر نریندر مودی کی حکومت نے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ہم اس وقت کشمیر ی قیادت کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ جو ڈیڈلاک ا س وقت دہلی اور کشمیری قیادت میں پیدا ہوچکا ہے اسے ختم کرنے کی طرف پیش رفت کررہے ہیں۔لیکن اس ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونا ظاہرکرتا ہے کہ یہ ملاقات کوئی بڑا سیاسی بریک تھرو نہیں دے سکی۔
بنیادی طور پر اس وقت نریندر مودی کی حکومت پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ایک بڑے خوف کا منظر پیش کررہی ہے۔کیونکہ مودی حکومت کو محض مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں یا حریت کانفرنس کے لوگوں سے ہی خطرہ نہیں بلکہ وہ لوگ جو کل تک دہلی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے وہ بھی دہلی پراعتماد کھوچکے ہیں۔مودی حکومت کو سب سے بڑا دھچکہ اسی بھارت نواز قیادت سے ہے جو کل تک تمام تر مسائل کے باوجود دہلی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے، لیکن اب ان کے دہلی سے سیاسی فاصلے بڑھ رہے ہیں۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں جاری ہے اس نے بھی عالمی میڈیا یا انسانی حقوق کے نظام میں سیاسی طور پرتنہا کردیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی مودی پالیسی پر خود بھارت کے کئی حلقوں او راہم سیاسی فریقوں سمیت میڈیا پر تنقید ہورہی ہے، بھارت میں موجود مختلف لوگوں کا انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ بیانیہ بڑھ رہا ہے کہ مودی حکومت کی کشمیر پالیسی درست نہیں۔دراصل بھار ت میں کرونا کے بحران کے تناظر میں جو مشکلات سامنے آئی ہیں او رجس انداز سے لوگوں کو معاشی بدحالی سے گزرنا پڑاہے اس نے مودی حکومت کو سیاسی طور پر تنہا کردیا ہے۔مودی حکومت پر تنقید مسلسل بڑھ رہی ہے او رلوگوں کو لگتا ہے کہ مودی حکومت عوام کو آسانیاں دینے کی بجائے ان کی زندگی میں مشکلات کو پیدا کرنے کاسبب بن رہی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت جو بھارت کی چین کے ساتھ کشیدگی ہے وہ بھی حکومت کو مجبور کررہی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنی سیاسی دھٹائی سے باہر نکلے۔
نریندر مودی حکومت خود سے کوئی ایسا فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں جو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اس کی پسپائی کو ظاہر کرے یا اس کی حکومت کی کمزوری کا پہلو نمایاں ہو۔مودی حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ مفاہمت کے نام پر دہلی حکومت کے ساتھ کشمیری قیادت کو ہر صورت میں جوڑے رکھے تاکہ اس پر جو داخلی اور خارجی دباؤ ہے اسے ہر صورت میں کم کیا جاسکے۔نریندر مودی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں اب اس کی روائتی اور طاقت کی سیاست زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گی۔ آج نہیں تو کل اسے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سیاسی لچک دکھانا ہوگی۔ کیونکہ مقبوضہ کشمیر بہت بدلا ہوا ہے او رجو کچھ پچھلے عرصہ میں بھارت نے کیا ہے یا کررہا ہے اس کا سخت ردعمل مقبوضہ کشمیر کی عملی سیاست کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارت نواز سیاسی قیادت مودی حکومت کی سیاسی چال کا شکار ہونے کی بجائے خود کو مضبوط اور مودی حکومت کو مجبور کرے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں موجود سیاسی بے چینی،انسانی حقوق کی پامالی کہ خاتمہ میں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔