مسئلہ افغانستان کا تکنیکی و سیاسی تناظر
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 29 / جون / 2021
- 6330
گزشتہ ہفتے پیرس میں پاکستان کو گرے لسٹ اور نیویارک میں افغانستان پر بڑے دور رس فیصلے ہوئے ہیں۔پا کستان کی حکومت کے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات میں سے 26 پر عمل کرنے کے باوجود گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جوازنہیں ہے جس سے لگتا ہے یہ فورم تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔
پا کستان پر دباؤ رکھنے کیلئے گرے لسٹ کی تلوار لٹکا رکھی ہے۔اس فیصلے کا اعلان فنانشیل ٹاکس فورس کے صدر ڈاکٹر مارکس پرئیر نے جس پر حکومت اور میڈیا میں کافی ہلچل مچی ہے مگر اس کی بنیادی وجوہات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسے بھارت کی سازش قرار دیا گیا ہے۔حکومت کو اس بات پر فخر ہے کہ 26 نکات پر عملدرآمد کو سراہا گیا ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق دہشت گردوں کے نیٹ ورکس، ان کے اثاثے منجمند اور ان کے سہولت کاروں کو سامنے نہ لانے اور قانون کے تحت سزائیں نہ دینے کی وجہ سے ایک سال کیلئے گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ گروپس اور تنظمیں خود کو بچانے کیلئے نئے ناموُں اور انہی شخصیات کی قیادت میں مذہبی ووٹ،زکوۃ اور چندہ وخیرات وصول کر رہی ہیں جسے بعد میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ اور دہشت گردی کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔
سیاسی جماعتیں، مذہبی تنظمیں، ڈاکٹر، وکیل، این جی اوز ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے ہیں۔ اب تو تعمیرات میں سرمایہ کاری کرنے والے کو ایمبنسٹی دی گئی ہے جس سے کالا دھن چاہے کسی طریقہ سے کمایا گیا ہو اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گااس پر بارے میں فورم کے تحفظات ہیں۔ نئے ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکام ہوئے تو سخت اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جوکہ جرمانوں کی صورت میں ہوسکتے ہیں۔ ان اثاثے چھپانے والوں کو منظر عام اورکارروائی کرنے کیلئے ایف بی آر،آئی اینڈآئی (اُنٹیلی جنٹ انویسٹی کمیشن اور ان لینڈ ریونیو کمیشن) کے تحت ڈی این ایف بی پی تشکیل دے چکاہے۔ اب تک پچاس ہزار کے قریب ر ئیل اسٹیٹ ایجنٹوں، جیولرز، اکاؤنٹس اور وکلا کو نوٹس بھیجے جا چکے ہیں انہیں انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت جواب جمع کروانے کا کہا گیا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان نے 635 کالعدم دہشت گردی اور منی لانڈرنگ میں ملوث تنظمیو کی لسٹ دی تھی ان میں لشکر طینہ، جیش محمد،جماعت الدعوہ،حقانی نیٹ ورک فلاح انسانیت وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے خلاف فورم کی ہدایات کے مطابق عمل نہیں ہوا ہے۔یہ سب پرانی باتیں ہیں۔ ماضی میں جہاد افغانستان کے نظر یہ ضروت کے تحت انہیں پروانُ چڑھا یا گیا۔یہ سب ہماری پرانی اسٹریجیک حکمت عملیوں کا کرا دھرا ہے جس کاانجام آج تک قوم بھگت رہی ہے۔
امریکہ افغانستان سے مسئلے کا سیاسی حلُ ڈھونڈے بغیر رخصت ہو رہا ہے۔پاکستان اس صورتحال سے خوش نہیں ہے کیونکہ طالبان کا کابل پر قبضہ مختلف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان خانہ جنگی اور مقامی آبادی کی مہا جرت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔امریکہ نے افغانستان میں اینے مقامی سپو رٹرز کو بیرون ملک منتقل کرنا شروع لردیا ہے جبکہ تعلیم یافتہ افغان طا لبان کی خواتین اور بچوں کی آزادی اور حقوق کی تنگ نظری کے باعث یہاں رکنے لیلئے تیار نہیں ہیں۔یہ اب سرد جنگ کا زمانہ نہیں ہے امریکہ اور چین کی اپنی ترجیحات ہیں جن کے درمیان پاکستان سینڈوچ بنتا ہوا دیکھائی دیتا ہے۔ہمُ نے امریکہ کو اڈے دینے سے انکار دیاہے کیونکہ ہم طالبان کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتے۔چین بھی افغانستان میں ایسی حکومت نہیں جاتا ہے جو داخان کی پٹی کے راستے سنکیانگ کی مسلمان آبادی کو دخل اندازی کرکے مخالفت پر اکسائے۔بھارت کی افغانستان میں سرمایہ کاری اور شمالی اتحاد سے قریبی تعلقات ہیں۔ ہم ماضی میں طالبان کی سپورٹ کے باجود ان کو ہم نوا نہیں بنا سکے ہیں۔ اب ہماری افغان جہاد دوران پیداکی گئی نظریاتی ہم آہنگی مٹ چکی ہے۔ اور نہ ہم طالبان پر دباؤ ڈالنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
امریکہ نے افغان میں ابھرنے والے منظرنامے کے بارے میں ہم سے رابطہ کیا ہےُ۔اس کی نئی ترجیحات میں چین کے معاشی مفادات کو محدوو کرنا اور مشرق وسطی کے مسائل ہیں۔ماضی میں امریکہ اور پاکستان کے افغانستان کے حوالہ سے سرد جنگ اور 9/11 کے بعد یکساں رہے ہیں۔اب بھی دونوں ملک متفقہ جہوری حکومت کے قیام کے حامی ہیں مگر کوئی حکمت عملی طے کرنے کیلئے پیش رفت نہیں ہورہی ہے۔ دوسری امریکہ نے آج ایران کی حامی عراق میں موجود ملیشیا پر بمباری کی ہے۔طالبان کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ وہ القاعدہ سے مل کر پورے افغانستان پر قبضہ کرسکتی ہے۔پاکستان کے میڈیا اوران کے دائیں بازو کے مسلکی اور نظریاتی حامی ایساہی تاثر دے رہے ہیں کہ فتوحات کا سلسلہ جاری ہے مگر اس بارافغان عوام نے طالبان کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ پکتیا اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو افغان افواج کے ساتھ مل کر طالبان کے لڑنے کا کہا جارہاہے۔
پاکستان کیلئے امریکہُ اور چین کے درمیان تعلقات کا متوازن رکھنا اور ہمسائے افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنا ایک بڑا امتحان ہوگا -امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اشرف غنی سے ملاقات کی ہے۔جس میں عبداللہ عبداللہ بھی شامل تھے۔ امریکی صدر نیامریکی اور نیٹو افواج کے اُنخلاکوجولائی میں مکمل ہونے کا عندیہ دیا ہے -ُصرف چھ یا سات سو ٹروپس امریکی سفارتخانے کی حفاظت کیلئے کابل میں موجود رہیں گے۔ سیکورٹی، معاشی اور معلوتی شیئرنگ جاری رہے گی،سیکورٹی کیلئے3.3 ارب ڈالر دئیے جائیں گے۔امریکی خارجہ سیکریڑی نیافغاُنستان کو دوبارہ دہشت گردی کا اڈا بننے سے روکنے اور طالبان کے بزور طاقت کابل پر قبضے کے بارے میں سخت پوزیشن لی ہے۔ طالبان کابل پر نہیں بیشتر افغانستان پر قابض ہو جائیں گے جس سے سی ٹی پی کو تقویت ملے گی۔ اندرونی افغان گروہوں کے درمیان خانہ جنگی ہوگی پاکستان کے قبائلی علاقوں پر دباؤ بڑھے گا مہاجریُن کے ساتھ دہشت گردی کا عفریت سر اٹھائے گا جن افغان طالبان کو بیس برس تک پاکستان میں پناہ دینے کا اعلان ہے۔ وہ فاتح بن کر ابھریں گے الزام ہم پر آئے گا کہ امریکہ کو اڈے نہیں دئیے تو ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ہماری قیادت ایران سعودی عرب امریکہ اور چین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرتی ہے مگر اپنے ہمسائیوں کے ساتھ کبھی بہتر تعلقات نہیں رکھ سکی ہے۔ طالبان کی قبائلی ضد اور تنگ نظری جہاد کو جاری رکھے گی اور امیر کو دنیا سے ٹکرا جانے کا کہے گی۔ ان کی لپیٹ میں ان کے مسلکی حامی آئیں گے گے۔ یوں بھی مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور رجعت پسند جماعتیں ان کے نظام حکومت کو سراہتی تھیں۔ پاکستان کبھی ایسی خارجہ اختیار نہیں کرے گا جس وہ بین الاقوامی طور پر تنہا ہو جائے اور نہ ہی کسی مہم جوئی میں حصہ لے گا۔ آج حکومت بلآ خر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ساتھ افغان ایشو پر بات کرنے کا فیصلہ کیاہے تاکہ کوئی متفقہ لائحہ عمل بنایا جائے۔ بہت دیر کردی مہربان آتے آتے۔