قومی اسمبلی کا اجلاس: شاہ محمود، بلاول بھٹو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

  • بدھ 30 / جون / 2021
  • 6670

پاکستان پیپلز پارٹی  کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان قومی اسمبلی میں ہونے والی نوک جھونک اور طنزیہ جملوں کے تبادلے کا معاملہ سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شاہ محمود قریشی کی تقریر کے بعد اُنہوں آڑے ہاتھوں لے لیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے کہیں کہ وہ شاہ محمود قریشی کا فون ٹیپ کرے۔ کیوں کہ جب وہ پیپلزپارٹی کے دور میں وزیرِ خارجہ تھے تو دنیا بھر میں لابنگ کرتے تھے کہ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ہٹا کر اُنہیں یعنی قریشی کو وزیرِ اعظم بنا دیا جائے۔

یہی وجہ تھی کہ اُن سے وزارتِ خارجہ واپس لے لی گئی۔ خیال رہے کہ شاہ محمود قریشی 2008 سے 2011 تک پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں وزیرِ خارجہ تھے۔ بعدازاں وہ پیپلزپارٹی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔ بلاول بھٹو کے الزامات کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج اس بچے کو تقریریں لکھ کر دے دی جاتی ہیں اور وہ پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔ میں بلاول بھی اور ان کے والد کو بھی جانتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ قوم کے 172 نمائندوں نے نئے بجٹ کے حق میں ووٹ دیا۔ ووٹ کو بالکل عزت دینی چاہیے۔ اپوزیشن کی طرح حکومت والے بھی ووٹ لے کر آئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے رولز کی بات کی۔ رولز کے مطابق اسپیکر کی ذات پر حملہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسپیکر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر چیمبر میں جا کر بات ہوتی ہے، ایک سابق وزیرِ اعظم سب کے سامنے اسپیکر کو دھمکی دیتا ہے۔

شاہ محمود نے کہا کہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ سندھ کا وزیرِ خزانہ بجٹ بحث سمیٹے بغیر چلا گیا۔ کیا سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہے۔ یہ آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ شور شرابے اورغل غپاڑے سے ہمیں دبایا نہیں جا سکتا اگر عمران خان نہیں بولے گا تو بلاول اور شہباز بھی نہیں بولیں گے۔

شاہ محمود قریشی کی تقریر کے ردِعمل میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ملتان کے وزیر نے میرا بار بار نام لیا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا، کیوں کہ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ کس شخصیت کے مالک ہیں اور بہت جلد وزیرِ اعظم عمران خان کو بھی پتا چل جائے گا کہ یہ کیا چیز ہیں۔ بلاول نے کہا کہ ان کا نام اس لیے نہیں لوں گا کہ میں ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور ان کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس نے کشمیر کا سودا کیا۔ یہ وہی ملتان کے وزیر ہیں جن کو جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے دیکھا، اسی وزیر کو ’اگلی باری پھر زرداری کہتے‘ بھی دیکھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہی وزیر پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر رہا۔ خان صاحب نہیں سمجھ سکیں گے کہ یہ کیا چیز ہیں، لیکن ان کو پتا چل جائے گا یہ اس حکومت کے لیے خطرہ بننے والے ہیں۔ بلاول بھٹو کی تقریر کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں بھی بلاول کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ چھوٹے سے بچے تھے، جب ہم بات کرتے تھے تو یہ کھڑکی پر کھڑے ہو کر خوش ہوا کرتے تھے۔ آج اس بچے کو تقریریں لکھ کر دے دی جاتی ہیں اور وہ پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کے جواب میں ایک بار پھر بلاول بھٹو نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ عمران خان یہاں آ کر تقریر کریں میں بیٹھا ہوں۔ دیکھتا ہوں وہ کیسے تقریر کرتے ہیں، میں نے اچھی ڈیل آفر کی ہے۔ رولز پر چلیں، آپ کے وزیرِ اعظم کی بات سنیں گے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ فاضل ممبر آف ملتان کے ساتھ رہنے والے ابھی نہیں جانتے کہ یہ کیا ہیں اور اپنے مطلب کے لیے کیا کر سکتے ہیں، ہم نے انہیں اپنی جماعت سے اس لیے نکالا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کو وزیرِ اعظم بنانے کے بجائے مجھے وزیرِ اعظم کا عہدہ دیا جائے۔

بلاول کے اس جملے پر شاہ محمود قریشی غصے میں آ گئے اور کہا کہ بچے تم سہمے ہوئے ہو اور ابھی بچے ہو تمہیں حقیقت کا علم نہیں۔ جاؤ پہلے تحقیق کر لو کہ میں نے تمہاری جماعت کیوں چھوڑی۔ یہ پرچی لے کر آتے ہیں، چابی لگتی ہے اور آٹو پر لگ جاتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اُنہیں اندازہ نہیں تھا کہ بلاول اُن کی تقریر پر اتنے سہم جائیں گے۔ جب ان کے پاس جواب نہیں ہوتا تو ذاتیات پر اُتر آئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی اور بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی میں تقریریں اور ایک دوسرے پر جملے کسنے کے معاملے پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔