جوڈیشل ایکٹو ازم سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہؤا: فواد چوہدری
- بدھ 30 / جون / 2021
- 6010
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ اگر عدالتی اصلاحات نہ کی گئیں تو ملک اقتصادی بحران سے کبھی باہر نہیں نکل سکے گا۔
ٹوئٹر پر ایک بیان میں انہوں نے سوشل میڈیا ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر پابندی اور نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر کو عہدے سے ہٹانے کے حکم کے تناظر میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ کل سے ٹک ٹاک کو بین کرنے اور نیشنل بینک کے صدر کو ہٹانے کے فیصلے کو پڑھ کر سر چکرا گیا ہے کہ ہماری عدالتیں کیا کر رہی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ یہ ملک پہلے ہی جوڈیشل ایکٹو ازم کے ہاتھوں اربوں ڈالر کے نقصانات برداشت کررہا ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو ملک میں ٹک ٹاک ایپلیکشن 8 جولائی تک بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ٹک ٹاک نے عدالتوں اور پی ٹی اے کے سامنے فحاشی پھیلانے والے اکاؤنٹس بلاک کرنے کے 'بیانِ حلفی اور یقین دہانیوں' کی پیروی نہیں کی۔
قبل ازیں مارچ میں پشاور ہائی کورٹ نے اس ویڈیو شیئرنگ ایپلیکشین پر پابندی لگائی تھی جسے اپریل میں اٹھا لیا گیا تھا۔ گزشتہ برس اکتوبر میں پی ٹی اے نے غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد سے متعلق شکایات پر پہلی مرتبہ ٹک ٹاک پر پابندی لگائی تھی۔ انتظامیہ کی جانب سے اس یقین دہانی پر کہ وہ مسلسل فحاشی اور بے حیائی پھیلانے میں ملوث تمام اکاؤنٹس کو بلاک کردیں گے، پابندی ختم کردی گئی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک روز قبل نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین زبیر سومرو کی تعیناتی کالعدم قرار دے دی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق تعیناتی آئینی حقوق اور ہر شہری کو میسر یکساں حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالتی بینچ کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت بورڈ چیئرمین کی تعیناتی کے لیے اشتہار جاری کرنا ضروری تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک مختصر حکم نامے کے ذریعے درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ این بی پی کے صدر اور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز کا تقرر قانون کی خلاف ورزی تھا۔