عمران خان امریکہ کو کس کا کیا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 30 / جون / 2021
- 11150
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے ایک دھؤاں دار تقریر میں امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان اب کسی جنگ میں حصہ دار نہیں بنے گا بلکہ صرف امن میں شراکت کرے گا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرکے ان کے مشورے پر عمل کیا ہے۔ تاہم ماضی قریب کی پالیسیوں پر شرمساری، غم و غصہ اور لعن طعن کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے وزیر اعظم نے امریکہ کو کچھ پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ جاننا چاہئے کہ یہ کیا پیغام ہے اور اسے بھیجنے والا کون ہے؟
یوں تو ماضی میں پاکستانی پالیسیوں پر حرف زنی کرکے عمران خان نے دراصل پاکستان پر ہی کیچڑ اچھالاہے۔ امریکہ پر اس نکتہ چینی اور ماضی کی نام نہاد غلط پالیسیوں کو کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے میں مصروف ہے۔ پاکستانی حکومتوں نے اگر امریکہ کے ساتھ تعاون کیا تھا ، ایک ایسی جنگ میں شرکت کی تھی جس میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اور یہ قطعی طور سے غیر کی جنگ تھی تو اس کا حساب امریکہ سے پوچھنے کی بجائے ان لوگوں سے لینا چاہئے جنہوں نے پاکستان کو اس جنگ میں دھکیلا تھا؟ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف ایک خصوصی عدالت کے فیصلہ کو مسترد کرچکی ہے اور دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ایک سابق آرمی چیف کو ملک کا غدار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ وہی مؤقف ہے جو خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی اختیار کیا تھا۔
اگر عمران خان کو امریکہ کی جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے اتنی ہی ہتک اور توہین محسوس ہوتی تھی تو انہیں ’بااختیار اقتدار‘ کے تین برسوں میں ضرور پرویز مشرف پر ستر ہزار پاکستانیوں کی ہلاکت کا الزام عائد کرکے اس الزام کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے تھا ۔ پھر کوئی امریکی حکومت پاکستان کو جھوٹا اور دوغلی پالیسی پر عمل کرنے والا قرار دینے کا حوصلہ نہ کرتی۔ لیکن عمر ان خان تو آئین شکنی پر پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا دینے والی عدالت کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہوئے اور اسی کے نتیجہ میں خصوصی عدالت کا فیصلہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔
نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر لندن سے پاکستان لانے اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی خواہش اور مطالبہ کرنے والی حکومت نے پرویز مشرف کے بارے میں کبھی ایسا سخت اور دو ٹوک مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس جرم کے اصل قصور وار کے ساتھ صلہ رحمی کا رویہ اختیار کرنے والا لیڈر امریکی جنگ میں حصہ دار ی کی وجہ سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجہ میں ہونے والی 70 ہزار ہلاکتوں اور 150 ارب ڈالر کے مالی نقصان کا حساب امریکہ سے کس منہ سے مانگ رہا ہے؟ یا کس اصول کی بنیاد پر شدید رنج اور غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے؟ عمران خان نے مئی 2011 میں ایبٹ آباد کے مقام پر اسامہ بن لادن کی امریکیوں کے ہاتھوں ہلاکت پر قومی شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بعد بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانی منہ چھپائے پھرتے تھے۔ لیکن حیرت ہے کہ وزیر اعظم اس کا جواب بھی واشنگٹن سے مانگتے ہیں یا جذبات کی فراوانی میں یہ پوچھتے ہیں کہ کیا پاکستان کو لندن میں مقیم الطاف حسین کو ہلاک کرنے کا موقع دیا جائے گا؟
عمران خان کو نوٹ کرنا چاہئے کہ امریکہ نے پاکستان سے اجازت لے کر ایبٹ آباد میں پاک فوج کی اکیڈمی سے گز بھر دوری پر اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا اقدام نہیں کیا تھا بلکہ اپنی فوجی طاقت، عسکری صلاحیت اور سفارتی قبولیت کی وجہ سے انہوں نے یہ کام سرانجام دیا تھا۔ عمران خان کیا اپوزیشن لیڈر ہیں جو ماضی کے قصے سنا کر سوگ منارہے ہیں۔ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور خود اپنے بارے میں باختیار ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں۔ انہیں یہ سوال ان اداروں سے پوچھنا چاہئے تھا جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور تھے۔ اور اگر اس معاملہ پر اظہار خیال کی ضرورت تھی تو وہ قوم کو ان تمام سوالوں کا جواب دیتے جو انہوں نے آج قومی اسمبلی میں اٹھائے ہیں۔ یا کم از کم اس حوالے سے بنائے گئے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ ہی عام کرنےکا اعلان کردیتے تاکہ نامکمل ہی سہی لیکن قوم کو ان گوناں گوں سوالوں کے جواب تو ملتے جو اس المناک سانحہ کے حوالے سے ہر محب وطن کے دل میں گھر کئے ہوئے ہیں۔
اس سانحہ میں ملوث سارے کردار ابھی حیات ہیں۔ کیا عمران خان نے وزیر اعظم کے طور پر یہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے کہ پتہ لگایا جائے کہ وہ کون سے عناصر تھے جو دو امریکی ہیلی کاپٹروں کو پاکستانی فضا میں داخل ہونے سے بھی نہ روک سکے لیکن دعوے کئے جاتے ہیں کہ اگر دشمن نے میلی نگاہ سے پاکستان کی طرف دیکھا تو اسے نیست و نابود کردیا جائے گا۔ یہاں تو ایک حلیف اور دوست ملک پاکستان کی خود مختاری اور دفاعی حصار کو پامال کرتا ہؤا پاکستانی فضا میں داخل ہؤا اور ہدف کو نشانہ بنانے اور اسامہ بن لادن کی میت ساتھ لے جانے کے بعد فون پر آرمی چیف اور صدر مملکت کو مطلع کرتا ہے ۔ جس واقعہ پر اب عمران خان ماتم کررہے ہیں، اس وقت کے حکمرانوں نے تو اس کی مدح سرائی کی تھی۔ کیا عمران خان کو اس معاملہ کی تہ تک پہنچنے کا حوصلہ ہؤا؟ بلکہ اس سے بھی پہلے کیا انہوں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ افغانستان میں ہونے والی جنگ اگر پاکستان کی نہیں بلکہ امریکہ کی جنگ تھی تو دنیا کا بدنام ترین دہشت گرد اسامہ بن لادن پانچ سال تک پاکستان میں کیا کررہا تھا؟ اور وہ کون سے عناصر تھے جنہوں نے ملک میں اسے پناہ دی ہوئی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ ایک بین الاقوامی دہشت گرد کو ہلاک کرنے میں لاجسٹک مدد فراہم کرنے کی وجہ سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مختلف بہانوں سے مستقل قید رکھنا ہی بہترین قومی مفاد سمجھا جارہا ہے لیکن اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور امریکی حملے کو روکنے میں ناکام رہنے والوں سے کوئی بازپرس نہیں کی جاتی ۔ اور اب جوش بیان میں امریکہ کو مورد الزام ٹھہرا کر پاکستان کے بھولے اور جذباتی عوام سے داد وصول کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے؟
پاکستان پر الزام تراشی میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ید طولی حاصل کیا تھا۔ جو باتیں سفارتی ذرائع سے یا محتاط زبان میں کی جاتی تھیں، انہیں ٹوئٹ پیغامات میں پاکستان کے خلاف چارج شیٹ کے طور پر پیش کیا گیا۔ پاکستان پر امریکی امداد ہڑپ کرنے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف کردار ادا نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ عمران خان کو بتانا چاہئے تھا کہ سفارتی حالات تبدیل ہونے پر جب انہیں بطور وزیر اعظم جولائی 2019 میں وشنگٹن جانے اور ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا موقع ملا تھا تو انہوں نے کن الفاظ میں ٹرمپ کے سابقہ بیانات پر کیا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا؟ اس وقت تو عمران خان امریکی امداد اور تعاون کے بارے میں اس قدر پرجوش تھے کہ انہوں نے اس دورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اپنی زندگی کا دوسرا بڑا اور اہم واقعہ قرار دیا تھا۔ اس وقت تو عمران خان کو لگتا تھا کہ ٹرمپ ایک فون کرکے مودی سے کشمیر پر پاکستان کے ساتھ معاملہ طے کرنے کا’حکم ‘ دے دے گا اور عمران خان کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ہیرو بن جائیں گے۔
عمران خان کو معلوم ہے کہ قومی اسمبلی میں انہوں نے جس جوش و خروش اور ماضی پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے ، اس کا تعلق ماضی سے نہیں حال سے ہے۔ یہ معاملہ جنگ میں شراکت کا نہیں بلکہ افغان امن میں مناسب حصہ داری فراہم نہ کرنے سے متعلق ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کو ماضی اس لئے تکلیف نہیں دے رہا کہ اس سے پاکستان کو نقصان ہؤا تھا بلکہ انہیں یہ غم ہے کہ امریکہ ماضی کی طرح دوبارہ پاکستان کے لئے خزانوں کے منہ کیوں نہیں کھولتا۔ سچ بولنے کے دعویدار عمران خان صاف کیوں نہیں کہتے کہ ہمیں یہ تکلیف ہے کہ امریکہ ہماری بات نہیں سنتا۔ اور ہمیں وہ سہولتیں نہیں مل رہیں جن کے ہم عادی ہوچکے ہیں۔ وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان اور افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی تبدیل ہو گئی ہے۔ اب نہ طالبان اس کے چہیتے ہیں اور نہ ہی اب اسے تزویراتی گہرائی کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے تو کبھی یہ بات نہیں مانی تھی کہ پاکستان کا افغان جنگ میں حصہ داری کا ایک مقصد اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا حصول ہے۔ اب وزیر اعظم نے بتایا ہے کہ ماضی میں ایسی کوئی پالیسی تھی جسے اب تبدیل کردیاگیا ہے۔ تو یہ بھی بتادیا جائے کہ اسٹریٹیجک ڈیپٹھ نامی پالیسی کیا تھی اور اسے کیوں تبدیل کردیاگیا؟ اسے اختیار کرنے کا کیا مقصد تھا اور ترک کرنے کا فیصلہ کیوں اور کس نے کیا؟ کیا کسی موقع پر پارلیمنٹ کو اس سوال پر اعتماد میں لیا گیا؟
سچ تو یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی کوئی پالیسی تبدیل نہیں کی، بس چہرے کا نقاب تبدیل کیا ہے۔ اب بھی ملک میں قوم پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کا اہتمام کیا جاتا ہے اور عوام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حکومتی نعروں پر یقین کریں اور امریکہ اپنے حلیف ملکوں کے ساتھ مل کر اقتصادی و عسکری امداد کی صورت میں پاکستانی قیادت کے بے بنیاد نعروں کی قیمت چکاتا رہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اب کسی جنگ میں اس کی حصہ داری نہیں چاہتا ، اسی لئے وہ کوئی قیمت ادا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ پاکستان تو اب ایف اے ٹی ایف میں سہولت اور آئی ایم ایف میں رعایت پر ’قناعت‘ کرنے پر تیار ہے لیکن افغانستان میں قابل عمل امن کے بغیر امریکہ یہ تعاون فراہم کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے اور پاکستان کو کسی سہارے کے بغیر ہمسایہ ملک میں امن پر خوش ہونے کی تلقین کی جارہی ہے۔ پاکستان مفت میں نہ جنگ کرتا ہے اور نہ ہی امن چاہتا ہے۔ لیکن یہ ماننے پر بھی آمادہ نہیں ہے کہ اب حالات اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔
عمران خان انہی عناصر کا پیغام امریکہ کو پہنچانا چاہتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ ملکی علاقائی سیکورٹی اور خارجہ حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ سیاسی قیادت کے الزامات سے بھرپور بیانات واشنگٹن کی سنگدلی کو موم بناسکیں گے۔ تاہم اس موقع پر یہ فراموش کیا جارہا ہے کہ دنیا کا ہر ملک اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ پاکستان کو ابھی اتنی سفارتی حیثیت یا معاشی قوت حاصل نہیں ہے کہ وہ امریکہ کو اپنی شرائط پر معاملات طے کرنے پر مجبور کرسکے۔