چینی کمیو نسٹ پارٹی کے سنہری سو سال
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعرات 01 / جولائی / 2021
- 6580
مظلوم محنت کش طبقات کے معاشی اور سماجی حقوق کیلئے دنیا میں دوانقلاب رونمء ہوئے جنہوں نے سرمایہ دنیا کو ہلاکر رکھ دیا۔
ان میں ایک روس میں لینن کی قیادت میں بالشویک انقلاب اور دوسرا ماؤزے تنگ میں چین میں کمیو نسٹ انقلاب تھا۔ روسی انقلاب اور نظام پولٹ بیورو کی ناقبل فہم پالیسیوں ، سٹار وار ، اندرونی سٹالنلسٹ ٹرائی کارٹس نظریاتی مباحثے ، انڈسٹر یل مصنوعات کو عالمی منڈی کی ضروت کے مطابق جدید نہ بنانا اور اس کی کھپت کیلئے بین الا اقومی رابط کا فقدان ، بے مقصد افغانستان میں فوجی مداخلت جس کے خلاف امریکہ ، یورپی اور عر ب ممالک صف آرا ہوئے اور تمام سامراجی سرمایہ اور مسلم ملک کے جہادیوں کو نام نہاد جہاد میں جھونک دیا گیاہے۔ اور پاکستان میں گرم پانی تک پہنچنے کامفروضہ تر اشہ گیا ۔سویت یونین کی شکست سردجنگ کے خاتمے کے بعد اور منتشر ہونے کے بعد جہادی کلچر کا بھوت پاکستان کے اندر اور افغانستان میں منڈلا رہا ہے۔ سویت یونین میں کمیونزم نظام کے زوال کی کئی توجیحات ہیں مگر آج صرف یہ لکھنے کی کوشش کی جائےگی کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے نظام کو کس طرح بچانے میں کا میاب رہی ۔
یکم جولائی کو چینی انقلاب کے سو سال پورے ہو رہے ہیں ۔چین سائنس ، ٹیکنالوجی ، ریسرچ اور ایجادات کی بدولت دنیا کی دوسری معاشی طاقت بن چکاہے ۔اس نے اپنی مصنوعات کو مارکیٹ میں کھپت کیلئے ویلیوایڈیڈ اور معیاری بنانا ہے یہی وجہ ہے دنیابھر چایئنہ مارکیٹس قائم ہوچکی ہیں جہاں پر ہر معیار اور قیمت کی مینو فیکچرڈ اشیا دستباب ہیں ۔سرمایہ دار دنیا اس کی بڑھتی ہوتی معاشی قوت اور تجارتی پھیلاؤ سے خائف ہے۔ جی سیون اور امریکہ کے ساتھ مل کر ون ییلٹ ون روڈ منصوبے کے دباؤ کو ختم کرنے کیلئے ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے چار سو ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ وہ اس کی بڑھتی ہوئی خلائی اور جدید اسلحہ سازی سے بھی خائف ہیں۔ اب امریکہ کےسولر پاور کا تصور بھی زائل ہونے کے قریب ہے۔
کمیونسٹ پارٹی کے سوسال مکمل ہونے پر چینی عوام کو فخر ہے ۔ صد سال مکمل ہونے چینی صدر جوکہ کے جنرل سیکر یڑی اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئر مین یکم جولائی کو ایک تقر یب میں میڈ ل تقسیم کریں گے ۔ وہ لوگ جنہوں نے پچاس سال پارٹی کی بطور ورکر ، عہدیدار اور نظام کی کامیابی کیلئے خدمت کی ہے انہیں بھی ایوارڈ دیے جائیں گے ۔گورنس کے حوالہ سے دنیا کے پارٹی سیاسی فورمز کے ساتھ گفتگو ہو گی ۔ ریڈ ٹورازم کے فروغ کے حوالہ سے بات چیت ہوگی ۔آرمی کی پریڈ ہوگی جس میں جدید اسلحہ کی نمائش کے ساتھ ریڈ لائن کے تحفظ کا اعادہ کیا جائے گا۔دسمبر 2019 میں 4.681 ملین کمیونٹی لیول پارٹی تنظمیں اور 91.914 ملین کمیونسٹ پارٹی کے ممبر ہیں ۔دنیا نام نہاد آزاد سرمایہ دار میڈیا چین کی ترقی کو تعصب کی نگاہ سے دیکھتاہے اور انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں پراپیگنڈا کرتا رہتا ہے ۔ وہ چین میں ون پارٹی ڈکٹیٹر شپ قرار دیتے ہوئے بھول جاتاہے یہ گراس روٹ لیول پارٹی ہے جس میں تما م محنت کش طبقات کسانوں اور مزدور کو نمائندگی حاصل ہے۔ جس نے کروڑوں کو غربت کی دلدل سے نکالا ہے ۔ انہیں روزگار، صحت اور تعلیم کی سہولتیں حاصل ہیں ۔
سویت یونین کے بکھرنے کے بعد چین نے سماجی سیاسی اور معاشی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی منڈیوں کو شرائط کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے کھولا اور انہیں بنیادی کمیونسٹ ڈھانچے میں مداخلت کی اجازت نہ دی ۔ اس طرح سی پی سی انسانی معاشی حقوق کی نگہداشت سر مایہ ممالک کی نسبت بہتر طریقہ سے کر رہی ہے۔ سرمایہ داری نظام میں عوام کیلئے سہولیات کم ہورہی ہیں جبکہ امیر اور ملٹی نیشنل کمپنیاں منافع سمیٹ اور اپنی دولت بڑھا رہے ہیں۔محض رائے اظہار کی آزادی سے آزادی سے پیٹ نہیں بھرا جاسکتا ہے۔
عالمی سرمایہ دار میڈیا نے ماضی میں سویت یونین میں انسانی حقوق کے خلاف پراپیگنڈا کرتا رہا، اب ایسا چین کے خلاف کر رہا ہے۔ اسے امریکہ اور اسرائیل کے شام عراق لیبیا اور فلسطین کے خلاف لشکر کشی دکھائی نہیں دیتی ہے ۔ ایران میں عوام کو عالمی پابندیوں کی وجہ سے کن مشکلات کا سامناہے اب وہ روس اور ایران کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔
چینی صدر زی چنگ سرمایہ دارانہ گلوبلائزیشن کے تیسر دنیا پر اثرات کو کم کرنا چاہتے ہیں ۔اس کا کوئی فوجی ایجنڈا نہیں ہے ۔چین تجارت کے ذریعہ اپنی منڈیاں بٹرھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ جی ڈی پی کی شرح تر قی برقرار رہے ۔ چین علاقائی سمندر پر اپنا حق چاہتاہے۔ ہوسکتاہے وہ 2027 میں تائیوان پر اپنا دعوی کرے۔ صدر نکسن نے کہا تھا چین کا تائیوان کو حاصل کرنے کیلئے سوسال انتظار کرنا ہوگا . چین نے پچاس سال کے مذاکرات کے بعد ہانگ کانگ کو حاصل کر لیاتھا۔ چین کی مختلف شعبوں میں کامیابی سے مغرب اور امریکہ خائف ہیں۔ وہ نہیں چاہتے امریکہ سے سولر پاور کا ٹا ٹیل چھن جائے۔ امریکہ دنیا کا نظام اپنی مرضی سے چلانا چاہتاہے۔ اسے جلد احساس ہو جا ئے گا یہ ملٹی پولر دنیا ہے جہاں پر باہمی مشاورت سے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔
ہمارا بھی سرخ جنت اور سوشلزم کے ساتھ نظریاتی رومانس رہا ہے ۔ پاکستان میں سویت یونین کے انہدام کے بعد اس فکر کی حامل نسل معدوم یا لبرل ازم کی پر چارک بن چکی ہے ۔ سرمایہ دار ممالک کی مدد سے نئی سیاسی اخلاقیات کی تشریحات کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ ایفیشنی امپرومننٹ ، ایڈوکیسی ، بچوں اور عورت کے سماجی حقوق کے نام پر بے مقصد فائیو سٹار ہوٹلوں اجلاس ان کا تعلق معاشی حقوق سے نہیں بلکہ لوگوں غیر سیاسی بنانا ہے ۔ جبکہ چین میں غیر ملکی سر مایہ کاری بھی آئی ہے مگر اس نے اپنی ٹرم اینڈ کنڈیشنز کے تحت انہیں کاروبار کی اجازت دی ہے ۔
چین کی ہمارے ساتھ دوستی کا تناظر جغرافیائی حوالہ سے ہے ۔اس نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے حالانکہ موجودہ حکومت کے وزرا نے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعہ تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ چین کامقابلہ امریکہ اور جی سیون یا ٹین کے ساتھ تجارتی اور ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کے حوالہ سے ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان ہائی ٹیک کی منتقلی اور ڈیٹا شیئرنگ کے حوالہ سے چین کے تعلقات سے خاطر خواہ فائدہ نہیں حا صل کر سکا ہے ۔
ہم چین کی کمیونسٹ پارٹی کے کامیابی کے ایک سال مکمل کرنے پر چینی قیادت کو مبارکباد دیتے ہیں۔