حقوق نسواں کے حوالے سے ترکی کا یوم سیاہ
- تحریر سرور غزالی
- جمعرات 01 / جولائی / 2021
- 7180
ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے مارچ کے مہینے میں جاری کردہ ایک صدارتی حکم کے مطابق ترکی، استنبول کنونشن کی یورپین سفارشات سے یکم جولائی سے مکمل طور پر علیحدہ ہوگیا ہے۔
اس طرح صدر اردوان نے ایک صدراتی حکم کا سہارا لے کر، ملکی جمہوری قانون ساز اداروں کو بے عمل بنایا ہے۔ اور آمرانہ طرزعمل کو فروغ دینے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ ترکی کی جمہوری تحریک پر کاری ضرب ثابت ہوگی۔ اور ترکی میں لبرل اور رجعت پسندی سوچ کے درمیان فاصلے بڑھیں گے۔ ایک زمانہ تھا جب استنبول کی رجعت پسندی کو انقرہ سے اٹھنے والی لہر نے تباہ کیا تھا۔ اب ایسی رجعت پسندی انقرہ سے اٹھ رہی ہے اور مزاحمت استنبول میں جنم لے رہی ہے۔
ترک خواتین کے لیے آج کادن یوم سیاہ کے طور پر منایا جارہا ہے۔ کیوں کہ اس دن استنبول کنونشن پر دستخط کرنے والا پہلا ملک آج اس سے نکلنے والا بھی پہلا ملک بن رہا ہے۔ ترکی کی خاتون وکیل یلدا کوچک نے اس فیصلے کو ترکی کی سب سے بڑی عدالت میں چیلنچ بھی کیا ہے۔ ہولیا گل بہار ایک اور خاتون جو حقوق نسواں کی تحریک کی رکن ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ حکم نامہ غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف دائر کردہ عدالتی ریفرینس پر عدالتی فیصلے کا نہ ہونا ایک مشکل صورتحال ہے۔ جب تک عدالتی فیصلہ نہ آجائے اس پر عمل درآمد کو روک دینا چاہیے۔ تاہم خواتین کے برابری کے حقوق کے لیے قائم کردہ پلیٹ فارم ایشک سے جڑی خاتون وکیل کا کہنا ہے کہ اگر کسی عمارت کو ڈھا دینے کے بعد ایسے عدالتی حکم کا کیا فائدہ جو عمارت ڈھانے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے۔
خواتین اور خاندانی معاملات کی پاسداری کے لیے یہ سفارشات سن دوہزار گیارہ میں یورپی ممالک کے اتفاق رائے سے نافذ ہوئی تھیں۔ یہ سفارشات سن دوہزار بارہ سے ترکی میں قانونی حیثیت پاکر ایک اہم روایت بن چکی ہیں۔ اس قانون کے ذریعہ خواتین کے خلاف تشدد کی بیخ کنی اور خاندان کو تحفظ دینا مقصود تھا۔ گھریلو تشدد کی روک تھام کرنا تھی۔ اس کنونشن سے ترکی کا یوں علیحدہ ہوجانا کافی مایوس کن ہے۔ اور عام تاثر یہی ہے کہ خواتین کے خلاف مجرمانہ فعل پر مرد سزائیں پانے سے بچ جائیں گے۔ اس مسئلے پر ترکی میں خیالات میں تضاد ہے اور رائے عامہ تقسیم ہے۔
فاراطین التون، ترکی کے صدارتی تعلقات عامہ کے ڈاریکٹر کا کہنا ہے اس کنونشن کے ذریعہ کچھ خاص گروپ کے افراد ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جو کہ ترک قوم کے خاندانی تصورات کے منافی ہے۔ کنونشن کے سفارش کردہ نکات جنہیں قانونی حیثیت حاصل تھی، کے مطابق کم عمری میں شادی، خواتین کو ہراساں کرنا، اسٹالکنگ اور تشدد کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ اور خواتین کی تعلیم حاصل کرنے کے حق کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ کنونشن سے علیحدہ ہوکر ترک حکومت دنیا کے سامنے یہ تصور پھیلانے کا سبب بنے گی کہ ان حکومت قوانین کے اطلاق کی ذمہ دار نہیں ہے۔ اس اثرات سے دیگر ممالک جیسے پاکستان وغیرہ میں بھی حقوق نسواں کے قوانین کو دھچکہ لگے گا۔