مالی سال2021 میں تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر تک بڑھ گیا

  • جمعہ 02 / جولائی / 2021
  • 5800

وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 21-2020 میں کم برآمدات اور توقع سے زیادہ درآمدات کی وجہ سے پاکستان کا تجارتی تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 32.9 فیصد بڑھ گیا ہے۔ اب اس کی شرح 7 ارب 61 کروڑ ڈالر ڈالر ہے۔

سالانہ تجارتی خسارہ مالی سال 2021 میں جولائی تا جون کےدوران 30 ارب 79 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 23 ارب 18 کروڑ ڈالر تھا۔ اس سے بیرونی اکاؤنٹس کو کنٹرول کرنے میں حکومت کے لیے نیا چیلنج پیدا ہوگیا ہے۔ ماہانہ خسارہ جون 2021 میں 3 ارب 33 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جو ایک سال قبل 1 2 ارب 12 کروڑ ڈالر تھا جو 57.2 فیصد کے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

تجارتی خسارہ دسمبر 2020 سے بڑھتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں نمایاں اضافہ اور برآمدات میں نسبتا سست نمو ہے۔  وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ درآمدی بل میں بنیادی طور پر گندم اور چینی کی درآمد کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں گندم اور چینی کی درآمدی مالیت ایک ارب 20 کروڑ ڈالر رہی ہے۔

مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے روئی کی درآمدی قیمت ایک ارب 20 کروڑ ڈالر رہی جبکہ مشینری کی درآمد 8 ارب ڈالر رہی جو صنعتوں میں توسیع کا اشارہ ہے۔ پیٹرولیم، سویا بین، مشینری، خام مال کیمیکل، موبائل فون، کھاد، ٹائر اور اینٹی بائیوٹک اور ویکسین کی درآمد میں اضافے کی وجہ سے بھی درآمدی بل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ترسیلات زر میں اضافہ درآمدی بل کی مالی اعانت کے لیے کافی ہوگا۔

مالی سال 2021 میں برآمدات 25 ارب 29 کروڑ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے 21 ارب 39 کروڑ ڈالر سے 18.2 فیصد، 3 ارب 90 کروڑ ڈالر زیادہ ہے۔ جون میں برآمد سے آمدنی گزشتہ سال کے اسی مہینے کے ایک ارب 59 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2 ارب 71 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی جو 70 فییصد اضافہ  ہے۔

مشیر تجارت کہا کہ برآمدات سے کی مالیت پاکستان کی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ جون 2021 میں برآمدات بھی اب تک کے سب مہینوں سے زیادہ تھیں۔ مالی سال 2021 کے لیے سروسز کی برآمدات کا تخمینہ 5 ارب 90 کروڑ ڈالر ہے جبکہ مالی سال 2021 کے دوران سامان اور سروسز کی مجموعی برآمدات 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔