قومی سلامتی کے معاملات پر یکجہتی ضروری ہے: فوجی قیادت کی بریفنگ
- جمعہ 02 / جولائی / 2021
- 5850
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے عسکری قیادت کی جانب سے سیاسی رہنماؤں کو گذشتہ روز دی جانے والی بریفنگ میں شرکت کرنا تھی لیکن حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف نے سپیکر آفس کو پیغام دیا کہ ’اگر وہ آئیں گے تو ہم واک آؤٹ کر جائیں گے‘۔
جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اس پیغام پر وزیر اعظم نے کہا کہ حزب اختلاف میٹنگ میں شرکت کر لے، وہ نہیں آئیں گے۔ گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی اس بریفنگ سے قبل وزیر اعظم عمران خان کی شمولیت کے بارے میں سوالات پوچھے جا رہے تھے لیکن عین موقع پر آگاہ کیا گیا کہ وزیر اعظم اس بریفنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔ بریفنگ میں افغانستان، کشمیر اور دیگر سرحدی اور سکیورٹی اُمور پر بات کی گئی۔
بریفنگ میں شامل ایک سیاسی رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاسی رہنماؤں کو آگاہ کیا گیا کہ خطے کی بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان میں خارجہ امور اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔ بریفنگ سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے ممبران اور سیاسی رہنماؤں کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے دی۔ اجلاس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک تھے۔
بریفنگ کے بارے میں صحافیوں کو بتایا گیا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بجٹ اجلاس میں افغانستان سے متعلق اٹھائے گئےسوالات پر یہ بریفنگ منعقد کی گئی ہے۔ چار گھنٹے سے زیادہ دورانیہ والے اس اجلاس میں جن امور پر بات کی گئی ان میں سرِفہرست موضوعات افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال تھی۔ بریفنگ میں شامل ایک سیاسی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کی افواج نے خطے کے دیگر ممالک کے تنازعات سے دور رہنے اور چین سے امریکہ کے دباؤ کے باوجود تعلقات مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔
بریفنگ میں چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے سیاسی قیادت کو بتایا گیا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید بہتر بنانے پر زور دے گا۔ اس دوران پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان ہونے والی 'سرد جنگ' کا حصہ کسی صورت نہیں بنے گا۔ سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان کو چین اورامریکہ کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے بلکہ دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر رکھنے پر غور کرنا چاہیے۔
سیاسی رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ ملٹری قیادت نے طالبان سے بات چیت کا معاملہ سیاستدانوں کے سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کسی سمت جاتی دکھائی نہیں دے رہی اور طالبان کی قیادت کسی بھی طریقے سے راضی نہیں ہو رہی ہے۔ افغان طالبان اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملے ہوئے ہیں یعنی ایک ہیں۔
افغانستان میں امن کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 'افغانستان میں جو بھی حکومت آئے گی وہ پاکستان کو قبول ہوگی۔ کسی بھی گروہ کو فوقیت نہیں دی جائے گی۔' یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی وزیرِ اعظم عمران خان نے مغربی میڈیا میں جاری ہونے والے اپنے انٹرویوز اور بیانات میں کہا ہے کہ 'ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے، افغان جنگ میں پاکستان کو کسی گروہ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔'
اس دوران طالبان کے ساتھ بات چیت ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھر رہا ہے۔ 30 جون کو تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا طالبان پر اثر کم ہو رہا ہے اور یہ دعویٰ پہلی بار نہیں کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت کی جانب سے سیاسی قیادت کو دی جانے والی بریفنگ سے اِن دعووں کو تقویت ملتی ہے جن میں طالبان سے بات چیت میں مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔
افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد پناہ گزینوں کی تعداد بڑھنے اور ان کا رخ پاکستان کی طرف ہونے کا بھی خدشہ بارہا ظاہر کیا گیا ہے اور یہی بات بریفنگ کے دوران بھی کی گئی۔ بریفنگ میں بھی فوج کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ 'افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں پاکستان کو ایک طرف تحریکِ طالبان کے مضبوط ہونے اور دوسری جانب پناہ گزینوں کی تعداد اور ان کا رُخ پاکستان کی طرف ہونے سے خطرہ ہے۔'
جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ 'ہماری کوشش اور دعا ہے کہ افغانستان میں پُرامن اور جامع حکومت بن جائے اور کابل حکومت اور افغان طالبان میں کشیدگی کم ہو جائے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مذاکرات ہوں اور بات آگے بڑھے۔ لیکن اگر مذاکرات نہیں ہوتے اور بدقسمتی سے تاریخ بھی یہی رہی ہے کہ بندوق نے فیصلہ کیا ہے کہ کابل کی حکمرانی کس کے پاس ہو گی۔