ایف اے ٹی ایف:بڑی طاقتوں کا سیاسی ہتھیار
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 02 / جولائی / 2021
- 5210
پاکستان کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) ایف اے ٹی ایف(کی گرے لسٹ سے نکلنا آسان کام نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ ایف اے ٹی ایف کوئی مالیاتی یا ٹیکنیکی فورم نہیں بلکہ ایک سیاسی فورم کی نوعیت رکھتا ہے۔
اس فورم کے فیصلوں میں شفافیت کو عملی طور پر ایک بڑے سیاسی فریم ورک کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔یہ بات بھی یقینی تھی کہ اس برس جون2021 میں بھی ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں ہمیں گرے لسٹ سے نہیں نکالا جائے گا۔ البتہ ہماری پزیرائی بھی ہوگی اور خوب کاکارکردگی کے تناظر میں شاباش بھی ملے گی، مگر ہمیں فی الحال پرانی تنخواہ پر ہی کام کرنا پڑے گا۔یہ ہی وجہ ہے کہ ایف ا ے ٹی ایف کا پاکستان کو مزید اکتوبر تک گرے لسٹ میں رکھنے کا حالیہ فیصلہ مجھ سمیت بہت سے لوگوں کے لیے غیر متوقع نہیں تھا۔
عالمی طاقتیں جن میں امریکہ سرفہرست ہے وہ عمومی طور پر ا س طرح کے مالیاتی فورمز کی تشکیل کرکے اسے اپنے سیاسی مخالفین یا جن پر سیاسی دباؤ ڈالنا مقصود ہو کے خلاف استعمال کرتا ہے۔یقینی طور پر ایف اے ٹے ایف کے حالیہ فیصلے نے پاکستان کی ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام میں منفی ردعمل کی سیاست کو جنم دیا ہے۔پاکستان میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ہمارا سیاسی بنیادوں پر استحصال کررہا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو کہنا پڑا کہ ہمیں ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں متبادل آپشن یا راستہ بھی اختیار کرنا چاہیے۔27میں سے 26نکات پر عملدرآمد کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نہ نکالنا ظاہر کرتا ہے کہ اگر پاکستان 27کے مقابلے میں ایک قدم آگے بڑھ کر 28نکات پر بھی عملدرآمد کرلے تب بھی ہم گرے لسٹ میں ہی رہیں گے۔ کیونکہ یہ فیصلہ ایف اے ٹی ایف کا نہیں بلکہ ان بڑی قوتوں کا ہے جو پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کو ”بطور ہتھیار“ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
ایف اے ٹی ایف کے اعلامیہ میں پاکستان کو 27میں سے 26نکات پر عملدرآمد کے بعد بڑا انعام گرے لسٹ سے باہر نکالنے کی بجائے اسے مزید چھ نکاتی ایجنڈا تھمادیا گیا ہے۔ان نکات میں دہشت گرد تنظیموں کے اہم کمانڈروں سمیت یو این نامزد1373دہشت گردوں کو سزائیں دینے، مالی معاونت کرنے والوں کی چھان بین، منی لانڈرنگ روکنے کا مطالبہ، سزا کے نظام میں بہتری لانا، تفتیش کے نظام کو موثر بنانا،دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے افراد یا اداروں کی کڑی نگرانی شامل ہیں۔ان کے بقول پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیاں ہے اور اس کو دور کیے بغیر گرے لسٹ سے نکالنا ممکن نہیں۔ اب پاکستان کا مقدمہ دوبارہ چار ماہ بعد یعنی اکتوبر میں قابل غور ہوگا اور دیکھا جائے گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا ہے یا نہیں۔اس فورم نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے تحقیقات اور سزاو ں میں تیزی لانے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کے زریعے عالمی تعاون بڑھانے پر زور دیا جن میں اہم طور پر رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرزاور اکاونٹس کی نگرانی شامل ہے۔
پاکستان کے پاس فی الحال گرے لسٹ میں ہی رہنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ پاکستان کے بقول جون سے قبل ہماری اہم ترجیح میں دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مرکوز تھی اور اب ہماری توجہ کا مرکز منی لانڈرنگ پر ہوگی۔یہ بات بھی یقینی ہے کہ اگر یہ ہی کارکردگی پاکستان کے مقابلے میں کسی اور ملک کی ہوتی تو اسے ضرور ریلیف ملتا۔لیکن پاکستان کا مقدمہ کچھ داخلی، علاقائی او ر عالمی سیاست سے جڑے اہم فیصلوں کی وجہ سے مختلف ہے۔ اس وقت سی پیک، افغان بحران کا حل، امریکی ایجنڈا، ہوائی اڈوں کی فراہمی کا مطالبہ،پاک بھارت تعلقات جیسے امورکی وجہ عالمی قوتیں ہمارے خلاف ایف اے ٹی ایف کو بطور ہتھیا ر استعمال کرنا چاہتی ہیں یا ہم پر دباؤ ڈال کر کچھ فیصلوں کی تائید وحمایت چاہتی ہیں۔ان قوتوں کو لگتا ہے کہ یہ ہی وہ ہتھیار ہے جس کی مدد سے وہ اپنے مفادات کی تکمیل کرسکتے ہیں۔
پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے سے زیادہ بھارت کا مفاد پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنا ہے۔ بھارت کی ساری سفارت کاری یا ڈپلومیسی کی بنیاد ہی پاکستان کی مخالفت اور ایف اے ٹی ایف کو بنیاد بنا کر ہماری مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ پاکستان کا گرے لسٹ میں بدستور رہنا بھی بھارت کے لیے قبول نہیں اور وہ عالمی دنیا میں اس بیانیہ کو بڑھارہا ہے کہ پاکستان کے تمام تر اقدامات مصنوعی ہیں اور وہ سب کو دھوکہ دے رہا ہے۔ایف اے ٹی ایف کا دوہرے معیار کی حالت یہ ہے کہ خود منی لانڈرنگ جیسے سنگین معاملات بھارت میں بھی ہے مگر بھارت کو ایف اے ٹی ایف سے کوئی بڑا خطرہ نہیں اور نہ ہی ایف اے ٹی ایف بھارت میں منی لانڈرنگ کو چیلنج کرتا ہے۔ عملی طور پرامریکہ اور ایف اے ٹی ایف کی انتظامیہ امریکی دباو پر بھارت کو خوش کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی تلوار ہم پر لٹکانا چاہتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اب عالمی طاقتیں منفی کھیل کی بنیاد پر پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔خود بھارت اس ایف اے ٹی ایف کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہا ہے وہ بھی غور طلب مسئلہ ہے۔
اب اگر پاکستان نے اگلے چار ماہ میں کچھ کرکے دکھانا ہے تو اس میں بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ او راس سے جڑی تحقیقات اور سزاؤں کا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام میں کوئی بڑی تبدیلی یا پالیسی یا قانون سازی کیے بغیر ہم کچھ بڑا کرسکیں گے۔ کیونکہ ہمارا عدالتی نظام جو منی لانڈرنگ کے حوالے سے بڑی تبدیلی چاہتا ہے اور موثر قانون سازی سمیت عملدرآمد کے نظام میں چیزوں کو آوٹ آف بکس جاکر کچھ غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔ کیونکہ ابھی تک منی لانڈرنگ میں ملوث افراد ہمارے قانونی سقم، کمزور عدالتی نظام اور تفتیش کے پرانے یا فرسودہ نظام کی وجہ سے قانونی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ ہماری عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں یا مفرور ہیں اور جن کے خلاف منی لانڈرگ کے الزامات ہیں ان کو پناہ دینے میں برطانیہ پیش پیش ہے۔لیکن اس معاملے پر ایف اے ٹی ایف کا اپنا دوہرا معیار بھی ہے۔ اسی طرح سے وہ ممالک جو اب تک ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں کوئی بڑی کارکردگی نہیں دکھاسکے جن میں چین، نیوزی لینڈ، جارجیا، جمیکا،سری لنکا، امریکہ سمیت کئی ممالک ہیں جن کی کارکردگی میں 20سے 53فیصد نکات پر عملدرآمد نہ کرنے کا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان جس نے 96.1فیصد عمل کیا اسے گرے لسٹ میں رکھنا بدنیتی پر مبنی ہے۔جو تحفظات پاکستان کو مختلف ممالک کے قانون کے ساتھ ہیں یا جو وہ اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ممالک کی سرپرستی کے سوالات ہیں اس پر عالمی قوتیں سمیت ایف اے ٹی ایف نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔
پاکستان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ایک طرف وہ ایف اے ٹی ایف کو بنیاد بنا کرمنی لانڈرنگ کے تناظر میں ہنگامی بنیادوں پر سخت فیصلے، قانون سازی اور عملدرآمد کے نظام سمیت کوئی سمجھوتہ کی پالیسی اختیار نہ کرے او راس میں جو بھی داخلی اور خارجی رکاوٹیں ہیں وہ سب کے سامنے لائی جائیں۔ اسی طرح سے ہمیں دنیا میں سفارت کاری اور ڈپلومیسی کو بنیاد بنا کر ان عالمی قوتوں یا مالیاتی نگرانی کے اداروں کے اپنے دوہرے معیارات کو سامنے لانا ہوگا جو ہمارے بارے میں قانون سے ٖزیادہ سیاسی تعصب پر مبنی ہیں۔دنیا کو یہ باو رکروانا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے کہ دوہرے معیارات کو چھوڑ کر سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔کیونکہ اگر ایف اے ٹی ایف سمیت امریکہ نے ہمارے بارے میں دوہری پالیسی کو ہی جاری رکھا تو اس کا سخت ردعمل بھی ہوگا اور خود ایف اے ٹی ایف کا ایجنڈا سیاسی ایجنڈا بن کر ناکامی سے دوچار ہوگا۔