توہین رسالت کے الزام میں عدالت سے بری ہونے والے شخص کو پولیس اہلکار نے قتل کردیا
- ہفتہ 03 / جولائی / 2021
- 9150
پنجاب کے شہر صادق آباد میں ایک پولیس اہلکار نے حال ہی میں توہینِ رسالت کے الزام میں لگ بھگ تین سال بعد جیل سے رہا ہونے والے شخص کو ٹوکے کا وار کرکے قتل کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم حال ہی میں پولیس میں بھرتی ہوا تھا اور کانسٹیبل بننے کے لیے زیرِ تربیت تھا۔ صادق آباد صدر تھانے کے ایس ایچ او رانا محمد اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اہلکار نے محمد وقاص نامی شخص کو قتل کرنے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ’اس نے پولیس کے بتایا کہ وہ 2016 سے محمد وقاص کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاہم اس وقت وہ جیل میں تھا۔ 2016 میں محمد وقاص کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر گستاخانہ خاکے شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق 2017 میں صادق آباد کی ایک عدالت نے اسے جیل بھیج دیا تھا۔
حال ہی میں ہائی کورٹ نے اس شخص کو توہینِ رسالت کے الزام سے بری کر دیا تھا اور وہ جیل سے رہا ہوگیا تھا۔ پولیس کے مطابق جیل سے رہا ہونے کے بعد محمد وقاص اپنے گھر لوٹنے سے پہلے کچھ عرصہ کہیں اور قیام کیا۔ محمد وقاص اور ان کو قتل کرنے والا پولیس اہلکار عبدالقادر دونوں کا تعلق صادق آباد کے ایک ہی علاقے اور برادری سے ہے۔
ملزم عبدالقادر کے حملہ میں محمد وقاص کا چھوٹ ابھائی بھی زخمی ہؤا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش جاری ہے۔