شرم کی بات

کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں، ہال میں مکمل  خاموشی  میں پاٹ دار آواز گونجی۔  تقریر کے تسلسل سے لگ رہا تھا کہ وزیر  با تدبیر  کسی بات پر قومی غیرت جگانے لگے  ہیں،  سامعین   ہمہ تن گوش تھے۔

  شرم کا طعنہ سننے کے بعد اگلی بات سننے کے  لئے  مزید ہمہ تن  گوش  ہو گئے لیکن اس دوران کرنا خدا کا  یہ ہوا کہ وزیر موصوف کی  تقریر کے صفحات مکس اپ ہوگئے۔ ایک آدھ منٹ تک انہوں نے الٹ پلٹ کرکے اگلا صحیح صفحہ  ڈھونڈ ا تو پھر سے سلسلہ کلام جوڑا   کہ پھر بھی ہم دودھ سمیت بہت سی زرعی اشیا امپورٹ کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم میں صلاحیت ہے کہ ہم زرعی پراڈکٹس ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔یہ  بے نظیر بھٹو کا پہلا دور تھا  یعنی  1988-90،   راؤ سکندر اقبال  وزیر زراعت تھے۔ یہ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کا ایک سیمینار تھا جس میں انڈسٹری کے نمائندہ لوگ موجود تھے۔ ہم ان دنوں ایک   ڈیری کمپنی کی مارکیٹنگ سے وابستہ تھے۔  اس سیمینار کی نظامت  ہمارے ذمہ تھی۔ وزیر موصوف  کے اس فقرے پر ان کے اٹکنے سے کچھ سامعین   حیران ہوئے کہ وزیر زراعت  کو کیا  ہوگیا ہے۔ اپنی ہی وزارت کے پیچھے پڑ  گئے ہیں۔   وزیر  موصوف کے اگلا صفحہ  ڈھونڈ نے  تک  سامعین  نے اس ادھورے فقرے کو کیا کیا معنی پہنائے   ا س کا  اندازہ ہمیں بعد میں چائے کے وقفے کے دوران شرکا کی باتیں سن کر  ہوا۔ 

 فاسٹ فارورڈ   2021  پی  ٹی آئی  کے چوتھے وزیر خزانہ  شوکت ترین  نے بجٹ بحث  کے دوران  اعتراف کیا کہ  پاکستان اب    خوراک  درآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے۔  چند روز قبل   جاری سرکاری اعدادوشمار  کی گواہی کے  مطابق اربوں ڈالرز کی گندم،  چینی اور روئی درآمد کرنی پڑی  جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ پھول کر مزید  کپّا ہو گیا۔  گندم اور چینی اس مجبوری میں درآمد ہوئی کہ اچھی خاصی فصل ہونے کے باوجود  مارکیٹ میں قیمتیں قابو میں نہیں آ رہی تھیں۔ روئی اس لئے کہ اس بار ریکارڈ کم  پیداوار ہوئی، اس  لئے  ٹیکسٹائل   انڈسٹری کا   پہیہ  چالو رکھنے کے لئے روئی امپورٹ کرنا مجبوری بن گئی۔وہ زمانہ کب کا  لد گیا جب پاکستان روئی برآمد کرنے والے  نمایاں ممالک میں شمار ہوتا تھا۔ وجوہات  جو بھی رہیں، پاکستان جو ایک زرعی ملک تھا اور ہے  اِسے  اپنی  فوڈ سیکیورٹی کے لئے مسلسل  امپورٹ  کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔   حیرت ہوتی ہے کہ  راؤ سکند ر اقبال  کا وہ ادھورا فقرہ تیس بتیس سال بعد مزید بامعنی  لگتا ہے۔

ان تیس بتیس سالوں میں کیا ہوا؟  معروف ماہرِ معیشت  ڈاکٹر قیصر بنگالی نے  تین سال قبل  ایک ریسرچ   میں  انکشاف کیا کہ 1990-2015 کے پچیس سالوں کے دوران  پاکستانی معیشت مسلسل جمود کا شکار رہی۔ دو چار سال اس کے  تنِ مردہ  میں جان پڑی مگر بقیہ سالوں میں پژمردگی ہی چھائی رہی۔ ان کے انکشافا ت زرعی  فصلوں  کی پیداوار کے بارے میں حیران کن تھے۔ ان کی ریسرچ کے مطابق ان پچیس سالوں کے دوران  بڑی فصلوں میں اوسطاٌ  2.8%سالانہ  اضافہ ہوا۔ اگر اُن دو چار سالوں کو  الگ کر لیا جائے جب سالانہ اضافہ  غیر معمولی رہا تو  ان  بقیہ سالو ں  کے  دوران  بڑی فصلوں میں سالانہ اضافہ کم ہو کر فقط ایک فی صد رہ جاتا ہے۔  اسی طرح چھوٹی فصلوں   میں ان پچیس سالوں  دوران اوسطاٌ  1.9% سالانہ اضافہ ہوا، اگر غیر معمولی  سالانہ اضافے والے چند سال علیحدہ کریں تو یہ اوسط اضافہ کم ہو کر فقط 1.5% سالانہ رہ جاتا ہے۔  یاد رہے کہ اس دوران  آبادی بڑھنے کی سالانہ شرح دو فیصد سالانہ سے زائد ہی رہی۔

 سونے پر سہاگہ اس دوران شہری آبادی کا تناسب تیزی سے بڑھتا رہا۔  بڑے  چھوٹے شہروں کے آس پاس زرعی زمین ہاؤسنگ کے کام آنے سے زرعی پیداوار کے لئے دستیاب زمین مین مزید کمی ہوئی۔ فرض کریں  اگر یہی رجحان   اگلے پچیس سالوں تک جاری رہے تو زرعی شعبے میں بڑی اور چھوٹی فصلوں  کی سالانہ اضافے  سے پیدا ہونے والی فوڈ شارٹیج،  اشیائے خوردونوش  کی   ڈیمانڈ اینڈ سپلائی  اور قیمتوں کے ساتھ کیا کیا  تماشا نہ ہوگا۔

کیا تماشا ہو گا؟  بلکہ اس کے لئے  اگلے پچیس سال کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔2019-20 کے دوران کئے گئے    ایک ملک گیر سروے 

Pakistan social and living standards measurement

 کے مطابق  سروے کئے گئے گھرانوں  میں سولہ فی صد سے زائد  کو  خوراک  کی درمیانے درجے یا شدید قلت کا سامنا کرنا  رہا  ۔ بلوچستان کے دس اور سندھ کے جن نو  اضلاع میں گھرانوں کا سروے کیا گیا  ان میں  26% کو خوراک کی  شدید قلت کا سامنا رہا۔  شدید قلت  کی مزید تہہ میں  اتر  کر دیکھیں تو 19% کو بحرانی   صورت حال  درپیش رہی جبکہ 7% گھرانوں کو   ایمرجنسی  سے واسطہ  رہا۔ وجوہات وہی پرانی:  زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق بدستورقائم و دائم ہیں۔ نئے  بیجوں کی تحقیق اور پرداخت پر مامور اداروں میں بجٹ تنخواہوں پر صرف ہوجاتا ہے مگر مجال ہے کہ کپاس، گندم،  گنے، چاول یا فروٹ سبزیوں کے لئے  انقلابی  بیج پیدا کرنے  کا کشٹ اٹھایا ہو۔

فصلوں کی ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ  پانی کی قلت کے شکار ملک میں  کپاس پیدا کرنا گھاٹے کا سودا ہے جبکہ گنے اور چاول کے سر سب سہرے سجے ہوئے ہیں۔ جراثیم کش ادویات میں دو نمبری اور اندھا دھند زہر  خیزی نے زمین اور دوست کیڑوں کا بھرکس  نکا ل دیا ہے۔  مشینی فارمنگ کا رجحان صیح معنوں میں پنپ نہیں سکا۔  مڈل مین اور آڑھتی موج میں ہیں جبکہ کسان ان کی چاکری پر مجبور ہیں۔  بنکوں کو  صنعت و تجارت سے فرصت نہیں وغیرہ وغیرہ۔

اس صورت  حال   تک پہنچنے  میں  پچھلے تیس پینتیس سالوں کے دوران  قائم  تمام سیاسی اور غیر سیاسی  حکومتوں کا  کچھ نہ کچھ حصہ ہے۔ کسی کا کم کسی کا زیادہ۔  آج مہنگائی پر ان سیاسی جماعتوں کے بیانات  دل  کو چھو لیتے ہیں مگر اپنی اپنی  باری پر  جو انہوں نے کیا، اس کا   مجموعی  کیا دھرا یہ  ہے کہ اب شرم آتی  ہے یہ کہلاتے ہوئے کہ ہم ایک زرعی  ملک ہیں!