عدالت عظمی کے معزز ججوں کی خدمت اقدس میں!
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 03 / جولائی / 2021
- 11990
سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے چیف جسٹس گلزار احمد کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے پیپلز پارٹی کراچی کے ایک لیڈر کی معافی مسترد کردی ہے۔ ان پر آئندہ سماعت میں فرم جرم عائد کی جائے گی۔ مسعود الرحمن عباسی نے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں توہین عدالت کے معاملہ کی سماعت کرنے والے بنچ سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ ’جج مائی باپ ہوتے ہیں۔ عدالت جس طرح چاہے معافی مانگنے کے لئے تیار ہوں‘۔ لیکن اس عاجزانہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے حکم صادر کیا گیا ہے کہ رعایت کرنے سے ہر کوئی ججوں کی توہین کرے گا۔
ایک معمولی حیثیت کے شخص کے بارے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں کا یہ سخت گیر رویہ عدالت کے وقار اور شان میں اضافہ کا سبب تو نہیں بنے گا لیکن یہ تاثر قوی ہوگا کہ اعلیٰ عدالت بھی کمزور اور بے وسیلہ لوگوں کو نشان عبر ت بنا کر اپنی شان و شوکت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ جمعہ کے روز کراچی رجسٹری میں اس معاملہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چار طاقت ور اور بااختیار ججوں نے جس لب و لہجہ میں ایک عاجز و مجبور شہری کے ساتھ مکالمہ کیا اور اسے اس کی ’اوقات‘ یاد دلانے کی کوشش کی، اس سے ججوں کی خود پسندی تو واضح ہوتی ہے لیکن ملک میں عدالتوں کےوقار اور قانون کے احترام کا اعلیٰ مقصد حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ملزم مسعود الرحمن عباسی کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’وہ کہہ رہے تھے کہ اگر عدالت بلائے تو وہ انہیں اوقات یاد دلا دیں گے‘۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’عدالت نے بلا لیا ہے اب ہمیں ہماری اوقات دکھائیں‘۔ملزم نے کہا کہ ان کی دو بیویاں اور سات بچے ہیں اور وہ اکیلا کمانے والا ہے، اسے معاف کردیا جائے تاہم عدالت نے کہا کہ دو شادیوں کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ ان کا ذاتی فعل ہے۔ مسعود الرحمان عباسی نے عدالت سے درخواست کی کہ ’ وہ عدالت کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگتے ہیں‘۔ اس پر بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’وہ اس ملک کے شہری ہیں اور اپنے آپ کو اتنا نیچا نہ لے کر جائیں‘۔ حیرت ہے کہ ایک طرف اعلیٰ عدالت کے فاضل ججوں کو کسی پاکستانی کے وقار اور عزت نفس کا اتنا خیال ہے لیکن دوسری طرف انتہائی لجاجت سے معافی مانگنے والے ایک معمولی شخص کے بارے میں سخت گیر رویہ اختیار کرتے ہوئے معافی دینے سے انکار کردیا گیا بلکہ حکم صادر کیا ہے کہ اگلی سماعت پر ملزم پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جائے گی۔
توہین عدالت کے متعلقہ قانون کے تحت کسی شخص کو ججوں کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے پر چھ ماہ تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اور کسی کو سزا یافتہ قرار دے کر اس پر پانچ سال کے لئے کسی منتخب عہدہ پر فائز ہونے کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ اسی طریقہ کے مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تین سابق ارکان پارلیمنٹ نہال ہاشمی، طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ تاہم زیر غور معاملہ میں ملوث شخص کا کسی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کا امکان نہیں ہے البتہ ججوں نے اس معاملہ پرسختی دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے اس لیے اب شواہد کی ضرورت نہیں ۔ عدالت فیصلہ سنا دے۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت آئین و قانون کے مطابق ہی چلے گی۔ یعنی پہلے فرد جرم عائد ہوگی، پھر اس پر جرح کی جائے گی اور ملزم کو یہ اعتراف کرنے پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے توہین آمیز بیان کے اصل محرکات کا اعتراف کرے۔
سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ عمر عطا بندیال سمیت متعدد ججوں نے مختلف طریقے سے مسعود الرحمن عباسی سے استفسار کیا کہ اسے کس نے ایسا بیان دینے پر اکسایا تھا۔ ملزم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نہ تو اس نے پہلے کبھی ایسی تقریر کی ہے اور نہ ہی کسی نے اسے اس قسم کی بات کرنے کے لئے کہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے۔ وہاں پارٹی کے مقامی عہدیدار بھی تھے۔ تقریب کے دوران لوگ کہہ رہے تھے کہ چیف جسٹس نے مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت کے خلاف بڑے سخت ریمارکس دیے ہیں اور اتنے سخت ریمارکس آج تک کسی چیف جسٹس نے نہیں دیے۔ اسی پس منظر میں اس نے نازیبا کلمات ادا کردیے۔ واضح رہے کہ توہین آمیز تاثرات کے بارے میں یہ ویڈیو کلپ کسی ٹیلی ویژن اسٹیشن نے نشر نہیں کی۔ البتہ سوشل میڈیا پرعام ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے عباسی کے خلاف چارج فریم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مسعود الرحمان عباسی اس وقت ایف آئی اے کی تحویل میں ہے جو اس معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے تاکہ یہ جانا جاسکے کہ اس تقریر یا بیان کے کیا مقاصد تھے اور کون لوگ اس میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے عندیہ دیاہے کہ ایسے سنگین معاملہ میں ملوث کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے معاملہ نمٹانے اور سزا سنانے کے بارے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ’قانون کے مطابق چلنے‘ کی بات کی گئی ہے۔ لیکن عدالت کو اس بات پر کوئی پریشانی نہیں تھی کہ اگر کسی شخص کو جرم ثابت ہونے تک قصور وار نہیں کہا جاسکتا اور سزا نہیں دی جاسکتی تو اسے غیر معینہ مدت تک ایف آئی اے کی تحویل میں رکھنے کا طریقہ کیوں کر قابل قبول اور قرین انصاف ہوسکتا ہے؟ عباسی سے جو جرم سرز ہؤا ہے، اس پر اسے زیادہ دے زیادہ چھ ماہ کی قید ہوسکتی ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں ہوسکتا ہے عدالت آئیندہ چھ ماہ تک اس معاملہ کی سماعت ہی نہ کرے اور ایف آئی اے ججوں کی خوشنودی کے لئے قانونی عذر کے مطابق ’بے گناہ ‘ شخص کو بلاوجہ ہراساں کرتی رہے۔
اس معاملہ میں ججوں کے طرز عمل کے کئی پہلو قابل غور ہیں۔ ان پر عدالت عظمیٰ کے معزز ججوں کو سنجدیدگی سے توجہ دینی چاہئے۔ یہ غور و خوض عدالتوں کے وقار اور ملک میں نظام انصاف کے استحکام و اعتبار کے لئے نہایت ضروری ہوگا۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں کئی ہزار مقدمات ججوں کے پاس مناسب وقت نہ ہونے کی وجہ سے زیر سماعت رہتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ ایک ایسے سادہ معاملہ میں معاملہ کو طول دینے پر مصر ہے جسے جمعہ ہی کی سماعت میں طے کیا جاسکتا تھا۔ جیسا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کی تھی کہ ملزم نے اعتراف کرلیا ہے۔ معاملہ کی نوعیت بھی واضح ہے اور قانون بھی صاف ہے۔ اس لئے معاملہ فوری طور سے نمٹا دیا جائے۔ لیکن اس سے انکار کردیا گیا۔ یہ طریقہ عدالت پر غیر ضروری معاملات کے بوجھ میں اضافہ کا سبب بنے گا۔
دوسرے عدالتیں عام طور سے کسی شخص کے توہین آمیز کلمات کو نظر انداز کرتی ہیں یا عدالتی کارروائی کت دوران معافی مانگنے پر معاملہ رفع دفع کردیا جاتا ہے۔ یوں بھی معاف کردینا اعلیٰ صفت شمار ہوتی ہے اور جب کوئی عدالت توہین کے مرتکب ہونے والے شخص کو معاف کرتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ عدالت قانون شکنی کی اجازت دے رہی ہے یا لوگوں کو ججوں کے بارے میں یاوہ گوئی کی دعوت دی جارہی ہے۔ بلکہ جج وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو اخلاقی لحاظ سے عام سائل کی سطح سے بلند ثابت کرتے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عدالت ایک غیر ذمہ دارانہ بیان پر معافی مانگ لینے کے بعد مزید کارروائی کرنے پر اصرار نہیں کرنا چاہتی۔ اس طرح یہ واضح کیا جاتا ہے کہ معزز جج نہ تو منتقم مزاج ہیں اور نہ ہی کسی ایسے شخص کی سطح پر اترنا چاہتے ہیں جو غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر پھر فوری طور سے غیر مشروط معافی کا خواستگار ہورہا ہے۔ اس طرح یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ جب بیان دینے والا ہی غلطی کا اعتراف کرکے شرمندگی کا اظہار رکررہا ہے تو عدالتی نظام پر غیر ضروری مصارف نہ ڈالے جائیں اور متعلقہ ادارے ایک طے شدہ معاملہ میں معاشی اور انتظامی طور سے زیر بار نہ ہوں۔ اس طرح حسن سلوک کی ایک عمدہ مثال قائم کرکے معاشرہ کو بہتر رویہ اختیار کرنے کا پیغام دیا جاتا ہے۔ معزز ججوں کو غور کرنا چاہئے کہ سخت گیری کی بجائے کیا ایسا معتدل و متوازن رویہ معاشرہ میں اصلاح کا بہتر ماحول پیدا نہ کرتا؟
عام لوگ اسی وقت عدالتوں کے بارے میں سخت کلامی پر مجبور ہوتے ہیں جب کسی ملک کا عدالتی نظام پوری طرح فعال نہ ہو اور عوام کو انصاف ملنے میں شدید دشواریوں و مشکلات کا سامنا ہو۔ ایسی صورت میں توہین عدالت میں لوگوں کو ہراساں کرنے اور سزائیں دینے سے معاملات درست نہیں ہوسکتے بلکہ ججوں کو انفرادی اور اجتماعی طور سے ملکی عدالتی نظام میں اصلاح کے لئے زیادہ فعال طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے بارے میں جو شکایات عام ہیں ان میں ماضی میں اعلیٰ عدلیہ کا عدم توازن اور سیاسی معاملات میں غیر آئینی طرز عمل بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کی حالیہ تاریخ میں دو چیف جسٹسز افتخار چوہدری اور ثاقب نثار نے عدالتی فعالیت کے ذریعے نہ صرف قانون و انصاف کو مذاق بنایا بلکہ متعدد ایسے فیصلے دیے جس سے عدالتوں کے وقار پر حرف آیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک حالیہ ٹوئٹ میں اس جوڈیشل ایکٹوزم کا حالیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہؤا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ٹک ٹاک پر پابندی اور نیشنل بنک کے صدر کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلوں کے تناظر میں دیا تھا لیکن کسی عدالت نے اسے ابھی تک ’توہین‘ شمار نہیں کیا۔ حالانکہ اگر عدالتیں واقعی ایک غریب ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچانے کا موجب بنی ہیں تو انہیں خود احتسابی کا نیا اور مؤثر نظام متعارف کروانا چاہئے۔ اور اگر یہ الزام بے بنیاد ہے تو اسے اس لئے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ الزام لگانے والا وفاقی وزیر ہے یا بااختیار سیاست دان ہے۔ فواد چوہدری نے مارچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے دوران جسٹس عیسیٰ کے بارے میں یہ ٹوئٹ کیا تھا: ’ ایک ہفتے سے سپریم کورٹ کے ایک انڈر ٹرائل جج کی تقریریں سن رہے ہیں۔ اگر جواب دیا تو توہین ہوگئی کے بھاشن آجائیں گے۔ محترم اگر اپ کو بھی اپنے گاڈ فادر افتخار چوہدری کی طرح سیاست کاشوق ہے تو مستعفیٰ ہو کر کونسلر کا الیکشن لڑ لیں۔ مقبولیت اور قبولیت دونوں کا اندازہ ہو جائے گا‘۔ اس بیان پر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع کی گئی تھی لیکن اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دی اور نہ ہی فاضل ججوں کے تند و تیز ریمارکس سامنے آئے ہیں۔
ایک کم وسیلہ عام شہری کے خلاف سخت گیر عدالتی رویہ سے ملک میں انصاف کا دوہرا معیار قائم کرنے کا تاثر عام ہوگا۔ یہ تاثر کسی دلیل یا حکم سے زائل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے ججوں کو ریمارکس اور فیصلوں میں مجموعی صورت حال کو پیش نظر رکھنا پڑے گا۔