لاہور بم دھماکے کا ماسٹرمائنڈ بھارتی شہری اور را کا ایجنٹ ہے: معید یوسف

  • اتوار 04 / جولائی / 2021
  • 5900

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے لاہور میں گزشتہ ماہ ہونے والے دھماکے کے تانے بانے پاکستان میں بھارت کی جانب سےہونے والی دہشت گردی سے جڑتے ہیں اور ماسٹر مائنڈ کا تعلق بھارت اور را سے ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور آئی جی پنجاب انعام غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ آئی جی پنجاب نے اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سے بات کی تھی تو بتایا تھا کہ ہمارے پاس اطلاع اور ثبوت ہیں کہ کوئی غیرملکی خفیہ ایجنسی بھی ملوث ہے۔ آج میں کسی ابہام کے بغیر وثوق سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سارے حملے کے تانے بانے بھارت کی پاکستان کے خلاف اسپانسر شپ دہشت گردی سے جڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے فون اور دیگر جو آلات ملے ہیں اس کا فرانزک تجزیہ ہوا ہے، مرکزی ماسٹر مائنڈ اور معاونین کا تعلق بھی بھارت سے ہے۔ ماسٹر مائنڈ کا تعلق ہمیں بالکل واضح طور پر معلوم ہے، وہ بھارت کا شہری ہے، بھارت میں رہتا ہے اور را سے اس کا بالکل واضح طور پر تعلق ہے۔

یاد رہے کہ 24 جون کو لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 3 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار سمیت 3 افراد کے جاں بحق اور 21 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ پولیس نے ابتدائی رپورٹ میں بتایا تھا کہ دھماکے میں 15 سے 20 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا اور دھماکے میں غیرملکی ساختہ مواد استعمال ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دھماکے میں بال بیرنگ، کیل اور دیگر بارودی مواد استعمال ہوا اور دھماکا خیز مواد کار میں نصب تھا اور دھماکا کنٹرول ڈیوائس سے کار میں کیا گیا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ دھماکے کی جگہ 3 فٹ گہرا اور 8 فٹ چوڑا گڑھا پڑا اور دھماکے سے 100 مربع فٹ سے دور تک علاقہ متاثر ہوا۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے حملے کے ماسٹر مائنڈ کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ان کے جعلی نام، ان کی اصل شناخت اور وہ کہاں موجود ہیں، ان تمام چیزوں کی نشان دہی ہوچکی ہے۔ بھارت کی یہ کارروائیاں پہلی دفعہ نہیں ہیں، ہم بار بار یہ بات کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس دن یہ حملہ ہوا ہے، اس دن ہمارے تفتشی ڈھانچے پر ہزاروں منظم سائبر حملے ہوچکے ہیں، ہم جس ہائبرڈ وار فیئر کی بات کرتے ہیں جو دنیا ہمارے خلاف کر رہی ہے، یہ اس کی ایک مثال ہے۔ اس دن سائبر حملے کیے گئے تاکہ ہم جو تفتیش کررہے ہیں اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کی نشان دہی کر رہے ہیں، وہ فعال نہ ہوسکیں۔ اس میں دارڈیں آئیں اور وقت اتنا مل جائے کہ یہ نیٹ ورک ادھر ادھر ہوجائے اور اس جگہ سے نکل جائے۔

معید یوسف نے کہا کہ انہوں نے کوشش کی لیکن ان کو وقت نہیں ملا کیونکہ ہم سائبر سیکیورٹی پر بھی کام کرکے اتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے یہ کامیابی ہمیں حاصل ہوئی۔ ہمیں کسی قسم کی کوئی شک نہیں ہے کہ جوہر ٹاون کا دھماکا اور یہ سائبر حملے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک ہی سوچ اور منصوبے کا حصہ ہیں۔ کیونکہ وہ اس تعداد میں کیے گئے، جس سے کسی قسم کا شک نہیں رہ جاتا کہ اس میں ہماری ہمسایہ ریاست کی عمل د خل موجود ہے۔